بین الاقوامی خبریں

400 سے زائد بینک اور مالیاتی ادارے سائبر حملوں کا نشانہ، اے آئی کے غلط استعمال کا انکشاف

اے آئی کا غلط استعمال بینکنگ سیکیورٹی کے لیے نیا خطرہ بن رہا ہے۔

لندن :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال جہاں کاروباری سرگرمیوں اور ڈیجیٹل خدمات کو آسان بنا رہا ہے، وہیں سائبر جرائم میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال نے مالیاتی اداروں کی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔ ایک نئی سائبر سیکیورٹی رپورٹ کے مطابق، لاطینی امریکہ کے 400 سے زائد بینکوں اور مالیاتی اداروں کو نشانہ بنانے کے لیے اے آئی ایجنٹس پر مشتمل ایک نظام استعمال کیا گیا۔ اس انکشاف نے بینکنگ نظام پر ممکنہ سائبر حملوں کی وسعت اور ان سے نمٹنے کی تیاریوں پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، مبینہ سائبر سرگرمیوں میں مختلف اے آئی ماڈلز کو الگ الگ کام سونپے گئے تھے۔ ان میں اینتھروپک کا کلاڈ (Claude)، ایکس اے آئی کا گروک (Grok) اور چینی کمپنی مون شاٹ اے آئی کا کیمی (Kimi) شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان ماڈلز کو معلومات جمع کرنے، ممکنہ اہداف کا تجزیہ کرنے اور سائبر حملوں کی منصوبہ بندی میں معاونت کے لیے استعمال کیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اے آئی ماڈلز کی حفاظتی پابندیوں کو نظرانداز کرنے کی کوششیں کی گئیں تاکہ ان سے ایسے کام لیے جا سکیں جنہیں وہ عام حالات میں انجام دینے سے انکار کر سکتے ہیں۔

سائبر سیکیورٹی کمپنی سٹریٹکر (Stratker) کی رپورٹ میں سائبر کارٹل (CyberCartel) نامی مبینہ سائبر جرائم پیشہ گروپ اور CARLIY0S نامی نظام کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اس نظام کو مختلف اے آئی ماڈلز کے درمیان رابطہ اور کام کی تقسیم کے ذریعے سائبر حملوں کے متعدد مراحل میں مدد فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ اس میں ممکنہ اہداف کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنا، ان کے ڈیجیٹل نظام میں کمزوریاں تلاش کرنا اور حملے کی حکمت عملی مرتب کرنا شامل تھا۔ اس نوعیت کے نظام سے سائبر جرائم پیشہ عناصر کو نسبتاً کم انسانی مداخلت کے ساتھ متعدد اداروں کو نشانہ بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، سٹریٹکر نے اپنے نتائج متعلقہ اے آئی کمپنیوں کے ساتھ شیئر کیے، جس کے بعد اینتھروپک نے تحقیقات کرتے ہوئے کلاڈ کے مبینہ مجرمانہ استعمال کو روکنے کے لیے کارروائی کی۔ یہ معاملہ اس سوال کو بھی اہم بناتا ہے کہ اے آئی پلیٹ فارمز کو سائبر جرائم کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کے درمیان تعاون کس طرح مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، بینکوں کو مشتبہ سرگرمیوں کی نگرانی، سیکیورٹی نظام کی باقاعدہ جانچ اور سائبر حملوں کا فوری جواب دینے کی صلاحیت بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مبینہ طور پر استعمال ہونے والے نظام میں حساس مالیاتی معلومات اور لاگ اِن اسناد سے متعلق ریکارڈ بھی موجود تھے۔ ان میں پاس ورڈز، اکاؤنٹس سے متعلق تفصیلات اور اے پی آئی کیز جیسی معلومات شامل تھیں، جو ڈیجیٹل نظام تک رسائی کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔ اگر اس قسم کا ڈیٹا غیر مجاز افراد کے ہاتھ لگ جائے تو اداروں کے اندرونی نظام، صارفین کی نجی معلومات اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سلامتی متاثر ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button