بین ریاستی خبریں

مہاراشٹر میں ایس آئی آر کے تحت 3 کروڑ ووٹروں کے نام حذف، سپریم کورٹ کا الیکشن کمیشن کو نوٹس

ووٹر لسٹ سے نام حذف ہونے کے معاملے پر سپریم کورٹ میں سماعت 5 نومبر کو ہوگی۔

نئی دہلی، 26 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)مہاراشٹر میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران بڑے پیمانے پر نام حذف کیے جانے کے معاملے پر سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عرضی گزار نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست کی ڈرافٹ ووٹر لسٹ سے تقریباً 3 کروڑ نام حذف کیے گئے ہیں۔ عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت 5 نومبر کو مقرر کی ہے، جبکہ حتمی ووٹر لسٹ 6 نومبر کو شائع ہونے والی ہے۔

چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ کے سامنے عرضی گزار کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل اروند پی داتار نے کہا کہ مہاراشٹر میں تقریباً 9 کروڑ ووٹر ہیں، جن میں سے قریب 33 فیصد کے نام ڈرافٹ فہرست جاری ہونے کے بعد حذف کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بڑی تعداد میں ووٹروں کو منطقی تضادات سے متعلق نوٹس بھیجے گئے ہیں اور نام شامل کرانے کے لیے درخواست دینے کی مقررہ آخری تاریخ بھی قریب ہے۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جن لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے گئے ہیں، الیکشن کمیشن ان سے دوبارہ اندراج کے لیے فارم 6 بھرنے کو کہہ رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ فارم بنیادی طور پر پہلی بار ووٹر بننے والے افراد کے اندراج کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس لیے پہلے سے ووٹ ڈالنے والے شہریوں کو دوبارہ یہی فارم بھرنے کے لیے کہنا قابلِ اعتراض ہے۔

سماعت کے دوران ممبئی اور پونے میں جاری تعمیر نو کے منصوبوں کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ اروند داتار نے بتایا کہ دونوں شہروں میں تقریباً 3,500 ری ڈیولپمنٹ منصوبوں کے تحت پرانی رہائشی عمارتوں اور کالونیوں کو منہدم کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں خاندانوں کو دوسری جگہ منتقل ہونا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رہائش اور پتے تبدیل ہونے کے باعث متعلقہ دستاویزات یا نئی معلومات فراہم کرنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں، جس سے ان شہریوں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف ہونے کا خدشہ ہے۔

عرضی گزار نے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ معاملے کی سماعت مکمل ہونے تک ووٹر لسٹ کو حتمی شکل دینے کے عمل پر روک لگائی جائے۔ ان کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ حتمی فہرست کی اشاعت میں کم وقت باقی ہے، اس لیے عدالت کو 6 نومبر سے پہلے معاملے پر غور کرنا چاہیے۔

عدالت نے فوری طور پر درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ بڑھانے کا حکم نہیں دیا، تاہم یقین دلایا کہ معاملے کی جلد سماعت کی جائے گی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ اگر عدالت کو محسوس ہوا کہ کچھ ووٹر اپنے دستاویزات مقررہ وقت تک جمع نہیں کرا سکے ہیں تو انہیں مزید مہلت دینے کے لیے مناسب ہدایات جاری کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایس آئی آر سے متعلق دیگر معاملات میں عدالت پہلے بھی تاریخوں میں توسیع کر چکی ہے۔

اب اس معاملے کی سماعت 5 نومبر کو ہوگی، جو حتمی ووٹر لسٹ کی مقررہ اشاعت سے ایک دن پہلے ہے۔ عدالت میں الیکشن کمیشن کا جواب اور ووٹروں کے نام حذف کیے جانے سے متعلق اعتراضات اہم ہوں گے۔ فی الحال 3 کروڑ نام حذف ہونے کا عدد عرضی گزار کی جانب سے پیش کیا گیا دعویٰ ہے؛ اس کی آزادانہ تصدیق اور الیکشن کمیشن کا تفصیلی جواب سامنے آنا باقی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button