
بنگلورو: بلنکٹ سے دہی منگوانا خاتون کو پڑا مہنگا، فرضی کسٹمر کیئر کے چکر میں 98 ہزار روپے گنوا بیٹھی
ریفنڈ کے لیے آن لائن تلاش پڑی مہنگی، خاتون کے کھاتے سے 98 ہزار روپے غائب۔
بنگلورو، 26 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) آن لائن گروسری ڈیلیوری ایپ بلنکٹ (Blinkit) سے دہی کا پیکٹ منگوانے کے بعد ریفنڈ حاصل کرنے کی کوشش ایک 56 سالہ خاتون کو مہنگی پڑ گئی۔ خراب پیکٹ کی شکایت کے لیے انٹرنیٹ پر کسٹمر کیئر کا نمبر تلاش کرنا خاتون کے لیے سائبر فراڈ کا سبب بن گیا، جس کے نتیجے میں ان کے بینک اکاؤنٹ سے 98 ہزار روپے نکال لیے گئے۔
پولیس میں درج شکایت کے مطابق، ساؤنڈریا (تبدیل شدہ نام) نامی خاتون وسنت نگر کے پیلس کراس روڈ پر واقع ایک اپارٹمنٹ میں رہتی ہیں۔ انہوں نے 17 اکتوبر کو بلنکٹ کے ذریعے دہی کا ایک پیکٹ آرڈر کیا تھا۔ ڈیلیوری کے وقت پیکٹ خراب حالت میں ملا تو انہوں نے ڈیلیوری ایجنٹ سے شکایت کی۔ ایجنٹ نے انہیں رقم کی واپسی کے لیے کسٹمر کیئر سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا۔
خاتون نے انٹرنیٹ پر کسٹمر کیئر کا نمبر تلاش کیا اور وہاں دستیاب ایک نمبر پر فون کیا۔ دوسری جانب موجود شخص نے خود کو کسٹمر کیئر کا نمائندہ ظاہر کرتے ہوئے رقم واپس دلانے کی یقین دہانی کرائی اور انہیں کچھ مراحل مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ اس کے بعد ملزم نے واٹس ایپ پر ایک لنک بھیجا اور خراب دہی کے پیکٹ کی تصویر اپ لوڈ کرنے کو کہا۔
شکایت کے مطابق، تصویر بھیجنے کے بعد ایک اور شخص نے خاتون کو فون کیا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ ریفنڈ کی کارروائی جاری ہے اور خاتون سے اپنے ڈیجیٹل ادائیگی کے اکاؤنٹ میں رقم چیک کرنے کو کہا۔ خاتون نے اکاؤنٹ کھولا اور بیلنس دیکھنے کے لیے اپنا پاس ورڈ درج کیا تو اچانک ایپ اسکرین سے غائب ہوگئی۔
کچھ ہی دیر بعد خاتون کو معلوم ہوا کہ ان کے بینک اکاؤنٹ سے 98 ہزار روپے نکال لیے گئے ہیں۔ دھوکہ دہی کا احساس ہونے پر انہوں نے پولیس سے رجوع کرتے ہوئے کارروائی کی درخواست کی۔
پولیس نے شکایت کی بنیاد پر سینٹرل سائبر کرائم پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرلیا ہے اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ ابتدائی شکایت کے مطابق، جعل سازوں نے فرضی کسٹمر کیئر نمائندوں کے طور پر رابطہ کرکے ریفنڈ کے بہانے خاتون کو اپنے جال میں پھنسایا۔
آن لائن آرڈر میں خرابی یا رقم کی واپسی سے متعلق شکایت کے لیے متعلقہ کمپنی کی آفیشل ایپ یا ویب سائٹ استعمال کریں۔ سرچ انجن پر ملنے والے غیر مصدقہ کسٹمر کیئر نمبروں پر بھروسہ نہ کریں اور نامعلوم واٹس ایپ لنکس پر بینکنگ معلومات یا پاس ورڈ درج کرنے سے گریز کریں۔



