سرورققومی خبریں

45 پیسے میں 10 لاکھ روپے کا انشورنس، ریلوے ریزرویشن کاؤنٹر سے ٹکٹ لینے والوں کو بھی ملے گی سہولت

مسافروں کو 45 پیسے میں 10 لاکھ روپے تک کی انشورنس کی سہولت

نئی دہلی، 26 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) ملک میں ریلوے سے سفر کرنے والے مسافروں کے لیے سفری انشورنس کی سہولت میں توسیع کی جا رہی ہے۔ اب ریزرویشن کاؤنٹر سے کنفرم یا ریزرو ٹکٹ خریدنے والے مسافر بھی محض 45 پیسے فی مسافر ادا کرکے ٹرین حادثے کی صورت میں 10 لاکھ روپے تک کا اختیاری انشورنس حاصل کرسکیں گے۔ اس سے پہلے یہ سہولت صرف آن لائن ریزرو ٹکٹ خریدنے والوں کے لیے دستیاب تھی۔

ریلوے بورڈ کی ہدایات کے مطابق یہ سہولت 27 اکتوبر سے نافذ کی جائے گی۔ انشورنس کا پریمیم ٹیکس سمیت صرف 45 پیسے ہوگا، جبکہ ٹرین حادثے میں مسافر کی موت یا مستقل طور پر مکمل معذوری کی صورت میں 10 لاکھ روپے تک کی رقم فراہم کرنے کی گنجائش ہے۔

انشورنس اسکیم کے تحت مستقل جزوی معذوری کی صورت میں 7.5 لاکھ روپے تک معاوضہ دیا جاسکتا ہے۔ حادثے میں زخمی ہونے کے بعد اسپتال میں داخلے کے اخراجات کے لیے 2 لاکھ روپے تک کی رقم مقرر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے مسافر کی باقیات کی منتقلی کے لیے 10 ہزار روپے تک فراہم کیے جاسکتے ہیں۔

ریلوے بورڈ نے اپنے تمام زونز کو اس سہولت پر عمل درآمد کی ہدایت دی ہے۔ ریزرویشن کاؤنٹر پر تعینات عملہ مسافروں کو اختیاری انشورنس کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا اور ان کی مرضی کے مطابق انشورنس لینے کے عمل میں مدد کرے گا۔ انشورنس حاصل کرنے والے مسافروں کو پریمیم کی ادائیگی ٹکٹ کے کرائے کے ساتھ ڈیجیٹل ذرائع سے کرنا ہوگی۔

انشورنس کے لیے مسافر کا موبائل نمبر درج کرنا لازمی ہوگا۔ ریلوے عملے کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ موبائل نمبر سمیت دیگر ضروری تفصیلات درست طریقے سے درج کرے تاکہ انشورنس کمپنی کو معلومات بھیجی جاسکیں اور پالیسی جاری کرنے کا عمل مکمل ہوسکے۔ انشورنس منتخب کرنے والے مسافروں کو پالیسی کی تفصیلات ان کے رجسٹرڈ موبائل نمبر پر بھیجی جائیں گی۔

اس انشورنس میں مخصوص ریلوے حادثات اور ناخوشگوار واقعات کو شامل کیا گیا ہے۔ ان میں ٹرینوں کا آپس میں ٹکرانا، پٹری سے اترنا، پُرتشدد حملے، لوٹ مار، آتش زنی اور ٹرین سے حادثاتی طور پر گرنے جیسے واقعات شامل ہیں۔ بعض حالات میں ٹرین کا راستہ تبدیل ہونے یا سفر مختصر کیے جانے پر ریلوے کی جانب سے متبادل انتظامات کے تحت سفر کرنے والے مسافروں کو بھی انشورنس کا تحفظ حاصل ہوسکتا ہے۔

تاہم، اس اسکیم کا اطلاق عام یا جنرل کلاس میں سفر کرنے والے مسافروں پر نہیں ہوگا۔ اسی طرح پانچ سال سے کم عمر کے ان بچوں کو بھی اس انشورنس میں شامل نہیں کیا گیا ہے جن کے لیے بغیر برتھ یا سیٹ کے ٹکٹ جاری کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب پانچ سے گیارہ سال کی عمر کے وہ بچے جن کی ریزرویشن برتھ کے ساتھ یا برتھ کے بغیر کرائی گئی ہو، انشورنس کے اہل ہوں گے۔

ریلوے کی اس سہولت کا مقصد ریزرویشن کاؤنٹر سے ٹکٹ خریدنے والے مسافروں کو بھی کم لاگت میں حادثاتی انشورنس کا اختیار فراہم کرنا ہے۔ تاہم، انشورنس اختیاری ہوگا اور مسافر اپنی مرضی سے اس سہولت کو منتخب کرسکیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button