
مہنگائی عوام کی آمدنی نگل رہی ہے، مودی حکومت زندگی کا حق بھی چھیننا چاہتی ہے: ملکارجن کھڑگے
نئی دہلی، 28 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ملک میں بڑھتی مہنگائی کو لے کر مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عوام کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کرنے کی کوششوں کے بعد اب حکومت لوگوں کے جینے کے حق کو بھی متاثر کرنا چاہتی ہے۔ کھڑگے کے مطابق تہواروں کے موسم میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ عام خاندانوں کی آمدنی پر بھاری پڑ رہا ہے۔
ملکارجن کھڑگے نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ بڑھتی مہنگائی عوام کی کمائی کا ایک ایک پیسہ نگل رہی ہے۔ انہوں نے حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے مہنگائی سے متعلق مختلف اعداد و شمار بھی پیش کیے اور دعویٰ کیا کہ گھریلو اخراجات میں اضافے نے عام لوگوں کی مالی مشکلات بڑھا دی ہیں۔
کانگریس صدر کی جانب سے شیئر کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق غذائی مہنگائی کی شرح 2.13 فیصد سے بڑھ کر 7.74 فیصد ہوگئی، جبکہ گھریلو قرضوں میں 36.7 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔ ان کے مطابق گھریلو مالی بچت میں 4 فیصد کمی آئی، خوردہ مہنگائی کی شرح 5.54 فیصد اور تھوک مہنگائی کی شرح 11.39 فیصد رہی۔ یہ اعداد و شمار کھڑگے کے بیان میں پیش کیے گئے دعووں پر مبنی ہیں۔
کھڑگے نے مئی 2014 سے اکتوبر 2026 کے دوران روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں تبدیلی سے متعلق ایک جدول بھی شیئر کیا۔ اس کے مطابق پیاز کی خوردہ قیمت 23 روپے فی کلو سے بڑھ کر 53.32 روپے فی کلو ہوگئی، جو 131.83 فیصد اضافہ ہے۔ اسی طرح ٹماٹر کی قیمت 17.50 روپے فی کلو سے بڑھ کر 39.62 روپے فی کلو تک پہنچ گئی، جس میں 126.40 فیصد اضافے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
سرسوں کے تیل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافے کی نشاندہی کی گئی۔ کھڑگے کے شیئر کردہ اعداد و شمار کے مطابق مئی 2014 میں سرسوں کا تیل 102 روپے فی لیٹر دستیاب تھا، جبکہ اکتوبر 2026 میں اس کی قیمت 207.80 روپے فی لیٹر ہوگئی۔ اس طرح اس کی قیمت میں 103.73 فیصد اضافے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو اس کے سابقہ مہنگائی مخالف انتخابی نعروں کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ اگر وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی قیادت کو اپنے سیاسی بیانات سے فرصت ملے تو انہیں 2014 سے پہلے کی اپنی انتخابی مہم کے نعروں پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عوام گزشتہ 12 برس سے بہتر دنوں کے وعدے کے انتظار میں ہیں، لیکن مہنگائی نے ان کی مشکلات کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دی ہیں۔
کھڑگے کا یہ بیان اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بی جے پی حکومت اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے خلاف جاری مہم کے درمیان سامنے آیا ہے۔ اپوزیشن کی تنقید کا ایک اہم موضوع انتخابی فہرستوں پر خصوصی نظرثانی یعنی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) بھی ہے، جس پر اپوزیشن جماعتیں اپنے اعتراضات پیش کر رہی ہیں۔
دوسری جانب کانگریس کی قیادت والے انڈیا اتحاد نے یکم نومبر کو نئی دہلی کے رام لیلا میدان میں ’دہلی چلو‘ مارچ منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس مارچ کے ذریعے الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ اٹھانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔



