
اعظم خان کی مشکلات برقرار، ای ڈی کی گرفتاری کے خلاف سپریم کورٹ پہنچ گئے، اسی ہفتے سماعت کا امکان
ای ڈی کی گرفتاری کے خلاف اعظم خان کی سپریم کورٹ میں قانونی جنگ
نئی دہلی، 2 نومبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما اعظم خان کو منی لانڈرنگ کے نئے معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد اب سپریم کورٹ سے قانونی راحت کی امید ہے۔ انہوں نے اپنی گرفتاری کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کرتے ہوئے درخواست دائر کی ہے۔ پیر کو چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے درخواست کی سماعت پر رضامندی ظاہر کی اور اشارہ دیا کہ معاملہ رواں ہفتے سماعت کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جویمالیہ باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ کے سامنے اعظم خان کے وکیل نظام پاشا نے فوری سماعت کی درخواست کی۔ وکیل نے عدالت سے اپیل کی کہ گرفتاری کو چیلنج کرنے والی درخواست پر جلد غور کیا جائے۔ تاہم بنچ نے فوری سماعت کی اجازت نہیں دی، البتہ چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے کو اسی ہفتے سماعت کے لیے درج کیے جانے کا امکان ہے۔
اس سے قبل اتوار کو اعظم خان کو غازی آباد کی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں عدالت نے انہیں 14 دن کے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔ یہ کارروائی محمد علی جوہر ٹرسٹ سے متعلق منی لانڈرنگ کیس کے سلسلے میں ہوئی۔ عدالت میں پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ اعظم خان کو پولیس کی نگرانی میں عدالت لایا گیا، جبکہ ان کے حامیوں کی بڑی تعداد بھی وہاں موجود تھی۔
78 سالہ اعظم خان گزشتہ کئی برسوں سے مختلف قانونی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ای ڈی نے انہیں 31 اکتوبر کو منی لانڈرنگ کے ایک نئے معاملے میں گرفتار کیا تھا۔ یہ گرفتاری اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم خان کو مبینہ ڈبل پین کارڈ کیس میں ضمانت ملنے کے بعد رام پور جیل سے رہائی کے فوراً بعد عمل میں آئی۔
ای ڈی نے اعظم خان اور دیگر افراد کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات اتر پردیش پولیس کی جانب سے درج 58 ایف آئی آر کی بنیاد پر شروع کی تھیں۔ ایجنسی ان مقدمات میں درج الزامات کی بنیاد پر منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (PMLA) کے تحت تحقیقات کر رہی ہے۔ ای ڈی کا الزام ہے کہ اعظم خان اور ان کے مبینہ ساتھی مختلف معاملات میں مالی بے ضابطگیوں میں ملوث رہے ہیں۔
اسی تحقیقات کے دوران 28 اکتوبر کو ای ڈی نے رام پور میں واقع محمد علی جوہر یونیورسٹی کی زمین اور عمارتوں کو منسلک کرنے کی کارروائی کی تھی۔ یہ یونیورسٹی اعظم خان سے منسلک بتائی جاتی ہے۔ ایجنسی کے مطابق ضبط شدہ جائیدادوں کی موجودہ مارکیٹ ویلیو تقریباً 1,170 کروڑ روپے ہے۔ یہ کارروائی جوہر ٹرسٹ اور یونیورسٹی سے متعلق مالی لین دین کی تحقیقات کا حصہ ہے۔
ای ڈی کا دعویٰ ہے کہ سرکاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز کا مبینہ طور پر غلط استعمال کیا گیا اور انہیں نجی یونیورسٹی کی تعمیر کے لیے منتقل کیا گیا۔ ایجنسی کے مطابق اعظم خان نے ریاستی وزیر برائے شہری ترقیات اور اتر پردیش جل نگم میں اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے مبینہ بے ضابطگیوں کو ممکن بنایا۔ تاہم یہ تمام الزامات تحقیقاتی ایجنسی کے مؤقف پر مبنی ہیں اور ان کی قانونی حیثیت کا فیصلہ عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔
دوسری جانب محمد علی جوہر یونیورسٹی کے خلاف انتظامی سطح پر بھی کارروائیاں ہو چکی ہیں۔ رواں سال جولائی میں رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے یونیورسٹی کیمپس میں موجود 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کا حکم دیا تھا۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔ اس کے علاوہ ای ڈی نے اگست میں بھی اس معاملے کے سلسلے میں چھاپے مارے تھے اور اعظم خان سے پوچھ گچھ کی تھی۔
اب اعظم خان نے اپنی گرفتاری کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ عدالت کی جانب سے درخواست کو رواں ہفتے سماعت کے لیے درج کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس سماعت میں ان کی گرفتاری سے متعلق قانونی اعتراضات پر غور کیا جا سکتا ہے۔



