
‘خاموش ہو جائیں، ورنہ ایک گھنٹے تک تقریر کروں گا’، ملکارجن کھڑگے کا رام لیلا میدان میں مجمع کو انتباہ
نئی دہلی، 2 نومبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے اتوار کو دہلی کے رام لیلا میدان میں منعقدہ ریلی کے دوران شور مچانے والے پارٹی کارکنوں اور حامیوں کو اپنے مخصوص انداز میں خاموش رہنے کی تاکید کی۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر مجمع خاموش رہا تو وہ اپنی تقریر پانچ منٹ میں ختم کردیں گے، لیکن اگر شور شرابہ جاری رہا تو انہیں ایک گھنٹے تک خطاب کرنا پڑے گا۔
کھڑگے جب تقریر کے لیے اسٹیج پر پہنچے تو انہوں نے تقریباً 30 سیکنڈ تک خاموشی اختیار کیے رکھی۔ اس دوران ریلی میں موجود افراد نعرے بازی کررہے تھے اور موسیقی کے آلات بھی بجائے جارہے تھے۔ مجمع کے شور پر ناراضی ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے ہندی میں کہا، ’’دیکھو، آپ اگر خاموش بیٹھیں گے تو میں پانچ منٹ میں اپنی تقریر ختم کردوں گا۔ اگر خاموش نہیں بیٹھیں گے تو ایک گھنٹے تک تقریر کروں گا۔‘‘ ان کے اس جملے پر ریلی میں موجود لوگوں کی توجہ ان کی جانب ہوگئی۔
رام لیلا میدان میں منعقدہ اس ریلی کا اہم موضوع چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج اور ان کے استعفے کا مطالبہ تھا۔ ریلی کے دوران زیادہ تر نعرے چیف الیکشن کمشنر کو نشانہ بناتے ہوئے لگائے گئے۔ تاہم مجمع میں موجود ایک چھوٹے گروپ نے ’’مودی کا باپ بھی جائے گا‘‘ کا نعرہ لگایا، جو گزشتہ ہفتے پٹنہ میں کھڑگے کے متنازع بیان کی یاد دلاتا ہے۔
پٹنہ میں دیے گئے اسی بیان کے جواب میں بی جے پی نے ’’مودی کہیں نہیں جائے گا‘‘ کا جوابی نعرہ بھی پیش کیا تھا۔ اتوار کو رام لیلا میدان میں خطاب کرتے ہوئے کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی کے حوالے سے ایک بار پھر سخت سیاسی موقف اختیار کیا، تاہم اس مرتبہ انہوں نے متنازع جملے کا استعمال نہیں کیا۔ انہوں نے کہا، ’’مودی جائے گا، تبھی جمہوریت بچے گی۔‘‘
گزشتہ دنوں پٹنہ میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران ملکارجن کھڑگے اس وقت مشتعل ہوگئے تھے جب مجمع میں موجود ایک شخص نے مبینہ طور پر ’’مودی کہیں نہیں جائے گا‘‘ کا نعرہ لگایا۔ اس پر کھڑگے نے جواب دیتے ہوئے کہا تھا، ’’مودی کا باپ بھی جائے گا۔‘‘ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے یہ جملہ کئی مرتبہ دہرایا تھا، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں تنازع پیدا ہوگیا۔
اس واقعے میں نعرہ لگانے والے شخص کی شناخت سنتوش کمار کے طور پر ہوئی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اس کی بات پوری طرح نہیں سنی گئی تھی۔ اس کے مطابق وہ کہنا چاہتا تھا کہ جب تک عوام بغاوت نہیں کریں گے، مودی نہیں جائیں گے۔ تاہم تقریب میں موجود دیگر افراد نے اسے پکڑ کر مبینہ طور پر مارا پیٹا اور ہال سے باہر نکال دیا۔
کھڑگے کے بیان پر بی جے پی نے سخت اعتراض کرتے ہوئے ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔ پارٹی نے اس معاملے پر ملک گیر احتجاج کا اعلان بھی کیا تھا۔ دوسری جانب کانگریس نے اپنے صدر کا دفاع کیا۔ کانگریس ترجمان سریندر راجپوت نے کہا تھا کہ کھڑگے نے محاورے کے طور پر یہ بات کہی تھی اور وزیر اعظم نریندر مودی ماضی میں اس سے زیادہ سخت تبصرے کرچکے ہیں۔
📱 اردو دنیا نیوز ایپ ڈاؤن لوڈ کریں
ملک و بیرونِ ملک کی تازہ ترین خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہماری آفیشل ایپ ابھی ڈاؤن لوڈ کریں۔
👉 Download Urdu Duniya News App



