
سپریم کورٹ کا اننت سنگھ کو یکم دسمبر تک خودسپردگی کا حکم
دلارچند یادو قتل معاملے کی تحقیقات کے لیے بہار پولیس کو چار ماہ کی مہلت
نئی دہلی، 30 اکتوبر (اردودنیانیوز/ایجنسیز) بہار کے موکاما اسمبلی حلقے سے رکن اسمبلی اننت سنگھ کو دلارچند یادو قتل معاملے میں سپریم کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے پٹنہ ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی ان کی ضمانت پر روک لگاتے ہوئے یکم دسمبر تک یا اس سے پہلے خودسپردگی کرنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس پرسانا بی ورالے پر مشتمل بنچ نے بہار پولیس کو اس قتل معاملے کی تحقیقات مکمل کرنے کے لیے چار ماہ کی مہلت بھی دی ہے۔
سپریم کورٹ میں یہ سماعت مقتول دلارچند یادو کے پوتے نیرج کمار کی جانب سے دائر عرضی پر ہوئی۔ عرضی گزار نے پٹنہ ہائی کورٹ کے 19 مارچ کے ضمانت کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ اننت سنگھ کے مجرمانہ سابقہ ریکارڈ کو ضمانت دیتے وقت مناسب طور پر پیش نظر نہیں رکھا گیا۔ عرضی میں ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی تھی، جبکہ بہار حکومت نے بھی اپنے جوابی حلف نامے میں اننت سنگھ کے خلاف لگائے گئے الزامات کو درست قرار دیتے ہوئے ضمانت کی مخالفت کی تھی۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ قتل جیسے سنگین معاملے کو محض سیاسی تنازعہ قرار دے کر نہیں دیکھا جا سکتا۔ عدالت نے اننت سنگھ کو مقررہ مدت میں خودسپردگی کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ مقدمے کی سماعت کے دوران گواہوں کے بیانات بھی قلم بند کیے جائیں گے۔ اننت سنگھ کی جانب سے بیٹی کی شادی کا حوالہ دیتے ہوئے فوری خودسپردگی سے مہلت دینے کی درخواست کی گئی تھی، تاہم عدالت نے یکم دسمبر تک خودسپردگی کرنے کا حکم برقرار رکھا۔
اس معاملے میں سپریم کورٹ نے 13 جولائی کو عرضی پر نوٹس جاری کیا تھا۔ اس وقت عرضی گزار کے وکیل نے دعویٰ کیا تھا کہ اننت سنگھ نے اپنے خلاف درج 67 مجرمانہ معاملات کی مکمل تفصیلات ظاہر نہیں کی ہیں۔ وکیل شلپی چودھری نے عدالت میں دلیل دی تھی کہ ضمانت کی درخواست پر فیصلہ کرتے وقت ملزم کے مجرمانہ سابقہ ریکارڈ کو بھی اہمیت دی جانی چاہیے۔ 29 ستمبر کو ہونے والی سماعت کے دوران اننت سنگھ کے وکیل نے جوابی حلف نامہ داخل کرنے کے لیے مزید وقت مانگا تھا، جس کے بعد عدالت نے سماعت 30 اکتوبر تک ملتوی کر دی تھی اور واضح کیا تھا کہ مزید مہلت نہیں دی جائے گی۔
یہ معاملہ 30 اکتوبر 2025 کو بہار اسمبلی انتخابات کی انتخابی مہم کے دوران موکاما کے گھوسواری پولیس اسٹیشن کے تحت باساون چک گاؤں میں دلارچند یادو کے قتل سے متعلق ہے۔ دلارچند یادو جن سوراج پارٹی کے حامی اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سابق رہنما تھے۔ اس وقت اننت سنگھ جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے ٹکٹ پر موکاما سے انتخاب لڑ رہے تھے۔ انتخابی مہم کے دوران اننت سنگھ کے قافلے اور دلارچند یادو کے درمیان آمنا سامنا ہوا تھا، جس کے بعد دونوں جانب کے کارکنوں کے درمیان تصادم کی اطلاع سامنے آئی تھی۔
پولیس کی تحقیقات کے مطابق ایک ایس یو وی گاڑی نے مبینہ طور پر دلارچند یادو کو ٹکر ماری تھی، جس کے نتیجے میں ان کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ تاہم مقتول کے اہل خانہ کا الزام تھا کہ انہیں پہلے گولی ماری گئی اور اس کے بعد گاڑی سے کچلا گیا۔ ابتدائی طور پر گولی لگنے سے موت کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا، لیکن بعد میں پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ گاڑی کی ٹکر یا ممکنہ طور پر دل کا دورہ قرار دیے جانے کی تفصیلات سامنے آئیں۔ اس معاملے میں موت کی اصل وجہ اور واقعے کے حالات کی جانچ پولیس کے دائرہ کار میں ہے۔
پولیس نے اننت سنگھ کو اس معاملے کا اہم ملزم قرار دیتے ہوئے یکم نومبر 2025 کی رات گرفتار کیا تھا۔ ان کے دو بھتیجوں کو بھی اس کیس کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا۔ اننت سنگھ کو 2 نومبر کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا تھا۔ اس سے قبل ان کی ضمانت کی درخواستیں ایم پی-ایم ایل اے عدالت سے مسترد ہو چکی تھیں، تاہم بعد میں پٹنہ ہائی کورٹ نے 19 مارچ 2026 کو انہیں ضمانت دے دی تھی۔ جیل میں رہتے ہوئے بھی اننت سنگھ نے موکاما اسمبلی حلقے سے انتخاب لڑا اور کامیابی حاصل کی تھی۔
بہار حکومت نے سپریم کورٹ میں داخل اپنے حلف نامے میں بتایا تھا کہ ایس ڈی پی او اور ایس پی کی سطح پر نگرانی کے بعد جنوری 2026 میں اننت سنگھ، منی کانت ٹھاکر اور رنجیت رام کے خلاف چارج شیٹ داخل کی جا چکی ہے۔ حکومت کے مطابق اننت سنگھ کے خلاف قتل، قتل کی کوشش، اغوا، جبراً وصولی اور آرمس ایکٹ سمیت مجموعی طور پر 62 مجرمانہ مقدمات درج ہیں۔ یہ تعداد عرضی گزار کی جانب سے پیش کیے گئے 67 سابقہ مجرمانہ معاملات کے دعوے سے الگ ہے۔
دوسری جانب جنتا دل یونائیٹڈ نے مبینہ پارٹی مخالف سرگرمیوں کے الزام میں اننت سنگھ اور ان کی اہلیہ و سابق رکن اسمبلی نیلم دیوی کو چھ سال کے لیے پارٹی سے نکال دیا ہے۔ پارٹی کے مطابق اننت سنگھ نے پٹنہ گریجویٹس حلقے کے انتخاب میں جے ڈی یو امیدوار نیرج کمار کی مخالفت کی اور جن سوراج سے وابستہ امیدوار انوج سنگھ کی حمایت میں انتخابی مہم چلائی تھی۔ جے ڈی یو نے اس معاملے میں بہار اسمبلی کے اسپیکر کو بھی خط لکھ کر آئین کے دسویں شیڈول کے تحت اننت سنگھ کی اسمبلی رکنیت کے خلاف کارروائی کرنے کی درخواست کی ہے۔ دسویں شیڈول میں پارٹی بدلنے اور انحراف کی بنیاد پر ارکان کی نااہلی سے متعلق دفعات شامل ہیں۔
سپریم کورٹ کے تازہ حکم کے بعد اننت سنگھ کو یکم دسمبر تک خودسپردگی کرنا ہوگی، جبکہ بہار پولیس کو چار ماہ کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس مقدمے میں اب پولیس کی تفتیش اور آئندہ عدالتی کارروائی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔



