بین الاقوامی خبریں

ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ کی تیاری؟ امریکہ نے اسرائیل کے فوجی اڈوں پر بھیجے 10 ملٹری طیارے

ایران کے ساتھ ممکنہ کشیدگی کے پیش نظر امریکہ اور اسرائیل کی فوجی تیاریاں تیز۔

واشنگٹن، 30 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں امریکہ نے اسرائیل کے جنوبی علاقے میں واقع فوجی اڈوں پر 10 فوجی کارگو طیارے بھیجے ہیں۔ اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کان (KAN) کی رپورٹ کے مطابق یہ طیارے ممکنہ فوجی کارروائی اور خطے میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں کے تحت اسرائیل پہنچے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی طیارے اسرائیل کے عودہ (Ovda) اور نیواتیم (Nevatim) فضائی اڈوں پر اترے۔ اس کے علاوہ امریکی فوج کے بعض دیگر طیارے اردن، سعودی عرب اور قطر بھی روانہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جس سے خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں اضافے کا اشارہ ملتا ہے۔

KAN کے مطابق اسرائیل پہنچنے والے طیاروں نے امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں واقع فورٹ بلس (Fort Bliss) سے پرواز کی تھی۔ یہ امریکی فوج کا ایک اہم فوجی مرکز ہے، جہاں فضائی دفاعی نظام، انٹرسیپٹر میزائلوں اور دیگر دفاعی سازوسامان کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ اسرائیلی نشریاتی ادارے کا خیال ہے کہ ان طیاروں کے ذریعے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری سامان منتقل کیا جا سکتا ہے، تاہم طیاروں میں موجود سامان اور ان کی اقسام کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

امریکی حکومت نے تاحال اسرائیل کو ان فوجی طیاروں کی منتقلی کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔ اسی طرح ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی کا فیصلہ بھی سرکاری طور پر سامنے نہیں آیا ہے۔

اسرائیلی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے ایک اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان فوجی تیاریوں کے سلسلے میں قریبی رابطہ برقرار ہے۔ ان کے مطابق ابھی کسی کارروائی کا حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم دونوں ممالک امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے کسی بھی ممکنہ فیصلے سے نمٹنے کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں۔

KAN کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی دستے اپنے ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کے ذخائر دوبارہ بھر رہے ہیں۔ دوسری جانب بعض امریکی فوجیوں کو خطے سے روانہ ہونے کی ہدایات دیے جانے کی اطلاعات بھی ہیں، تاہم ان اقدامات کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

اس سے قبل بدھ 28 اکتوبر کو امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ واشنگٹن نے خلیجی ممالک سے ایران کے خلاف ممکنہ مختصر لیکن شدید فوجی مہم کے لیے تیار رہنے کو کہا ہے۔ اخبار کے مطابق یہ کارروائی امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے بعد کی جا سکتی ہے۔

یہ صورتحال 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ ان حملوں کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خطے میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد اپریل میں جنگ بندی طے پائی تھی۔

جون میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کے معاملے پر مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط ہوئے تھے۔ تاہم اس اہم بحری گزرگاہ میں سکیورٹی انتظامات سے متعلق اختلافات کے باعث اس پر عمل درآمد رک گیا ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ اس علاقے میں کسی بھی فوجی کشیدگی کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button