
ممبئی، 2 نومبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)بالی ووڈ اداکار عمران خان کو ممبئی ہائی کورٹ سے بڑی قانونی راحت مل گئی ہے۔ عدالت نے غیر مشروط معافی پیش کرنے پر آمادگی ظاہر کرنے کے بعد انہیں فی الحال بھارت میں قیام جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔ اداکار کے خلاف جاری کیا گیا لیو انڈیا نوٹس بھی اگلی سماعت تک معطل رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ معاملے کی آئندہ سماعت 7 دسمبر کو ہوگی۔
امریکی شہریت رکھنے والے عمران خان کے پاس اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (او سی آئی) کارڈ بھی ہے۔ وہ فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس (ایف آر آر او) کی جانب سے جاری کردہ لیو انڈیا نوٹس کو ممبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کر رہے ہیں۔ پیر کو سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ او سی آئی کارڈ رکھنے والے افراد کو ہندوستانی شہریوں جیسے حقوق حاصل نہیں ہوتے اور ان کا قیام ملک کے قوانین اور حکومت کی شرائط کے تابع ہوتا ہے۔
عدالت نے اداکار سے یہ بھی کہا کہ وہ تحریری یقین دہانی پیش کریں کہ آئندہ کسی احتجاج یا سیاسی تحریک میں حصہ نہیں لیں گے۔ عمران خان کی جانب سے غیر مشروط معافی پیش کرنے پر آمادگی کے بعد عدالت نے انہیں عبوری راحت فراہم کی اور ایف آر آر او کے نوٹس کو فی الحال مؤخر کردیا۔
یہ تنازع 10 اکتوبر کو ممبئی کے آگسٹ کرانتی میدان کے قریب ہونے والے ایک احتجاج کے بعد شروع ہوا تھا۔ نوجوانوں کی جانب سے منعقدہ اس مظاہرے میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ مظاہرین نے انتخابی فہرستوں کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کیا تھا۔
اس دوران ممبئی پولیس نے عمران خان کو بھی حراست میں لیا تھا۔ بی جے پی رہنما کریٹ سومیا نے بعد ازاں پولیس میں شکایت درج کراتے ہوئے الزام لگایا کہ امریکی شہری ہونے کے باوجود اداکار نے سیاسی احتجاج میں شرکت کرکے امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔
پولیس شکایت اور ایف آئی آر کی بنیاد پر ایف آر آر او نے 14 اکتوبر کو عمران خان کو لیو انڈیا نوٹس جاری کیا تھا۔ اس نوٹس میں انہیں 28 اکتوبر تک ملک چھوڑنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ یہ کارروائی امیگریشن اینڈ فارنرز ایکٹ 2025 کے تحت کی گئی تھی۔
عمران خان نے 17 اکتوبر کو ممبئی ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے اس نوٹس کو من مانی، غیر آئینی اور غیر متناسب قرار دیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ انہوں نے نہ تو احتجاج کا اہتمام کیا اور نہ ہی اس میں حصہ لیا، بلکہ وہ محض احتجاجی مقام کے قریب موجود تھے اور پولیس کے کہنے پر وہاں سے چلے گئے تھے۔
اپنی درخواست میں اداکار نے کہا کہ محض احتجاج میں شرکت کے الزام کی بنیاد پر انہیں ملک چھوڑنے کی ہدایت نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ تقریباً 40 برس سے ہندوستان میں مقیم ہیں اور ان کے پاس او سی آئی کارڈ ہے، جس کے تحت انہیں تاحیات ویزا کی سہولت حاصل ہے۔ عمران خان نے مزید کہا کہ ایف آر آر او نے ان کی وضاحت سنے بغیر ہی ملک چھوڑنے کا نوٹس جاری کردیا، جس کے باعث انہیں اپنا موقف پیش کرنے اور اپنا دفاع کرنے کا مناسب موقع نہیں ملا۔
دوسری جانب ایف آر آر او نے ایک الگ شوکاز نوٹس بھی جاری کیا تھا، جس میں پوچھا گیا تھا کہ ان کی او سی آئی رجسٹریشن کیوں منسوخ نہ کی جائے۔ یہ نوٹس شہریت قانون 1955 کی دفعہ 7D(e) کے تحت جاری کیا گیا تھا۔ اس قانون کے تحت مخصوص حالات میں قومی سلامتی، خودمختاری اور عوامی مفاد سمیت مختلف بنیادوں پر او سی آئی رجسٹریشن منسوخ کی جاسکتی ہے۔
ممبئی ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی موجودہ راحت عبوری نوعیت کی ہے۔ اداکار کے معاملے پر حتمی فیصلہ آئندہ عدالتی کارروائی کے دوران سامنے آئے گا۔



