ماسکو،7مارچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ یوکرین میں ان کی مہم منصوبے کے مطابق چل رہی ہے اور یہ اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک کیف لڑائی بند نہیں کرتا جبکہ شدید بمباری والے شہر ماریوپول کو خالی کرانے کی کوششیں مسلسل دوسرے روز بھی ناکام رہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق روسی صدر نے یہ بات ترک ہم منصب رجب طیب اردوان کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کی۔ ترک صدر نے اس تنازع میں جنگ بندی کی اپیل کی جس سے متعلق اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس جنگ سے دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں مہاجرین کا سب سے تیز ترین بحران پیدا ہوا ہے۔
روسی میڈیا نے کہا کہ ولادیمیر پیوٹن نے فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے ساتھ بھی تقریباً دو گھنٹے گفتگو کی، جو ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے ہیں، لیکن دیگر عالمی کوششوں کی طرح وہ بھی ابھی تک روس کو 11 روز سے جاری جنگ ختم کرنے پر آمادہ نہیں کر سکے۔
ماریوپول میں حکام کا کہنا تھا کہ یوکرین کے ساحلی شہر نے گزشتہ کئی روز سے گولہ باری کا سامنا کیا جس نے لوگوں کو سرد موسم میں ہیٹنگ سسٹم، بجلی اور پانی کے بغیر گھر میں پھنسا رکھا ہے، ان 4 لاکھ رہائشیوں میں سے کچھ کو نکالنے کی دوسری کوشش کریں گے۔
کریملن کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ولادیمیر پیوٹن نے رجب طیب اردوان کو بتایا کہ وہ یوکرین اور غیر ملکی شراکت داروں کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، لیکن مذاکرات سے متعلق کی گئی کوئی بھی منفی کوشش ناکام رہے گی۔
ماریوپول سے مکینوں کو نکالنے کی کوششیں مسلسل دوسرے دن بھی ناکام رہیں جبکہ یو این ایچ سی آر کو خدشہ ہے کہ جولائی تک مہاجرین کی تعداد 40 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ترکی کا بات چیت سے متعلق بیان میں کہنا تھا کہ رجب طیب اردوان نے انسانی بحران کے خدشات کو کم کرنے کے لیے جنگ بندی پر زور دیا ہے۔
یوکرین نے روس کی معیشت کو نقصان پہنچانے والی موجودہ کوششوں سے ہٹ کر پابندیوں کو مزید سخت کرنے کے لیے مغرب سے اپنی اپیل کی تجدید کی جبکہ اس نے مزید ہتھیاروں کی فراہمی کی بھی درخواست کی تاکہ اسے روسی افواج کو پسپا کرنے میں مدد ملے۔
ماسکو نے 24 فروری کو شروع کی گئی مہم کو ‘خصوصی فوجی آپریشن’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا یوکرین پر قبضہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، یوکرین جو کبھی ماسکو کے زیر تسلط سوویت یونین کا حصہ تھا لیکن اب اس نے نیٹو اور یورپی یونین کی رکنیت کے لیے مغربی ممالک کی جانب رخ کرلیا ہے۔
کیف کے شمال میں ایک سڑک پر روس کے ایک بہت بڑے قافلے نے حالیہ دنوں میں محدود دکھائی دینے والی پیش رفت کی ہے جبکہ روس کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری فوٹیج میں کچھ ٹریک شدہ فوجی گاڑیوں کو دکھایا گیا ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روسی راکٹوں نے وسطی مغربی علاقے کے دارالحکومت وینیتسیا کے شہری ہوائی اڈے کو تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس ایک اور جنوبی شہر اوڈیسا پر بمباری کرنے کی تیاری کر رہا ہے، اوڈیسا کے خلاف راکٹ یہ جنگی جرم ہوگا۔



