غزہ،14مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) فلسطینی صحافی شیریں ابو عاقلہ کو رواں ہفتے گیارہ مئی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ جمعہ 13 مئی کو ان کے جنازے کے جلوس پر اسرائیلی پولیس نے حملہ کر کے اسے درہم برہم کر دیا۔ عالمی برادری نے اس کارروائی کی مذمت کی ہے۔جمعہ تیرہ مئی کو یروشلم کا قدیمی علاقہ الجزیرہ نیوز ٹیلی ویژن چینل سے منسلک سینئر فلسطینی صحافی شیریں ابو عاقلہ کی نماز جنازہ میں شریک ہزاروں فلسطینیوں سے بھرا ہوا تھا۔ نماز جنازہ میں شریک افراد کو اسرائیلی پولیس کی اچانک کارروائی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
اس کارروائی کے دوران مقتول صحافی کا تابوت بھی گر گیا، جسے انتہائی افسوس ناک بات قرار دیا گیا۔ مقامی ریڈ کراس کمیٹی کے مطابق پولیس کے دھاوے سے کم از کم تینتیس افراد زخمی ہوئے۔ اسرائیلی پولیس نے چھ فلسطینیوں کو گرفتار کرنے کا بھی بتایا ہے۔شیریں ابو عاقلہ کی الوداعی میموریئل سروس فلسطینی صدر محمود عباس کی رہائش گاہ واقع راملہ میں ادا کی گئی اور سرکاری سطح پر آخری رسومات کی ادائیگی کے بعد ہی ان کے تابوت کو یروشلم منتقل کیا گیا۔خاتون صحافی کو فلسطینی علاقے جینین میں اسرائیلی پولیس کے چھاپے کی کوریج کے دوران گولی لگی اور وہ ہلاک ہو گئیں۔ انہیں جب گولی لگی، اس وقت وہ صحافیوں کو تنازعات کے علاقے میں پہنے جانے والی نیلی جیکٹ، جس پر پریس لکھا ہوتا ہے، میں ملبوس تھیں۔الجزیرہ اور فلسطینی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ خاتون صحافی کو موت اسرائیلی پولیس کی گولی لگنے سے ہوئی جب کہ اسرائیلی موقف ہے کہ انہیں کسی فلسطینی نے امکانی طور پر ہلاک کیا ہے۔
شیریں ابو عاقلہ تین جنوری سن 1971 میں یروشلم میں فلسطینی عرب مسیحی خاندان میں پیدا ہوئی تھیں۔ وہ امریکی شہریت بھی رکھتی تھیں۔ انہوں نے اردن یونیورسٹی برائے سائنس اور ٹیکنالوجی میں آرکیٹیکٹ کی تعلیم حاصل کی تھی۔ الجزیرہ کے ساتھ انہوں نے کام سن 1997 میں شروع کیا اور مرتے دم تک اسی ادارے کے ساتھ منسلک رہیں۔ وہ مشرقی یروشلم کی رہائشی تھیں۔اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ جنازے کے شرکا کو کئی مرتبہ متنبہ کیا گیا کہ وہ جلوس میں قوم پرستانہ گیت گانے سے اجتناب کریں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ایسے گیت پہلے سے مشتعل افراد کے جذبات بھڑکانے کا سبب بنتے ہیں اور یہی مشتعل مظاہرین مسلسل جنازے کے جلوس کو درہم برہم کرنے کی کوشش میں تھے۔پولیس کے مطابق جنازے میں شریک مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کرنے کے علاوہ شیشے کی بوتلیں بھی پھینکی تھیں اور اس باعث کارروائی کی گئی۔مشہور فلسطینی رہنما حنان اشروی کے بقول تابوت برداروں پر بھی اسرائیلی پولیس کی کارروائی اسرائیل کے غیر انسانی رویے کی عکاس ہے۔



