سرورققومی خبریں

پب جی کا جنون: ’والدہ کو قتل کرنے کا کوئی افسوس نہیں، قاتل بیٹے کا تفصیلی بیان

لکھنؤ ، 9 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یوپی کی راجدھانی لکھنؤ میں 16 سالہ لڑکے نے اپنی ہی والدہ کو قتل کرنے کے معاملہ نے سب کے ہوش اڑا دیئے ہیں۔ جس نے بھی اس واقعہ کے بارے میں سنا ،وہ حیران رہ گیا۔ لوگوں کو یقین نہیں رہا کہ اس 16 سالہ لڑکے نے اپنی ماں کو گولی مار دی ،لیکن یہ سچ ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ماں لڑکے کو ہر وقت ’پب جی‘ گیم کھیلنے سے منع کرتی تھی۔ ناراض لڑکے نے نہ صرف اپنی والدہ کو گولی مار قتل کر دیا ،بلکہ پکڑے جانے تک اس طرح پیش آتا رہا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔

لڑکے نے والد کے لائسنس یافتہ پستول سے اپنی والدہ کو گولی ماری تھی۔ اپنی والدہ کو گولی مارنے کے بعد وہ 3 دن تک بہت آرام سے اور بغیر کسی فکر کے جشن مناتا رہا۔ اس دوران اس نے اپنی بہن کو دھمکیاں بھی دیں۔ دوستوں کے ساتھ کرکٹ بھی کھیلا اور اسی گھر میں ان کے ساتھ پارٹی کی جہاں والدہ کی لاش پڑی تھی۔لاش کی بدبو چھپانے کے لیے وہ روم فریشنر چھڑکتا رہا۔ راز کھلنے پر پولیس نے ملزم کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی۔نجی ٹی وی کے سوالات اور قاتل لڑکے جوابات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے اپنی والدہ کے قتل پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔پولیس اور لڑکے کے درمیان سوال و جواب میں ہوشربا انکشاف:

سوال: تم نے ایسا کیوں کیا؟

لڑکے نے جواب نہیں دیا تو پولیس نے سوال پھر دوہرایا ،جواب: ماں بہت روک ٹوک کرتی تھی۔ گیم کھیلنے کی اجازت نہیں دیتی تھی ۔

سوال: آپ نے گولی کیسے چلائی؟

جواب: رات کو سوتے وقت۔ جب ماں سو گئی تو باپ کو پستول سے گولی مار دی۔

سوال: ڈر نہیں لگا کہ پولیس پکڑ لے گی؟

اس سوال کے جواب میں لڑکے نے کوئی جواب نہیں دیا ۔

سوال: تم نے اپنی بہن کو کیا بتایا؟

جواب: تم خاموش رہو، اس سے کہا کہ اگر اس نے کسی کو ماں کے بارے میں بتایا تو اسے بھی مار دوں گا۔

سوال: تم نے فون پر کون سا گیم کھیلا؟

جواب: آن لائن گیمز، پب جی، فائٹر، انسٹاگرام پر ر ہتا تھا، اچھا لگتا تھا، ماں روکتی تھی، اس لئے غصہ آتا تھا۔

سوال: اگر والد روکتے اور پٹائی کرتے ، تو کیا انہیں بھی گولی مار دیتے؟

جواب: وہ تب دیکھا جاتا، اب کیا بتاؤں؟

سوال: تم جیل چلے جاؤ گے، کیا تم نے نہیں سوچا؟

جواب: نہیں، میں اتنا نہیں سوچتا۔

سوال: اپنی بہن کے لیے کھانا کہاں سے لائے؟

جواب:اسکوٹی سے باہر جا کر کھانا لاتا تھا، جو چاہتی تھی وہ کھانا کھلاتا تھا۔

سوال: کیا تم نے اس دوران گھر میں بھی کھانا بنایا؟

جواب: ہاں، جو بہن کو اچھا لگتا تھا وہ بناتا تھا۔ سوال: اب ماں نہیں ہیں، کیا تمہیں کوئی افسوس ہے؟ جواب: نہیں، کوئی افسوس نہیں ہے۔

سوال: گھر پر فون آتا تھا تو کیا بتاتے تھے؟

جواب: میرے پاس میری والدہ کا فون تھا، میں اپنے فون سے کہتا تھا کہ والدہ دیدی سے ملنے گئی ہیں، جب آئیں تو میں ان سے بات کروا دوں گا۔

سوال: تم نے اپنے والد کا فون کیوں نہیں اٹھایا؟

جواب: جب بہت کالز :ئیں تو اٹھایا تھا اور بتا دیا تھا۔

سوال:کیا موبائل میں پورن ویڈیوبھی دیکھتے تھے، ماں اس سے بھی روکتی تھی؟

جواب: میرے دوست دیکھتے تھے، انہیں کوئی نہیں روکتا۔

سوال: کہانی کیوں بنائی؟

جواب: میں نے سوچا کہ کسی کو معلوم نہیں ہوگا۔ یہ لڑکے سے کئے گئے کچھ سوالوں کے جواب ہیں۔ ادھر باپ نے ملزم بیٹے کو معاف کرنے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیوی چلی گئی، اب اکلوتا بیٹا نہیں جانا چاہیے، تاہم والد کی اس درخواست پر پولیس نے قانونی کارروائی کا حوالہ دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button