
مغربی بنگال: ترنمول کانگریس فنڈز کیس میں ای ڈی کے چھاپے، 440 کروڑ روپے والے بینک اکاؤنٹس کی منی لانڈرنگ جانچ شروع
ترنمول کانگریس فنڈز کیس میں ای ڈی کی کارروائی، مغربی بنگال میں 440 کروڑ روپے والے بینک اکاؤنٹس کی تحقیقات
کولکاتا:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے منگل کے روز ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے فنڈز سے متعلق مبینہ منی لانڈرنگ معاملے میں مغربی بنگال کے مختلف مقامات پر بیک وقت چھاپہ مار کارروائیاں کیں۔ یہ کارروائی ان تین بینک اکاؤنٹس سے متعلق ہے جن پر گزشتہ ماہ مغربی بنگال پولیس کی ہدایت پر ڈیبٹ پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ ان اکاؤنٹس میں تقریباً 440 کروڑ روپے موجود ہیں۔
ذرائع کے مطابق ای ڈی کی متعدد ٹیمیں مرکزی مسلح پولیس فورس (CAPF) کے اہلکاروں کے ساتھ مختلف مقامات پر تلاشی مہم میں شامل ہوئیں۔ ان میں ایک ایوی ایشن کمپنی کا دفتر بھی شامل تھا، جس پر الزام ہے کہ اس نے انتخابی مہم اور دیگر سرکاری دوروں کے دوران ترنمول کانگریس کی رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور پارٹی کے قومی جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی کو چارٹرڈ پروازوں کی سہولت فراہم کی تھی۔
اطلاعات کے مطابق ان بینک اکاؤنٹس پر پابندی دو الگ الگ شکایات سامنے آنے کے بعد عائد کی گئی تھی۔۔ پہلے مرحلے میں پارٹی کے سابق خزانچی اور سابق وزیر اروپ بسواس نے بینک کو خط لکھ کر خدشہ ظاہر کیا تھا کہ فنڈز کا غلط استعمال ہوسکتا ہے، جس کے بعد اکاؤنٹس منجمد کرنے کی درخواست کی گئی۔
بعد ازاں ترنمول کانگریس کے باغی دھڑے کے اراکین اسمبلی، جن کی قیادت پارٹی سے نکالے گئے ریتابراتا بنرجی کر رہے ہیں، نے بھی مغربی بنگال پولیس سے رجوع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان اکاؤنٹس میں بدعنوانی اور بھتہ خوری سے حاصل ہونے والی رقم موجود ہوسکتی ہے۔
ان شکایات کے بعد مغربی بنگال پولیس نے متعلقہ بینک کو اکاؤنٹس پر ڈیبٹ پابندیاں عائد کرنے کی ہدایت دی۔ دوسری جانب ممتا بنرجی اور ابھیشیک بنرجی کی قیادت والے دھڑے نے اس فیصلے کو کلکتہ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، تاہم عدالت نے فوری راحت دینے سے انکار کرتے ہوئے پابندیاں برقرار رکھیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ای ڈی نے اب ان الزامات کا نوٹس لیتے ہوئے منی لانڈرنگ قانون کے تحت اپنی الگ تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ان اکاؤنٹس میں موجود رقم بدعنوانی یا بھتہ خوری کی آمدنی سے منسلک ہے یا نہیں۔ تاہم اب تک کسی بھی الزام کی عدالتی طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔



