بین الاقوامی خبریںسرورق

آخر کار برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن عہدہ سے استعفیٰ دے دیا

لندن ، 7جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) برطانیہ میں طویل جدوجہد کے بعد بالآخر بورس جانسن نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ عہدے سے مستعفی ہوتے ہوئے بورس جانسن نے کہا کہ جب تک اس عہدے پر کسی دوسرے لیڈر کا انتخاب نہیں ہو جاتا ،اس وقت تک وہ برطانیہ کے وزیر اعظم بنے رہیں گے۔ٹین ڈا ؤننگ اسٹریٹ کے باہر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے 58 سالہ بحران زدہ برطانوی لیڈر نے کہا کہ اب پارلیمانی کنزرویٹوی پارٹی کی خواہش واضح ہے کہ پارٹی کا ایک نیا لیڈر ہونا چاہئے، لہٰذا وزیر اعظم بھی نیا ہونا چاہئے۔جانسن نے اپنے 1079 دنوں کے اقدار میں کئی مرتبہ تنازعات کا سامنا کیا ہے۔

خیال رہے کہ برطانوی حکومت میں نئے تعینات ہونے والے وزرا نے بھی ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا اور 50 سے زائد ارکان نے ان کی کابینہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان میں سے 8 وزرا اور ریاست کے دو سیکرٹریوں نے گزشتہ 2 گھنٹے میں استعفیٰ دے دیا۔ اس سے جانسن انتہائی الگ تھلگ ہو گئے اور میڈیا رپورٹس کے مطابق جانسن کو اب باغی رہنماؤں کے مطالبات کے سامنے جھکنا پڑا اور بعد میں اعلان کیا کہ وہ مستعفی ہو رہے ہیں۔ کنزرویٹو پارٹی نے اکثریت سے جیت حاصل کی تھی، لہٰذا اسی پارٹی کے سربراہ برطانوی وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button