سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

نشاستہ سے بھرپور مکئی اور مکئی کے بال✍️ محمد شاہد

مکئی نشاستہ دار سبزی اور اناج ہے۔ صدیوں سے اسے دنیا بھر میں کھایا جا رہا ہے۔ یہ ریشے، حیاتین اور معدنیات کا بھرپور ذریعہ ہے۔مکئی کی جائے پیدائش میکسیکو اور عمر 9000 برس ہے۔ مقامی امریکی اسے اگاتے تھے اور یہ خوراک کا بنیادی ذریعہ تھی۔ عام طور پر مکئی زرد رنگ کی ہوتی ہے لیکن یہ سفید، سرخ، جامنی اور نیلے رنگ میں بھی پائی جاتی ہے۔اسے مختلف طریقوں سے پکایا جاتا ہے اور مختلف طرح کے کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے جانوروں کی خوراک بھی بنایا جاتا ہے۔ دورِ جدید میں اس سے ایندھن بھی تیار کیا جاتا ہے۔دراصل مکئی کی کل امریکی پیداوار کا 40 فیصد ایندھن بنانے کے کام آتا ہے، جبکہ دنیا میں مجموعی طور پر 60 سے 70 فیصد مکئی جانوروں کی خوراک بنتی ہے۔

غذائیت سے بھرپور مکئی میں نشاستہ، ریشہ، حیاتین اور معدنیات بہت مقدار میں ہوتے ہیں۔ میٹھی زرد مکئی کے ایک کپ (164 گرام) میں 177 حرارے، 41 گرام نشاستہ، 5.4 گرام لحمیات، 2.1 گرام چکنائی، 4.6 گرام ریشہ، روزانہ کی ضرورت کا 17 فیصد وٹامن سی، 24 فیصد تھیامین (وٹامن بی 1)، 19 فیصد فولیٹ (وٹامن بی9)، 11 فیصد میگنیشیم اور 10 فیصد پوٹاشیم ہوتا ہے۔مکئی میں شامل نشاستہ خون میں شکر کی مقدار بڑھاتا ہے تاہم اس کا انحصار اس امر پر ہے کہ آپ کتنی مکئی کھاتے ہیں۔ اس کے غذائی اجزا کے پیشِ نظر زیادہ تر لوگ اس کے دانوں کو پورا یا پاپ کارن کی شکل میں کھاتے ہیں۔ یہ گلوٹن کے بغیر قدرتی غذا ہے۔ وہ افراد جن کا جسم گلوٹن قبول نہیں کرتا، وہ اسے کھا سکتے ہیں۔

دوسری جانب پراسسڈ مکئی جو تیل یا سیرپ کی شکل میں ہوتی ہے، کم غذائیت رکھتی ہے۔ ریشہ اور نباتاتی مرکبات مکئی میں اینٹی آکسیڈنٹ اور نباتاتی مرکبات ہوتے ہیں جو صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔مکئی میں لوٹین اور زیاکسن تھین زیادہ مقدار میں ہوتے ہیں۔ یہ دونوں کیروٹینائیڈز ہیں جو آنکھ کے عدسے کے دھندلے پن (cataracts) اور عمر کے ساتھ پٹھوں میں آنے والی کمزوری کو روکتے ہیں۔دراصل ہماری آنکھ کا وہ حصہ جو پٹھوں پر مشتمل ہے، اس میں ان اجزا کی زیادہ مقدار پائی جاتی ہے۔ 365 بالغوں پر ہونے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ جو افراد کیروٹینائیڈز، لوٹین اور زیاکسن تھین کی زیادہ مقدار کھاتے ہیں، ان میں عمر کے ساتھ پٹھوں کی کمزوری کا امکان تھوڑا کھانے والوں کی نسبت 43 فیصد کم ہوتا ہے۔

آنتوں اور انہضام کے مسائل کے لئے مکئی میں پایا جانے والا ریشہ آپ کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ ریشے سے بہت سے امراض کا امکان کم ہو جاتا ہے جن میں دل کی بیماریاں اور چند اقسام کے سرطان شامل ہیں۔مطلوبہ مقدار میں ریشہ نظام انہضام کی صحت کے لیے مفید ہے اور مکئی

نظام انہضام کے متعدد مسائل سے بچا سکتی ہے جن میں ’’ڈائیورٹیکولر‘‘ کا مرض شامل ہے جس کی اہم خصوصیت ہاضمے کے راستے میں سوزش کا ہونا ہے۔بالغ مردوں پر ہونے والی ایک تحقیق سے پتا چلا کہ ہفتے میں دو بار پاپ کارن کھانے والوں میں اس بیماری کا خطرہ قابلِ ذکر حد تک کم ہوجاتا ہے۔ خون میں شکر اور وزن مکئی میں نشاستے کی زیادہ مقدار کے سبب خون میں شکر کی مقدار بڑھتی ہے، اس لیے آبادی کے ایک حصے کے لیے اس کے استعمال کا مشورہ نہیں دیا جاتا۔

ذیابیطس میں مبتلا افراد کو نشاستہ دار غذاوں کا استعمال کم کرنا چاہیے جس میں مکئی بھی شامل ہے۔ وہ افراد جو اپنا وزن کم کرنا چاہتے ہیں، انہیں نشاستہ دار غذائیں کم کھانی چاہئیں۔جینیاتی تبدیلی مکئی کی فصلوں کو جینیاتی تبدیلیوں کی مدد سے بھی تیار کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد پیداوار میں اضافہ اور نقصان دہ کیڑوں اور بیماریوں وغیرہ کے خلاف مزاحمت پیدا کرنا ہوتا ہے۔مکئی کی بہت سی اقسام کو جینیاتی تبدیلی کے ذریعے تخلیق کیا گیا ہے۔ بعض تحقیقات سے معلوم ہوا کہ جینیاتی تبدیلیوں سے حاصل شدہ مکئی کے مضر اثرات بھی ہیں۔

دوسری جانب ایسی تحقیقات بھی موجود ہیں جو اس کی نفی کرتی ہے۔ ان کے مطابق جینیاتی طور پر تبدیل شدہ اور غیر تبدیل شدہ مکئی کے فوائد ایک جیسے ہیں۔ اس سلسلے میں وسیع اور گہری تحقیق کی ضرورت ہے۔طب یونانی میں مکئی کے بال امراض و علاج کیلئے بکثرت مستعمل ہیں۔ قدرت نے ان کے اندر بہت مفید و موثر اجزاء رکھے ہیں مثلاً سوڈیم، پوٹاشیم، نائٹروجنی مادے، ایک قسم کا تیل، میگنیز، سلی کون، کوبالٹ اور کچھ مقدار کیلشیم اور فاسفورس کی پائی جاتی ہے۔ مکئی کے بال گردے کے امراض کیلئے بہت مفید و موثر ہیں۔

اگر گردے میں ریگ یا پتھری ہو تو اس کو پیشاب کے ذریعے نکالنے میں ممدو معاون ہے اس طرح اگر گردے میں زخم یا انفیکشن ہو تو اس کو ختم کرنے کیلئے مفید ہے۔ بعض اوقات گردے کی جسامت میں کمی واقع ہونا شروع ہوجاتی ہے تو مکئی کے بال اس کیلئے مفید ہیں۔ موجودہ دور میں گردے کا سب سے بڑا مرض گردے کی پتھری یا مثانے کی پتھری ہے اس ضمن میں اگر مکئی کے بال ۲۰ گرام اور سرپھوکا(یہ دوائی پنساریوں سے عام مل جاتی ہے) ۱۰ گرام لے کر ۲۵۰ گرام سخت گرم پانی میں رات کو بھگو کر رکھیں۔

صبح ان ادویہ کو سردائی کی طرح رگڑ کر چھان کر کچھ عرصہ صبح و شام پلائیں اگر موسم سرد ہو تو نیم گرم پلائیں اگر موسم گرم ہو تو ٹھنڈا کرکے پلائیں۔ اگر گردے سے چربیلے مادے خارج ہورہے ہوں یا پیشاب میں پیپ خارج ہورہی ہو تو مذکورہ ترکیب بہت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ پتہ کی پتھری میں اگر روغن زیتون کے اندر مکئی کے بال جلائیں اور اس روغن کو استعمال کیا جائے تو بہت مفید ہوتا ہے۔ بعض اوقات مثانہ کے اندر خون جم جاتا ہے یا مثانہ کے اندر پتھری ہوتی ہے یا مثانہ کے اندر کوئی زخم یا انفیکشن ہوتا ہے اور اس صورت میں اگرمکئی کے بال اور سرپھوکا استعمال کریں تو تمام امراض میں افاقہ ہوتا ہے۔ اگر گردے کے اندر پتھری بار بار بن جاتی ہو تو اس کا استعمال اس عمل کو روک دیتا ہے۔ امراض قلب کیلئے اس کے فوائد بہت زود اثر پائے گئے ہیں۔

جب خون کے اندر کولیسٹرول اور لسی تھین کی مقدار بڑھ جائے تو مکئی کے بال اس کی مقدار کو کنٹرول کر تے ہیں اور ان کو معمول کی مقدار پر لاتے ہیں۔ بعض اوقات کسی زہر کے جسم میں داخل ہونے سے جسم کے اندر زہر کے اثرات مرتب ہوتے ہیں یا کسی آدمی کو سانپ نے کاٹا ہو اور کچھ عرصہ بعد جلد پھٹ جائے یا جلد پر سیاہ رنگ کے دھبے پڑ جائیں تو اس صورت میں اس کا استعمال بہت مفید ہے۔ ایک صاحب کو ایڑی میں درد تھا انہوں نے مکئی کے بال گھوٹ کر نوش کئے اور کئی دوسروں نے ابال کر نوش کئے تو ایڑی کا درد ختم ہوگیا۔ اگر اس کے فوائد کو تمام سال کے لیے محفوظ و مامون رکھنا ہو تو مندرجہ ذیل ترکیب سے بناکر محفوظ رکھیں۔ مکئی کے بال ایک کلو، سرپھوکا آدھاکلو دونوں پانی میں خوب ابال کر پھر چھان کر مناسب چینی ملاکر شربت تیار کریں اور استعمال میں لائیں۔

اس جگہ ایک واقعہ عرض کرتا جائوں کہ دیہات کے ایک صاحب کو گردے کا درد ہوا پہلے تو توجہ نہیں کی لیکن جب مرض میں شدت ہوئی تو اس کو بستی کے ڈسپنسر کے پاس لے گئے اس نے پیشاب کی نالی کے اندر سلائیاں مار مار کر بالآخر جواب دے دیا کہ اسے شہر کے ہسپتال لے جائیں۔ جب اسے یہاں لایا گیا تو اس کو پیشاب کے راستے خون شروع ہوگیا۔ ڈاکٹرز نے خون بند کرنے کی بہت کوشش لیکن کوئی افاقہ نہ ہوا اور مریض کی حالت خراب ہوگئی۔

آخر کار اسے گھر لے آئے مریض کو جب کچھ ہوش آیا تواس نے کہا کہ مجھے مکئی کے بال ابال کر پلائو وہ پلائے گئے تو اس کی طبیعت میں کچھ فرق محسوس ہوا۔ اس طرح وقفے وقفے سے اس کو پلایا گیا جس سے خون رک گیا اور مریض کچھ عرصے بعد بالکل ٹھیک ہوگیا۔ الغرض اگر غوروفکر کے ساتھ اس کو مختلف علل و امراض میں استعمال کریں تو بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔ لیکن کسی بھی مرض کے لئے معالج کی رائے لئے بغیر شروع نہ کریں توزیادہ بہتر ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button