شندے دھڑے کا شیوسینا کے اسمبلی دفتر پر دعویٰ
شیوسینا کا نام اور تیر کمان نشان حاصل کرنے کے بعدشندے دھڑے نے اب مہاراشٹر اسمبلی میں شیوسینا کے دفتر پر دعویٰ
ممبئی ، 20فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) شیوسینا کا نام اور تیر کمان نشان حاصل کرنے کے بعدشندے دھڑے نے اب مہاراشٹر اسمبلی میں شیوسینا کے دفتر پر دعویٰ کیا ہے۔ شنڈے دھڑے کے ایم ایل اے نے دفتر سنبھال لیا۔ اس پر ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ہماری پارٹی کا نام اور انتخابی نشان چھین لیا گیا ہے، لیکن ٹھاکرے کا نام کوئی نہیں چھین سکتا۔ الیکشن کمیشن کو تحلیل کیا جائے۔ ادھو نے کہاکہ ہم نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے۔اگر مہاراشٹر میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے نہ روکا گیا تو 2024 کے لوک سبھا انتخابات ملک کے آخری انتخابات ہو سکتے ہیں۔ اس کے بعد یہاں آمریت چلے گی۔ یہاں، سپریم کورٹ نے پیر کو شیو سینا کے نام کا نشان شنڈے دھڑے کو دینے کے خلاف ادھو دھڑے کی عرضی پر فوری سماعت کرنے سے انکار کردیا۔ عدالت نے کل دوبارہ درخواست دائر کرنے کو کہا ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے ممبئی کے شیوسینا بھون میں اپنے ایم ایل ایز کی میٹنگ بلائی۔
جہاں ان کے حامیوں نے شنڈے دھڑے اور الیکشن کمیشن کے خلاف نعرے لگائے۔ ممبئی کے شیوسینا بھون میں ادھو دھڑے کی میٹنگ سے پہلے شندے دھڑے کے لیڈر سدا سرونکر نے کہا کہ ہم کسی جائیداد پر توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ صرف سینا بھون ہی نہیں ہمارے لیے پارٹی کی ہر شاخ ایک ہے۔ٹھاکرے دھڑے نے سپریم کورٹ میں پارٹی آئین کا حوالہ دیا ادھو دھڑے کی درخواست میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے پارٹی کے 1999 کے آئین کو تنازعہ کے حل کی بنیاد بنایا۔ جبکہ 2018 میں پارٹی کے آئین میں ترمیم کی گئی۔ 2018 کے آئین کے تحت شیوسینا کے صدر پارٹی میں سپریم ہوں گے۔ کسی کو پارٹی سے نکالنے، جلسہ کرنے یا کسی کو پارٹی میں شامل کرنے کا حتمی فیصلہ پارٹی صدر کا ہوگا۔ 1999 کے پارٹی آئین کے مطابق پارٹی سربراہ کے پاس ایسی کوئی طاقت نہیں تھی۔
شندے کی شیوسینا، ٹھاکرے دھڑے نے سپریم کورٹ میں کیا چیلنج
نئی دہلی، 20فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے دھڑے کو اصل شیوسینا کے طور پر تسلیم کرنے اور انتخابی نشان ’تیر-کمان‘ الاٹ کرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو سابق وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے دھڑے نے پیر کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس پی ایس نرسمہا اور جے بی پاردی والا کی بنچ کے سامنے عرضی گزار کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل اے ایم سنگھوی نے اس معاملے کو اہم قرار دیتے ہوئے عرضی کی فوری سماعت کی استدعا کی۔
مسٹر سنگھوی نے خصوصی ذکر کے دوران سپریم کورٹ کے سامنے اس معاملے کو اٹھایا۔عدالت عظمیٰ کی تین رکنی بنچ نے مسٹر سنگھوی کی درخواست پرفی الحال سماعت کی تاریخ دینے سے انکار کر دیا، لیکن ان سے منگل کو دوبارہ درخواست کرنے کو کہا۔ الیکشن کمیشن نے 17 فروری 2023 کو ادھو ٹھاکرے گروپ کو ایک بڑا جھٹکا دیتے ہوئے اپنے حتمی حکم میں کہا تھا کہ پارٹی کا نام شیو سینا اور انتخابی نشان تیر-کمان وزیر اعلیٰ شندے گروپ کے پاس رہے گا۔ الیکشن کمیشن نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ اس نے یہ حکم آئین کے آرٹیکل 324 اور نشانی آرڈر 1968 کے تحت اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے پاس کیا ہے۔



