عفت و پاک دامنی
عفت و پاک دامنی یعنی خواہشات نفسانیہ اور جنسی جذبات کا صحیح استعمال اور غلط و بے محل استعمال سے اجتناب
سرفراز احمد مغل
عفت و پاک دامنی یعنی خواہشات نفسانیہ اور جنسی جذبات کا صحیح استعمال اور غلط و بے محل استعمال سے اجتناب،اسلام کا تاکیدی ومبارک حکم، فطرت انسانی کا تقاضا اور شرافت کا اعلیٰ معیار ہے۔عفت و پاک دامنی ،انسانی حسن وجمال اور اعلی سیرت کا تقاضا ہے۔ شرمگاہوںکی حفاظت اور خواہشات پر قابو رکھنے کو مقبول عمل اور اخروی درجات کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ جناب رسول اللہ ؐ، جملہ انبیاء کرام، صحابۂ عظامؓ، اہل بیت اطہارؓ، اولیاء کرام اور شریف انسانوں نے ازل سے ہی اس وصف کو بدرجہائے کمال اپنایا۔ آپ ؐاعلیٰ درجہ کے عفیف اور عفیف خاندان کے فرد تھے، آپؐ کے نسب نامہ میں آپ کے والد محترم سے سیدنا آدم علیہ السلام تک ایک شخص بھی بدکار نہ تھا، یہی وجہ ہے کہ آپؐ کا نسب وحسب بھی محفوظ ہے۔ آپ ؐ کی عفت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کے جانی وایمانی دشمنوں نے بھی آپؐ پر بد چلنی کا کبھی الزام نہیں لگایا، بلکہ ہمیشہ غائبانہ طور پر بھی آپؐ کی صداقت، امانت اور عفت کا اعتراف کیا ،صرف اعتراف ہی نہیں بلکہ عفت کو آپؐ کی دعوت قرار دیا اور اس کا برملا اظہار کیا۔
عفت وپاک دامنی، حسب ونسب کی حفاظت اور رشتہ داریوں کے قیام کا ذریعہ ہے، جس معاشرے میں بے راہ روی اور بدکاری عام ہوجائے، وہاں نہ تو قبائل، برادریاںاور خاندانوں کا تصور رہتا ہے اور نہ ہی رشتہ داریوں کا احترام و لحاظ۔رشتہ داریوں کے قیام کی بدولت معاشرہ میں ایثار، محبت اور خدمت کے اوصاف پیدا ہوتے ہیں۔ اس سے معاشرہ میں امن اور بھائی چارہ کی فضاء قائم ہوتی ہے، جبکہ بدکاری، بے حیائی ،بد امنی، قتل وغارت گری، عزت وعصمت دری، ریپ جیسے جرائم کا مؤجب بنتی ہے۔جب ایک انسان حیا کی حدود سے تجاوز کر کے اسلامی حدود سے باہر نکل جاتا ہے ،پھر انسانی فطری ہمدردی اور محبت کا خاتمہ ہوجاتاہے، نتیجہ میں وہ سب کچھ ہوتا ہے ،جو حال میں ’’ زینب،اسمائ،کائنات ‘‘ جیسی بچیوں کے ساتھ ہوا ،جسے میڈیا نے رپورٹ کیا ہے۔
جناب رسول اللہ ؐنے عفت کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے، سنن کبری کی ایک حدیث قابل غور ہے کہ، جناب رسول اللہؐنے ارشاد فرمایا:’’حیا، پاک دامنی ،زبان کا خاموش رہنا اور علم ایمان کا حصہ ہیں، یہ سب آخرت میں بڑھتی اور دنیا میں کم ہوتی ہیں ۔اور جوچیزیں آخرت میں بڑھتی ہیں زیادہ ہیں ۔آپ ؐکی مبارک دعاؤں میں جن خیروں کو حق تعالیٰ سے طلب کیا گیا ،ان میں پاک دامنی بھی ہے ،آپ کی یہ دعا کثرت سے منقول ہے :’’اے اللہ میں آپ سے ہدایت، تقویٰ اور پاک دامنی اور مالداری کا سوال کرتا ہوں‘‘ (صحیح مسلم،سنن ابن ماجہ، مسند امام احمد)
صحیح مسلم کی ایک روایت میں عفاف کی جگہ’’العفتہ‘‘ کا لفظ بھی مذکور ہے۔ جناب رسول اللہؐ سے عفت کے اخروی منافع کے ساتھ، دنیا وی برکات ومنافع بھی منقول ہیں۔ ذیل میں چند احادیث ذکر کی جارہی ہیں:
مصیبت سے نجات:سیدناعبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہؐ نے ارشادفرمایا:تین شخص سفر پر نکلے ،راستے میں بارش آگئی ،جس کی وجہ سے وہ ایک پہاڑ کی غار میں پناہ گزیں ہوگئے۔ اچانک غارکے دہانے پرایک چٹان آگری، یہ ایک دوسرے سے کہنے لگے، اپنے اپنے نیک اعمال یادکرکے اللہ تعالیٰ سے دعاکرو، ان میں سے ایک نے یوں دعا کی کہ اے اللہ! میرے بوڑھے والدین تھے، میں بکریاں چرایاکرتا تھا ،پھرمیں واپس آتا بکریوں کا دودھ نکالتا،یہ دودھ کا برتن اٹھاکر والدین کی خدمت میں لاتا،وہ نوش کر لیا کرتے، تومیں اپنے بچوں ،بیوی اور اہل خانہ کو پلایا کرتا تھا،ایک شب میں تاخیر سے واپس آیا، تو وہ دونوں سوچکے تھے، میں نے انہیں نیند سے بیدار کرنا مناسب نہ جانا، میرے بچے (بوجہ بھوک) روتے روتے میرے پائوں کو چمٹ گئے ،اسی حالت میں صبح ہوگئی، اے اللہ! اگریہ سب کچھ میں نے آپ کی رضاء کے لئے کیا تھا، تو اتنی کشادگی کردے کہ ہم آسمان دیکھ سکیں، آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ دعا قبول ہوئی اور آسمان نظر آنے لگا۔
دوسرے شخص نے یوں دعا کی کہ اے اللہ! آپ جانتے ہیں کہ ،مجھے اپنی ایک چچاز زاد بہن سے عشق ہوگیا تھا اور یہ عشق بھی کمال درجے کا تھا، اس نے مجھے کہا کہ تم اپنے مقصد میں اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتے، جب تک اسے ایک سو اشرفی لاکر نہ دو، میں نے محنت ومزدوری کر کے یہ رقم حاصل کی اور اس کے پاس جا بیٹھا ،تو اس نے مجھے کہا کہ خوف خدا کرو اور نکاح کے بغیر مجھ سے قرب اختیار نہ کرو،اس پر میں اٹھ گیا اور اسے چھوڑ دیا۔ اے اللہ! اگر میں نے یہ آپ کی رضا کے لیے کیا تھا، تو اسے کھول دیجئے، آپ ؐ نے ارشاد فرمایا: دو تہائی حصہ کھل گیا۔ تیسرے نے یوں دعا کی کہ اے اللہ! آپ جانتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو اجرت پر کا م میں لگایا تھا، اجرت میں مکئی کے دانے کی تھوڑی سی مقدار طے ہوئی تھی، میں نے اسے یہ اجرت دی ،اس نے لینے سے انکار کر دیا، میں نے اس مکئی کو کاشت کر دیا اور اس کی پیدوار سے گائے اور چرواھا خرید لیا، پھر وہ ایک روز آیا اور کہا اے اللہ کے بندے! میرا حق مجھے دے دیجئے، میں نے اسے جواب دیا کہ یہ بہت سی گائے اور چرواہے کو لے جاؤ ،اس نے کہا کہ میرے ساتھ مذاق نہ کرو، میں نے کہا میں مذاق نہیں کر رہا ،یہ آپ کا ہی ہے، اے اللہ!میں نے یہ آپ کی رضا کے لیے کیاتھا، تو اسے کھول دیجئے۔ سو اللہ تعالیٰ نے اس غار کو کھول دیا۔ (صحیح بخاری:۲۳۳۳)
ظالم باد شاہ سے نجات:
سیدنا حضرت ابوھریرہ ؓسے مروی ہے کہ جناب رسول اللہؐنے ارشاد فرمایا: ’’سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے سیدہ سارہ کی معیت میں ہجرت کی،وہ اپنی زوجہ کے ہمراہ ایک شہر میں داخل ہوئے، اس شہر میں ایک جابر باد شاہ اقامت پذیر تھا ،اسے اطلاع دی گئی کہ ابراہیم علیہ السلام ایک خوبصورت خاتون کے ساتھ آئے ہیں، اس نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو بلوا بھیجا اور دریافت کیا کہ، آپ کے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے ارشاد فرمایا کہ میری (دینی) بہن ہے( کیونکہ ایک بہن کا رشتہ ہی دست درازی سے محفوظ رکھ سکتا تھا)حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی اہلیہ کے پاس واپس تشریف لائے اور اس سے فرمایا کہ، میری تکذیب نہ کرنا، میں نے ان سے کہہ دیا ہے کہ آپ میری (دینی) بہن ہیں۔
قسم بخدا! میرے اور آپ کے بغیر روئے ارض پر کوئی مومن نہیں (اس لیے ایمانی اخوت موجود ہے) باشاہ نے سیدہ سارہ کو طلب کیا اور ان پر دست درازی کی نیت سے کھڑا ہوا، سیدہ سارہ نے وضو کر کے نماز شروع کردی اور دعا کی کہ اے اللہ! اگر میں آپ پر اور آپ کے رسول پر ایمان لائی اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ماسوائے اپنے شوہر کے ،تو مجھ پر کسی کافر کو مسلط نہ کیجئے ( اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی) اس کافر کا سانس پھول گیا ،حتیٰ کہ وہ اپنا پاؤں زمین پر مارنے لگا۔ایسا اس کے ساتھ تین مرتبہ ہوا، بالآخر کہنے لگا کہ، یہ کوئی جنی ہے اسے لے جاؤ مذکورہ واقعہ سے معلوم ہوا کہ، ایسے ظالم بادشاہ سے سیدہ سارہ ؑکونجات ان کے ایمان اور عفت و پاک دامنی کے سبب نصیب ہوئی۔ عفت کی بدولت صرف نجات ہی نہیں ہوتی، بلکہ اس جابر بادشاہ نے ایک باندی’’ہاجرہ‘‘ بھی سیدہ سارہ کو عطا کردی۔
عفت وپاکدامنی کے بر عکس بدکاری و بے حیائی ہے، جسے قرآن وسنت کے اصطلاح میں زنا اور فواحش کا نام دیا گیا ہے، فواحش ومعاصی ،نہ صرف یہ کہ قہر خداوندی کا موجب ہیں بلکہ، ان خطرناک امراض روحانیہ کا سبب بھی ہیں کثرت اموات، طاعون، متعدی امراض، قلت رزق،قحط اور اس جیسی بے شمار دنیوی آفتیں بھی اسی مرض قبیح سے وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ اہل علم نے قرآن وسنت سے مستنبط فرماکر فواحش ومعاصی کے درج ذیل نقصانات ذکر فرمائے ہیں:
ان گناہوں سے غم کی کثرت، پریشانیوں اور بے چینی میں اضافہ ہوتا ہے۔دل میں وحشت جنم لیتی ہے اور چہرہ اداس سا رہتا ہے۔ نفرتیں، بغض اور عداوتیں جنم لیتی ہیں ،جو بعض اوقات قتل جیسے جرم عظیم کا سبب بھی بن جاتی ہیں۔ایسے گناہ نحوست،اللہ کی نعمت سے بے زاری، انسانی صحت کی خرابی اور رزق سے محرومی کا باعث بنتے ہیں اورانسان دین وتقوی سے دور ہوجاتا ہے۔



