ایران کے ٹینکروں پر قبضے،ہزاروں امریکی سیلرز اور میرینز بحیرہ احمر پہنچ گئے
ایران سے ممکنہ خطرہ: امریکہ نے بحیرہ احمر میں نئی فوج اور جنگی جہاز تعینات کر دیئے
نیویارک ، 8اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) امریکہ نے دو جنگی جہاز اور تین ہزار سے زائد سیلرز اور میرینز کو بحیرہ احمر میں تعینات کر دیا ہے جو واشنگٹن کا ایران کی جانب سے لاحق خطرات کے پیش نظر جوابی اقدام ہے۔ خبر کے مطابق پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ایران نے گذشتہ دو برسوں کے دوران خطّے میں تقریباً 20 بین الاقوامی پرچم والے بحری جہازوں کو یا تو اپنی تحویل میں لے لیا یا پھر قبضے میں لینے کی کوشش کی۔بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے نے بتایا کہ نئی امریکی افواج یو ایس ایس باتان اور یو ایس ایس کارٹر ہال جنگی جہازوں پر پہنچی ہیں جس سے بیڑے کی سمندری صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ترجمان ٹم ہاکنز نے کہا کہ یہ تعیناتی غیر مستحکم سرگرمیوں کو روکنے، ایران کی جانب سے ہراساں کرنے اور تجارتی جہازوں کو قبضے میں لینے سے پیدا ہونے والی علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش ہے۔
ایران کے تیل بردار بحری جہازوں پرقبضے کے بعد امریکا نے خطے میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کردیا ہے اور دو جنگی جہازوں کے ذریعے تین ہزار سے زیادہ امریکی فوجی بحیرہ احمر پہنچ گئے ہیں۔امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی ملاح اور میرینز نہرسویز سے گذرنے کے بعد اتوار کے روز بحیرہ احمر میں داخل ہوئے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ سیلرز اور میرینز یو ایس ایس باتعان اور یو ایس ایس کارٹر ہال جنگی جہازوں پر پہنچے اور وہ پانچویں بیڑے کوکمک اور سمندری صلاحیت مہیا کرتے ہیں۔امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایران نے گذشتہ دو برسوں کے دوران میں خطے میں بین الاقوامی پرچم بردار قریباً 20 مال بردار یا تیل بردار بحری جہازوں کو یا تو قبضے میں لیا ہے یا ان کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔یو ایس ایس باتعان فکسڈ ونگ اور روٹری طیاروں کے ساتھ ساتھ لینڈنگ طیارے بھی لے جا سکتا ہے۔
یو ایس ایس کارٹر ہال، ایک گودی لینڈنگ جہاز ہے اور یہ میرینز، ان کے سامان، اور انھیں ساحل پر اتارتا ہے۔امریکا کے پانچویں بحری بیڑے کے ترجمان کمانڈر ٹم ہاکنز نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ یونٹ کام کرتے وقت اہم آپریشنل لچک اور صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں۔ایران کی تجارتی جہازوں کو ہراساں کرنے اور ان پرقبضے کی وجہ سے علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں کو روکا جائے گا۔امریکا نے یہ نئے فوجی اس بیان کے بعد بھیجے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ اس کی افواج نے 5 جولائی کو عمان کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں ایران کی تجارتی ٹینکروں کو قبضے میں لینے کی کوشش کو ناکام بنا دیا تھا۔ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘کے مطابق ان دو ٹینکروں میں سے ایک، بہاماس کا پرچم بردار رچمنڈ وائجر، ایک ایرانی بحری جہاز سے ٹکرا گیا تھا، جس کے نتیجے میں عملہ کے پانچ ارکان شدید زخمی ہو گئے تھے۔
اپریل اور مئی کے اوائل میں،ایران نے علاقائی پانیوں میں ایک ہفتے کے اندر دو آئل ٹینکروں کو قبضے میں لے لیا تھا۔اس سے قبل اسرائیل اور امریکا نے گذشتہ سال نومبر میں ایران پر الزام عاید کیا تھا کہ اس نے عمان کے ساحل کے قریب اسرائیلی کمپنی کے ایک ٹینکر پر ڈرون حملہ کیا تھا۔امریکا نے گذشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ ایران کو خلیج میں بحری جہازوں پر قبضے سے روکنے کے لیے مشرق اوسط میں جنگی بحری جہاز، ایف 35 اور ایف 16 لڑاکا طیارے بھیجے گا۔گذشتہ ہفتے ایک امریکی عہدہ دار نے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ واشنگٹن دفاع کے اضافی اقدام کے طور پر خلیج سے گذرنے والے ٹینکروں پر میرینز اور بحریہ کے اہلکاروں کو تعینات کرنے کی بھی تیاری کر رہا ہے۔



