مسلمان ہونے والی آئرش گلوکارہ کی موت پر لاکھوں مداح غمگین
ان کی آخری رسومات میں آئرلینڈ کے وزیرِ اعظم لیو وراڈکر اور صدر مائیکل ہگنس سمیت گلوکاری کی دنیا کی کئی نامور شخصیات نے شرکت کی۔
لندن،9اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) آئرش گلوکارہ سینیڈ او کونر Sinead O’Connor کو دنیا بھر میں لاتعداد لوگوں نے ان کی تدفین کے موقع پر خراجِ عقیدت پیش کیا۔ منگل کو ان کی آخری رسومات میں آئرلینڈ کے وزیرِ اعظم لیو وراڈکر اور صدر مائیکل ہگنس سمیت گلوکاری کی دنیا کی کئی نامور شخصیات نے شرکت کی۔تدفین کے لیے قبرستان کی طرف جانے والا وسیع جلوس ان کے عقیدت مندوں پر ان کی زندگی کے وسیع اثرات کی عکاسی کر رہا تھا جو ان کی مسحور کن آواز اور جذباتی گہرائی سے متاثر ہوئے۔سوشل میڈیا پر ان گنت پوسٹوں میں پرستاروں اور سوگواروں کے ہجوم میں ان کے جنازے کے جلوس کے مناظر پوسٹ کیے گئے۔ایک ونٹیج کیمپر وین کی چھت پر نصب اسپیکرز پرگلوکار ہ کے کچھ مشہور گانوں کے ساتھ ساتھ ان کے ہیرو باب مارلی کے گانے کو پلے کیا جارہا تھا، جب جلوس ان کے سابق گھر کے باہر رکا تو تالیوں کی لگاتار گونج سے اس کا استقبال کیا گیا۔
سیکڑوں لوگوں نے ڈبلن کے جنوب میں سمندر کے کنارے واقع گاؤں بری میں واقع اس گھر کی زیارت کی جہاں او کونر 15 سال تک مقیم رہیں،وہ حال ہی میں لندن منتقل ہوئی تھیں جہاں وہ گزشتہ ماہ اپنے گھر میں مردہ پائی گئیں۔اوکونر کے گھر کے باہر ہجوم میں موجود سیمون جارج نے کہاکہ او کونراپنی تمام تر صلاحیتوں اور خوبصورتی کے ساتھ ہر ا یک کی پسندیدہ تھیں۔انہوں نے اس وقت ہمیں آواز دی جب ہم وہ سب نہیں کہہ پا رہے تھے جو ہم پر گزر رہی تھی۔ میرے خیال میں وہ آئرش لوگوں کے لیے ایک بہت مختلف چیز کی علامت ہیں۔ اوکورنر، جس کی پرورش کیتھولک گھرانے میں ہوئی اور 1992 میں مقبول شو سیٹر ڈینائٹ لائیو’ میں پوپ جان پال دوم کی تصویر پھاڑ دینے کے بعد ایک متنازع شخصیت بن گئی تھیں، انہوں نے بعد میں اسلام قبول کر لیا تھا۔
مسلم سسٹرز آف آئیر‘ ڈبلن میں ایک چیریٹی ہے اس نے ٹوئٹر پر پوسٹ کیا کہ ہمیں سسٹر سینیڈ او کونر کی نماز جنازہ میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوا۔ وہ خواتین کے حقوق میں سرگرم اور تبدیلی کی حامی تھیں، اللہ انہیں جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔اس پوسٹ پر ان کا اسلامی نام بھی نظر آرہا تھا جو پہلے شہدا تھا اور بعد میں انہوں نے اسے بدل کرصداقت رکھ لیا۔اسلامک سنٹر آف آئرلینڈ کے شیخ ڈاکٹر عمر القادری نے انہیں الوداع کہتے ہوئے اسے ایک ایسی قابلِ ذکر روح کو الوداع کہنے سے تعبیر کیاجس نے ہم سب کو چھو لیا۔ انہوں نے کہاکہ او کونر نے اپنے آرٹ کے ذریعے متنوع روحوں کو جوڑا ہے۔
امام نے آن لائن پوسٹ میں گلوکارہ کی یاد میں لکھی گئی تحریر میں کہا کہ ایک ایسی آواز جس نے نوجوانوں کی ایک نسل کو منتقل کیا۔سینیڈ نے سکون بانٹتے ہوئے، دنیا بھر کے بے شمار لوگوں کو خوشی دی۔او کونر نے جو غیر معمولی جذباتی رینج کی مالک ایک ملٹی آکٹیو میزو سوپرانو تھیں اپنے کریئر کا آغاز ڈبلن کی سڑکوں پر گانا گا کر کیا اور جلد ہی بین الاقوامی شہرت حاصل کر لی۔وہ 1990 میں Prince’s ballad کے کور ”نتھنگ کمپیئرز 2 یو” کے ساتھ ایک ایسی سنسنی خیز فن کار بن گئیں،جنہوں نے یورپ سے آسٹریلیا تک مقبولیت کی فہرست اعلیٰ مقام حاصل کیا تھا۔ان کے پرستاروں نے ان کے بہت سے گانوں کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے۔وہ رومن کیتھولک چرچ کی سخت ناقد تھیں اور انہوں نے اس سے بہت پہلے جب کلیسائے روم پر جنسی استحصال کے الزامات کو بڑے پیمانے پر رپورٹ کیا گیا اور چرچ نے آخر کار معافی مانگی، ان چیزوں کی نشان دہی کرتے ہوئے چرچ کو دشمن قرار دیا تھا۔



