بین الاقوامی خبریںسرورق

جو بائیڈن کیخلاف غزہ پر اسرائیل کی نسل کشی میں ملوث ہونے کا مقدمہ دائر

فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیموں اور غزہ اور امریکہ کے فلسطینیوں کی جانب سے تینوں اہلکاروں کے خلاف مقدمہ دائر کیا

لندن، 15نومبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) امریکہ میں انسانی حقوق کے ایک گروپ نے صدر جو بائیڈن اور ان کی کابینہ کے دو ارکان کیخلاف غزہ میں اسرائیلی حکومت کی نسل کشی کو روکنے میں ناکامی اور اس میں ملوث ہونے پر مقدمہ دائر کر دیا ہے۔شہری آزادیوں کے گروپ کی ویب سائٹ پر ایک بیان کے مطابق نیویارک میں قائم مرکز برائے آئینی حقوق (سی سی آر) نے فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیموں اور غزہ اور امریکہ کے فلسطینیوں کی جانب سے تینوں اہلکاروں کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔بائیڈن، سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن، اور سیکریٹری دفاع لائڈ آسٹن کیخلاف وفاقی شکایت میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے غزہ میں فلسطینی عوام کی نسل کشی کو روکنے میں نہ صرف ناکام رہے ہیں بلکہ اسرائیلی حکومت کو غیر مشروط فوجی اور سفارتی حمایت فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھ کر، فوجی حکمت عملی پر قریبی رابطہ کاری، اور اسرائیل کی بے دریغ اور بے مثال بمباری مہم اور غزہ کا مکمل محاصرہ روکنے کے لیے بین الاقوامی برادری کی کوششوں کو کمزور کر کے سنگین جرائم کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کی ہے۔وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں کم از کم 11,100 فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا ہے جن میں 4,600 سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں اور 28,000 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

اپنی شکایت کے تعارف میں سی سی آر نے کہاکہ اسرائیلی حکومت کے متعدد رہنماؤں نے واضح نسل کشی کے ارادوں کا اظہار کیا ہے اور فلسطینیوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا گیا ہے’اس کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سمیت شہری علاقوں اور بنیادی ڈھانچے پر بمباری کی ہے اور فلسطینیوں کو پانی، خوراک، بجلی، ایندھن اور ادویات سمیت انسانی زندگی کے لیے ہر ضروری چیز سے محروم کر دیا ہے۔گروپ نے بات کو جاری رکھا۔ ارادوں کے بیانات کے علاوہ اجتماعی قتل، سنگین جسمانی اور ذہنی ایذا رسانی، اور مکمل محاصرہ اور بندش جس سے گروپ کی جسمانی تباہی کے حالات پیدا ہو جائیں ، نسل کشی کے ایک آشکار ہوتے ہوئے جرم کے ثبوت کو ظاہر کرتے ہیں۔سی سی آر نے نسل کشی اور ہولوکاسٹ کے کئی سرکردہ قانونی محققین و مؤرخین بشمول ولیم شاباس کا بھی حوالہ دیا جنہوں نے اسرائیلی حکومت کی ہرزہ سرائی اور فوجی ردِعمل کو نسل کشی کی علامات کے طور پر شناخت کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button