
اجمیر میں سسر پر بہو سے مبینہ زیادتی کا الزام، شکایت کے بعد مقدمہ درج
شکایت کے مطابق ملزم اپنے بیٹے کو بھی بیوی کے کمرے میں داخل ہونے سے روکتا تھا
اجمیر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) راجستھان کے ضلع اجمیر میں ایک نہایت سنگین مبینہ جنسی زیادتی کا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک شخص کے خلاف اپنی شادی شدہ بہو سے طویل عرصے تک مبینہ زیادتی کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ ملزم نہ صرف اپنی بہو کو مسلسل جنسی استحصال کا نشانہ بناتا رہا بلکہ اپنے بیٹے کو بھی اس کی بیوی کے کمرے میں جانے سے روکتا تھا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کے بھائی نے کشن گڑھ پولیس اسٹیشن میں رپورٹ درج کراتے ہوئے بتایا کہ اس کی بہن کی شادی 2018 میں ہوئی تھی۔ اس نے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی تھی۔ شادی کے کچھ عرصے بعد ہی اس کی ذہنی اور جسمانی حالت بگڑنے لگی۔ ابتدا میں اہل خانہ نے سمجھا کہ شاید گھریلو ناچاقی یا ازدواجی مسائل کی وجہ سے اس کی حالت متاثر ہو رہی ہے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ حالات مزید خراب ہوتے گئے۔
شکایت کنندہ کے مطابق اس کی بہن جب بھی میکے آتی تو خوفزدہ اور پریشان دکھائی دیتی تھی۔ وہ زیادہ بات نہیں کرتی تھی اور ہر مرتبہ سسرال والے خود اسے واپس لے جاتے تھے۔ بھائی کا کہنا ہے کہ اس وقت انہیں معاملے کی سنگینی کا اندازہ نہیں تھا۔
رپورٹ کے مطابق جب متاثرہ خاتون نے ایک بیٹی کو جنم دیا تو اس کا بھائی اس سے ملنے سسرال گیا۔ اس دوران خاتون کے سسر نے دعویٰ کیا کہ اس کی بہو کوئی کام نہیں کرتی، اسی لیے اسے ڈانٹا جاتا ہے۔ تاہم اسی دوران متاثرہ خاتون ایک کونے میں جا کر رونے لگی اور اپنے بھائی کے پاؤں پکڑ کر منتیں کرنے لگی کہ اسے وہاں سے لے جایا جائے۔ اس واقعے کے بعد بھائی اپنی بہن کو اپنے گھر لے آیا اور اس کا علاج کرانے کی کوشش کی۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ چند روز قبل جب خاندان نے خاتون سے دوبارہ سسرال واپس جانے کی بات کی تو اس نے سخت انکار کر دیا اور شدید خوف کا اظہار کیا۔ اس پر بھائی نے سسرال کے اطراف رہنے والے افراد سے معلومات حاصل کیں۔ اس کے مطابق بعض پڑوسیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایک سے زائد مرتبہ متاثرہ خاتون کے سسر کو اس کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دیکھا تھا اور اسے اس حرکت سے باز رہنے کی تنبیہ بھی کی تھی۔
پولیس کے مطابق بعد ازاں جب بھائی نے اپنی بہن سے تفصیل پوچھی تو اس نے الزام لگایا کہ اس کا سسر طویل عرصے سے اس کے ساتھ زیادتی کرتا رہا۔ شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزم اپنے بیٹے، یعنی متاثرہ کے شوہر، کو کمرے میں داخل ہونے سے روکتا تھا تاکہ وہ خاتون کے ساتھ اکیلا رہ سکے۔ مزید الزام ہے کہ ملزم متاثرہ پر جسمانی تشدد بھی کرتا تھا۔
شکایت میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ متاثرہ خاتون کی بیٹی مبینہ زیادتی کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔ تاہم پولیس نے واضح کیا ہے کہ اس دعوے سمیت تمام الزامات کی تصدیق تحقیقات، طبی معائنے اور سائنسی شواہد کی بنیاد پر کی جائے گی۔
متاثرہ کی جانب سے وکلاء آستھا بروا اور نوین بروا کے ذریعے کشن گڑھ پولیس اسٹیشن میں شکایت پیش کی گئی، جس کے بعد پولیس نے متعلقہ قانونی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔ تھانہ انچارج نرپت رام کے مطابق کیس کی ذاتی طور پر نگرانی کی جا رہی ہے اور متاثرہ کا بیان، طبی معائنہ، فرانزک شواہد اور دیگر ضروری ثبوت جمع کیے جا رہے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فی الحال تمام الزامات زیرِ تفتیش ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد دستیاب شواہد کی بنیاد پر قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔



