بین الاقوامی خبریںسرورق

القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کو ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا گیا

واشنگٹن ،2اگست  :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس سے خصوصی خطاب کے دوران اعلان کیا ہے کہ القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کو افغانستان کے اندر ہونے والے ایک ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔صدر بائیڈن نے قوم کو بتایا کہ نائن الیون میں زندگی سے محروم ہونے والے معصوم امریکیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا اور الظواہری کی ہلاکت ثابت کرتی ہے کہ ہم اپنے عزم پر قائم ہیں اورایمن الظواہری کے ساتھ انصاف ہو گیا ہے۔صدر نے کہا کہ الظواہری نیروبی سے لے کر افغانستان تک، امریکہ کے عوام، اس کے سفارت کاروں ، فوجیوں اور اس کے مفادات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کرنے والوں میں شامل رہے ہیں۔

صدر بائیڈن نے تصدیق کی کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے افغانستان کے اندر خصوصی ڈرون آپریشن کی منظوری دی تھی اور اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ کسی عام شہری، بشمول الظواہری کے خاندان کے افراد کے، کسی کی زندگی کو نقصان نہ پہنچے۔امریکہ کے صدر نے کہا کہ انہوں نے کاونٹر ٹیررازم فورس کے اس پلان پر کافی غوروخوض کے بعد اس کی منظوری دی اور اس کے لیے گانگریس کے اراکین کو بھی اعتماد میں لیا گیا۔صدر بائیڈن نے کہا کہ افغانستان سے انخلا کے وقت بھی میں نے امریکہ کے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ ہم افغانستان کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہیں بننے دیں گے۔

صدر نے اس موقع پر امریکہ کی انٹیلی جنس کمیونٹی اور انسداد دہشت گردی فورسز کی خدمات کو بھی سراہا۔صدر نے کہا کہ اہداف کو نپے تلے انداز میں نشانہ بنانے والے ڈرون حملوں سے ہم نے، الظواہری سے قبل، گزشتہ ماہ داعش کے ایک بڑے لیڈر کو بھی انجام تک پہنچایا ہے۔امریکہ کے صدر نے باور کرایا کہ دہشت گرد یہ جان لیں کہ وہ امریکہ کے لوگوں اور ا س کے مفادات کو نقصان پہنچائیں گے تو وہ کہیں بھی ہوں گے، جتنا بھی چھپ لیں، ان کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔ اور ان کے بقول ہم وہ سب کریں گے جس سے امریکہ کے شہری ملک کے اندر اور دنیا بھر میں محفوظ رہ سکیں۔

قبل ازیں محکمہ خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار نے پر بتایا ہے کہ امریکہ نے افغانستان کے اندر ایک کامیاب کارروائی کی جس میں عام شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات نہیں ملی ہیں۔ اس اختتام ہفتہ امریکہ نے افغانستان کے اندر القاعدہ کے بڑے اہداف کے خلاف انسداد دہشت گردی کی ایک کامیاب کاروائی کی۔ یہ آپریشن کامیاب رہا اور وہاں کوئی عام شہری زخمی یا ہلاک نہیں ہوا۔یاد رہے کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکہ کی سپیشل فورسز نے ایبٹ آباد میں 2 مئی2011 میں ایک آپریشن میں ہلاک کر دیا تھا۔ اور اس کے بعد الظواہری نے دہشت گرد قرار دی جانے والی تنظیم کی قیادت سنبھال لی تھی۔ القاعدہ وہ تنظیم ہے،جس کو امریکہ کے شہر نیویارک پر نائن الیون کے دہشت گرد حملوں کی افغانستان کے اندر بیٹھ کر منصوبہ بندی کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔


ایمن الظواہری کو نشانہ بنانے والے میزائل کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

 انیس جون 1951کو مصر میں پیدا ہونے والے ایمن الظواہری کو امریکی وقت کے مطابق رات نو بج کر 48 منٹ پر اور افغانستان کے معیاری وقت کے مطابق چھ بج کر 18 منٹ پر افغانستان میں ایک کارروائی میں ہلاک کردیا گیا ہے۔اس کاروائی کے لیے سی این این‘AGM-114 Hellfire نامی میزائل کو استعمال کیا گیا۔ اس میزائل کا قطر80 سینٹی میٹر اور وزن 45 کلو گرام ہے۔یہ میزائل جسے 1974 میں امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے تیار کیا۔

اس کی رینج 49 کلومیٹر تک ہے۔ خیال رہے کہ اس کے تیار کردہ ورژن میں راڈار یا لیزر سے رہنمائی حاصل کی گئی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج نے 2008 میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے وقف کرنے کے بعد 10 سال قبل اپنے اور اس کے اتحادیوں کے لیے 24 ہزار میزائلوں کی درخواست کی تھی۔قیمت کے طور گذشتہ سال یہ جگہ ڈیڑھ لاکھ ڈالر تھا۔امریکی عہدیدار نے بتایا کہ متعدد طالبان عہدیداروں کو الظواہری کی کابل میں موجودگی کا علم تھا۔ طالبان نے اس حملے کو دوحا معاہدے کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔


سعودی عرب کا ایمن الظواہری کیخلاف کامیاب کارروائی کا خیر مقدم

سعودی وزارت خارجہ نے امریکی صدر جو بائیڈن کے القاعدہ کے دہشت گرد رہ نما ایمن الظواہری کو ایک کامیاب آپریشن میں نشانہ بنانے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔وزارت خارجہ نے کہا کہ الظواہری دہشت گردی کے ان رہ نماؤں میں سے ایک ہیں جنہوں نے امریکہ، سعودی عرب اور دنیا کے کئی ممالک میں دہشت گردی کی گھناؤنی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد کی قیادت کی، جس کے بعد مختلف اقوام کے ہزاروں بے گناہ افراد اور سعودی شہریوں سمیت دوسرے مذاہب کے لوگوں کو قتل کیا گیا۔سعودی عرب کی حکومت نے دہشت گردی کیخلاف تعاون کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے دہشت گردی کی لعنت سے نمٹنے اور اس کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو مربوط کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ مملکت نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ دہشت گرد تنظیموں سے معصوم لوگوں کو بچانے کے لیے اس فریم ورک میں تعاون کریں۔

ایمن الظواہری ہلاکت:امریکہ اور طالبان کا ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام

افغانستان کے دارالحکومت میں ڈرون حملے میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی ہلاکت پر طالبان حکومت اور امریکا نے ایک دوسرے پر دوحہ امن معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر نے ملکی ایجنسی سی آئی اے کی کابل میں ایک سکیورٹی آپریشن کے دوران ڈرون حملے میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔امریکی صدر کے بیان کے بعد طالبان حکومت نے نائب وزیر اطلاعات اور ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک بیان جاری کیا جس میں امریکی ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے دوحہ میں ہونے والے امن معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا۔

ترجمان طالبان نے مزید کہا کہ کسی ملک میں حملہ آور ہونا اس کی قومی سلامتی کو چیلنج کرنے کے مترادف اور عالمی قوانین کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔ 20 سالہ فوجی آپریشن جیسے ناکام تجربات کو دہرانا افغانستان، امریکہ اور خطے کے مفاد میں نہیں۔دوسری جانب امریکی حکام نے کہا کہ ایمن الظواہری اپنے خاندان سمیت کابل کے سیف ہاؤس میں موجود تھے۔ یہ دوحہ امن مذاکرات کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ معاہدے میں طے پایا تھا کہ القاعدہ سمیت کسی بھی عسکریت پسند گروپ کے رہنماؤ ں کو افغانستان میں محفوظ پناہ فراہم نہیں کی جائے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کے باوجود ایمن الظواہری کی موجودگی پر طالبان حکومت نے ضروری کارروائی نہیں کی۔ القاعدہ سربراہ اپنے خاندان کے ہمراہ کابل میں رہ رہے تھے۔ ان کے ٹھکانے کا خود پتہ لگایا اور کارروائی کی۔امریکی حکام کے مطابق ایمن الظواہری کو ڈرون حملے میں دو میزائل مارے۔ القاعدہ سربراہ کی ہلاکت کے بعد حقانی نیٹ ورک نے ان کے خاندان کے افراد کو مکان سے نکال لیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button