آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات: تدفین میں چار ماہ تاخیر کیوں ہوئی اور جسد خاکی کہاں رکھا گیا؟
آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا مکمل شیڈول، چار ماہ بعد مشہد میں تدفین
تہران:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات اور تدفین کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ ایرانی حکام نے اعلان کیا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی چھ روزہ سرکاری آخری رسومات کا آغاز 4 جولائی سے ہوگا، جو 9 جولائی کو ان کے آبائی شہر مشہد میں تدفین کے ساتھ اختتام پذیر ہوں گی۔ اس دوران ایران کے شہر قم اور عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا میں بھی خصوصی تقریبات اور تعزیتی اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مبینہ مشترکہ حملوں میں ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد پورے مشرق وسطیٰ میں شدید کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ ان کی وفات کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سکیورٹی خدشات کے باعث ان کی تدفین کئی ماہ تک مؤخر رہی، جسے اسلامی روایات کے مطابق ایک غیر معمولی تاخیر قرار دیا جا رہا ہے۔
چار ماہ بعد آخری رسومات کیوں؟جسد خاکی کہاں رکھا گیا؟
رپورٹس کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کی وفات کے تقریباً چار ماہ بعد ان کی آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں۔ بعض بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کے جسد خاکی کو عارضی طور پر دفن کر دیا گیا تھا، تاہم ایرانی حکام نے ان اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ جسد خاکی کو اسلامی اصولوں کے مطابق محفوظ رکھا گیا۔
امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی کے ماہر ڈاکٹر محمد عمر نے بتایا کہ آیت اللہ خامنہ ای کے جسد خاکی کو کیمیائی ایمبالمنگ کے بجائے ریفریجریٹڈ کولڈ اسٹوریج میں رکھا گیا، کیونکہ اسلامی تعلیمات میں عام طور پر کیمیائی ایمبالمنگ کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔
جنازے اور تدفین کا مکمل شیڈول
ایرانی حکام کے مطابق ہفتہ اور اتوار کو آیت اللہ خامنہ ای کا جسد خاکی تہران کے گرینڈ مصلیٰ کمپلیکس میں عوامی دیدار کے لیے رکھا جائے گا، جہاں لاکھوں افراد کے پہنچنے کی توقع ہے۔
6 جولائی کو تہران کی سڑکوں پر ایک عظیم الشان جنازہ جلوس نکالا جائے گا، جس میں ایرانی عوام، سیاسی رہنما، مذہبی شخصیات اور غیر ملکی وفود شریک ہوں گے۔
7 جولائی کو ان کا جسد خاکی قم منتقل کیا جائے گا، جہاں شیعہ علما اور طلبہ ان کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔
8 جولائی کو عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا میں خصوصی دعائیہ تقریبات، مجالس اور تعزیتی اجتماعات منعقد ہوں گے۔ اطلاعات کے مطابق ان کا جسد خاکی کربلا بھی لے جایا جائے گا، جہاں امام حسینؓ کے روضے پر خصوصی مراسم ادا کیے جائیں گے۔
9 جولائی کو آیت اللہ علی خامنہ ای کو ان کے آبائی شہر مشہد میں واقع روضۂ امام رضاؑ کے احاطے میں سپرد خاک کیا جائے گا، جہاں آخری تدفینی تقریب منعقد ہوگی۔
ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ چھ روزہ سوگ اور آخری رسومات میں ایک کروڑ پچاس لاکھ سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے۔ اسی پیش نظر تہران، قم، مشہد اور دیگر اہم شہروں میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں اور پورے ملک کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری تصاویر میں خامنہ ای کے تابوت کو ایرانی پرچم کے رنگوں سے سجے ہال میں رکھا گیا ہے، جبکہ ہزاروں سوگوار ایرانی پرچم اٹھائے مذہبی نغمے اور نوحے پڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
محمد باقر قالیباف کی عوام سے اپیل
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے عوام سے جنازے میں بھرپور شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا:
"قوم کی انتقام کی صدا پوری دنیا کے کانوں تک پہنچنی چاہیے۔”
مجتبیٰ خامنہ ای جنازے میں شریک نہیں ہوں گے
یہ تقریب ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے دور کی پہلی بڑی سرکاری تقریب بھی ہوگی، تاہم اطلاعات کے مطابق وہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنے والد کی آخری رسومات میں عوامی طور پر شریک نہیں ہوں گے۔ ان کے ہندوستانی نمائندے آیت اللہ حکیم الٰہی نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی بطور نئے سپریم لیڈر تقرری کے بعد وہ تاحال عوامی سطح پر منظر عام پر نہیں آئے ہیں، جس کے باعث ان کی غیر موجودگی مزید توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
90 ممالک کے وفود کی شرکت متوقع
ایران کے مطابق تقریباً 90 ممالک کے سربراہان، وزراء اور سرکاری وفود آخری رسومات میں شرکت کریں گے۔
بھارت کی جانب سے بہار کے گورنر سید عطاء حسنین، وزیر مملکت برائے خارجہ پبیترا مارگریٹا، سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید، کانگریس رہنما پون کھیڑا، محبوبہ مفتی اور آغا سید حسن موسوی الصفوی وفد کا حصہ ہوں گے۔
روس کی نمائندگی سابق صدر دمتری میدویدیف کریں گے، جبکہ تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کی شرکت بھی متوقع ہے۔
امریکہ-ایران مذاکرات عارضی طور پر معطل
ایران نے سوگ کی مدت کے دوران امریکہ کے ساتھ جاری بالواسطہ مذاکرات عارضی طور پر معطل کر دیے ہیں۔ قطری ثالثوں کے مطابق 9 جولائی کو آخری رسومات مکمل ہونے کے بعد مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے۔
اس ہفتے دوحہ میں واشنگٹن اور تہران کے نمائندوں کے درمیان بالواسطہ مذاکرات ہوئے تھے، تاہم کسی بڑی پیش رفت کا اعلان نہیں کیا گیا۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی سیاست کے لیے ایک اہم موڑ سمجھی جا رہی ہیں، کیونکہ ان کی تدفین کے بعد ایران کی داخلی اور خارجی پالیسیوں میں ممکنہ تبدیلیوں پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔



