علی گڑھ ،7جون :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) علی گڑھ میں جمعہ کی نماز پر پابندی کے معاملہ میں ہندو مہاسبھا کی قومی سکریٹری ڈاکٹر پوجا شکون پانڈے کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ایڈیشنل میونسپل مجسٹریٹ کی جانب سے ان کے خلاف نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے۔ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر سچ بولنے سے کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے ،تو معذرت خواہ ہیں۔
پوجا کے خلاف فرقہ وارانہ بیان دینے اور مختلف گروہ کے درمیان بدامنی کو ہوا دینے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔علی گڑھ انتظامیہ کے مطابق پوجا شکون پانڈے نے متنازعہ بیان سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے۔پوجا پانڈے نے ایک میمورنڈم کے ذریعہ مطالبہ کیا تھا کہ جمعہ کی نماز کے موقع پر لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی ہونی چاہیے۔
ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوا جس کے بعد ان کیخلاف پولیس اسٹیشن گاندھی پارک میں مقدمہ درج کیا گیا۔انہیں جاری کئے گئے نوٹس میں لکھا گیا ہے کہ میمورنڈم جمع کرانے سے قبل آپ کی جانب سے میڈیا کے سامنے جو بیانات دیئے گئے ہیں، بنیادی طور پر مذہبی شدت پھیلانے کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔ یہ ویڈیو کلپ آپ نے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیا ہے جس پر کئی لوگوں کے ردعمل بھی سامنے آئے ہیں۔
ضلع میں دفعہ 144 نافذ ہے، جس میں قواعد کیخلاف ہجوم کا اجتماع، بغیر اجازت پروگرام کرنے اور کسی بھی مذہبی طبقے کے جذبات کو بھڑکانے والے بیانات دینے سے منع کیا گیا ہے۔اس کے باوجود آپ نے نہ صرف سوشل میڈیا میں قابل اعتراض بیانات دیئے، بلکہ یہ ویڈیو کلپ بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل کر دیا گیا جس کی وجہ سے حساس شہر میں مختلف برادریوں کے درمیان تنازع اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں خلل پڑنے کا خدشہ ہے۔



