بین ریاستی خبریںجرائم و حادثات

دو بچوں کی ماں نابالغ بھتیجے سے تعلقات کے الزام میں گرفتار، پوکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج

دو بچوں کی ماں نابالغ بھتیجے کے ساتھ رہنے پر اڑ گئی، حمل کا دعویٰ

علی گڑھ (اتر پردیش)، 24 جون :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اتر پردیش کے ضلع علی گڑھ میں ایک ایسا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے جس نے خاندانی رشتوں اور سماجی اقدار پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگلاس کوتوالی تھانہ علاقے کے ایک گاؤں میں دو بچوں کی ماں اور 40 سالہ شادی شدہ خاتون کو اپنے 17 سالہ نابالغ بھتیجے کے مبینہ جنسی استحصال کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے خاتون کے خلاف پوکسو ایکٹ سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے اسے عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا ہے۔

متاثرہ لڑکے اور اس کے اہل خانہ کے مطابق خاتون گزشتہ تقریباً ڈھائی برس سے نابالغ پر ذہنی دباؤ ڈال کر اس کے ساتھ تعلقات قائم کیے ہوئے تھی۔ لڑکے کا الزام ہے کہ خاتون اسے بار بار دھمکی دیتی تھی کہ اگر اس کی بات نہ مانی تو وہ اسے جھوٹے عصمت دری کے مقدمے میں پھنسا کر جیل بھجوا دے گی۔ خاندان کی عزت اور سماجی بدنامی کے خوف سے وہ طویل عرصے تک خاموش رہا اور کسی کو کچھ نہیں بتایا۔

اہل خانہ کے مطابق معاملہ اس وقت سنگین صورت اختیار کر گیا جب خاتون نے نابالغ پر شادی کرنے اور پوری زندگی اس کے ساتھ گزارنے کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔الزام ہے کہ خاتون نے نابالغ کے ساتھ متعدد بار جنسی زیادتی کی، جس کے نتیجے میں اس کی صحت متاثر ہوئی اور کمزوری کے باعث اسے اسپتال میں داخل کرانا پڑا۔ مسلسل دباؤ اور خوف کے باعث پریشان لڑکے نے آخرکار اپنی والدہ کو تمام حقیقت بتا دی۔ بیٹے کی بات سن کر خاندان کے افراد شدید صدمے میں آ گئے۔

معاملے کی خبر گاؤں میں پھیلتے ہی ہنگامہ برپا ہو گیا اور پولیس کی موجودگی میں پنچایت طلب کی گئی۔ پنچایت میں خاتون کے شوہر، رشتہ داروں اور گاؤں کے بزرگوں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔ بتایا جاتا ہے کہ شوہر نے تمام تر تنازع کے باوجود خاتون کو دوبارہ گھر لے جانے اور خاندان کے ساتھ رہنے کی پیشکش بھی کی، لیکن خاتون نے اس سے انکار کر دیا۔

پنچایت کے دوران خاتون نے سب کو حیران کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ ڈھائی ماہ کی حاملہ ہے اور اس کے بطن میں موجود بچے کا باپ یہی نابالغ بھتیجا ہے۔ اس بیان کے بعد پنچایت میں موجود افراد سکتے میں آ گئے۔ گاؤں کے بزرگوں اور خاندان کے افراد کی جانب سے بار بار سمجھانے کے باوجود خاتون اپنے مؤقف پر قائم رہی اور کہا کہ وہ آئندہ زندگی نابالغ کے ساتھ ہی گزارنا چاہتی ہے۔

ادھر متاثرہ لڑکے کی والدہ نے خاتون کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی۔ شکایت موصول ہونے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے نابالغ کو طبی معائنے کے لیے ضلعی اسپتال منتقل کر دیا۔ پولیس نے ملزمہ کو حراست میں لے کر اس کے خلاف پوکسو (POCSO) ایکٹ سمیت دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمات درج کیے۔ بعد ازاں اسے عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے ملزمہ کو جوڈیشل کسٹڈی میں جیل بھیج دیا۔

پولیس حکام کے مطابق معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button