بین ریاستی خبریں

ابھیشیک بنرجی کو بیرونِ ملک علاج کے لیے فوری اجازت نہ مل سکی، کلکتہ ہائی کورٹ نے سماعت پیر تک ملتوی کر دی

ابھیشیک بنرجی کی بیرونِ ملک علاج کی درخواست پر کلکتہ ہائی کورٹ میں سماعت

کولکاتا 24/جون :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ترنمول کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کی مشکلات میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ کلکتہ ہائی کورٹ نے طبی بنیادوں پر بیرونِ ملک سفر کی اجازت سے متعلق ان کی درخواست کی سماعت اگلے ہفتے پیر تک ملتوی کر دی ہے۔

ابھیشیک بنرجی اپنی آنکھ کے علاج کے لیے ایک ہفتے کے لیے بیرونِ ملک جانا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے عدالت سے اجازت طلب کی تھی اور اپنے وکیل کے ذریعے فوری سماعت کی درخواست بھی کی، تاہم عدالت نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے کی سماعت مقررہ فہرست کے مطابق ہی ہوگی۔

درخواست میں ابھیشیک بنرجی نے عدالت سے استدعا کی کہ سابقہ حکم میں نرمی کی جائے، جس کے تحت انہیں عدالت کی اجازت کے بغیر ملک چھوڑنے سے روکا گیا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ آنکھ کی چوٹ کے بہتر علاج کے لیے بیرونِ ملک سفر ضروری ہے۔

ابھیشیک بنرجی 2016 میں ایک سڑک حادثے کے بعد سے آنکھ کے مسائل کا شکار ہیں۔ مرشد آباد سے واپسی کے دوران سنگور کے قریب ان کی گاڑی حادثے کا شکار ہوئی تھی، جس میں ان کی بائیں آنکھ کے نیچے شدید چوٹ آئی اور آنکھ کی ہڈی متاثر ہوئی تھی۔

اس حادثے کے بعد وہ ملک اور بیرونِ ملک متعدد اسپتالوں میں علاج کروا چکے ہیں۔ علاج کے سلسلے میں وہ حیدرآباد، دبئی، سنگاپور اور امریکہ بھی جا چکے ہیں، جہاں ان کی آنکھ کے کئی آپریشن کیے گئے۔

دوسری جانب انتخابی مہم کے دوران مبینہ اشتعال انگیز تقاریر کے معاملے میں بھی ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔ عدالت نے شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے مزید تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

22 مئی کو عدالت نے انہیں 31 جولائی یا اگلے احکامات تک گرفتاری سے تحفظ فراہم کیا تھا، تاہم ساتھ ہی یہ شرط بھی عائد کی گئی تھی کہ بیرونِ ملک سفر سے قبل عدالت کی پیشگی اجازت حاصل کرنا لازمی ہوگا اور سفر سے کم از کم 48 گھنٹے قبل تفتیشی افسر کو مطلع کرنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button