
لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک بل 2026 پیش، اپوزیشن کے شدید ہنگامے کے باعث کارروائی ملتوی
لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک بل پیش کیے جانے کے دوران اپوزیشن ارکان کا احتجاج اور ایوان میں ہنگامہ۔
نئی دہلی | 27 جولائی (اردودنیانیوز/ایجنسیاں): پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران پیر کو حکومت نے لوک سبھا میں پبلک ایگزامینیشنز (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل، 2026 (Public Examinations (Prevention of Unfair Amendment Bill, 2026)،اینٹی پیپر لیک بل پیش کر دیا۔ تاہم اپوزیشن کی مسلسل نعرہ بازی اور احتجاج کے باعث اس اہم بل پر بحث نہ ہو سکی اور ایوان کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
مرکزی وزیر اور وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے یہ بل ایسے وقت میں ایوان میں پیش کیا جب اپوزیشن جماعتوں کے ارکان دہلی میں احتجاج کرنے والے طلبہ پر مبینہ پولیس کارروائی کے خلاف مسلسل احتجاج کر رہے تھے۔ حکومت بل پر فوری بحث چاہتی تھی، لیکن ایوان میں ہنگامہ آرائی کے سبب کارروائی آگے نہ بڑھ سکی۔
پارلیمنٹ میں پیر کی کارروائی کے آغاز سے ہی کشیدہ ماحول دیکھنے کو ملا۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں میں اپوزیشن نے احتجاجی طلبہ پر مبینہ لاٹھی چارج اور پولیس کارروائی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے جواب طلب کیا۔ شور شرابے کے باعث دونوں ایوانوں کی کارروائی کچھ ہی دیر بعد دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
جب دوپہر 12 بجے دونوں ایوانوں کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو بھی حالات معمول پر نہ آ سکے۔ لوک سبھا میں چیئر پر موجود دلیپ سیکیا نے ارکان کو بتایا کہ اسپیکر نے تحریکِ التوا کے کسی بھی نوٹس کو منظوری نہیں دی۔ اس اعلان کے ساتھ ہی اپوزیشن ارکان نے دوبارہ نعرے بازی شروع کر دی، جس سے ایوان میں ہنگامہ مزید بڑھ گیا۔
اینٹی پیپر لیک بل پیش کیے جانے سے قبل پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ امتحانات میں پیپر لیک روکنے کے لیے لائے گئے اس اہم بل پر بحث میں حصہ لے۔ انہوں نے کانگریس سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں سے کہا کہ یہ معاملہ لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے وابستہ ہے، اس لیے اسے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر زیر بحث لایا جانا چاہیے۔ تاہم ان کی اپیل کے باوجود اپوزیشن نے احتجاج جاری رکھا اور بل پیش ہونے کے فوراً بعد لوک سبھا کی کارروائی دوبارہ دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
راجیہ سبھا میں بھی اسی نوعیت کی صورت حال دیکھنے کو ملی۔ کانگریس کے ارکان نے کارروائی شروع ہوتے ہی احتجاج کرنے والے طلبہ پر مبینہ لاٹھی چارج کا معاملہ اٹھایا۔ کانگریس کے ڈپٹی لیڈر پرمود تیواری نے وزیر داخلہ امت شاہ سے اس معاملے پر جوابدہی کا مطالبہ کیا۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت نوک جھونک اور الزامات کے تبادلے کے بعد ایوان بالا کی کارروائی بھی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
پارلیمنٹ میں جاری کشیدگی کی بنیادی وجہ 20 جولائی کو نکالا گیا "چلو سنسد” مارچ ہے، جس میں مقابلہ جاتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے خلاف طلبہ نے احتجاج کیا تھا۔ اس دوران مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی تھیں، جس کے بعد اپوزیشن مسلسل حکومت کو نشانہ بنا رہی ہے۔
پیر کو اپوزیشن کے ارکان نے پارلیمنٹ کے باہر بھی احتجاج کیا اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے طلبہ پر مبینہ پولیس کارروائی کے حوالے سے جوابدہی کا مطالبہ دہرایا۔ اپوزیشن نے لوک سبھا میں تحریکِ التوا اور راجیہ سبھا میں کاروبار معطل کر کے اس معاملے پر فوری بحث کرانے کے نوٹس بھی جمع کرائے۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف طاقت کا استعمال غیر ضروری اور حد سے زیادہ تھا، اس لیے اس معاملے پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث ہونی چاہیے۔
ادھر، قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بھی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے طلبہ پر مبینہ پولیس کارروائی پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے جواب مانگتے ہوئے مطالبہ کیا کہ طلبہ پر مبینہ حملے کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔
ایوان میں ہنگامہ آرائی کے باوجود لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے دولت مشترکہ کھیلوں 2026 میں بھارت کے لیے پہلا طلائی تمغہ جیتنے والی ویٹ لفٹر میرابائی چانو کو مبارکباد پیش کی۔ چانو نے خواتین کے 48 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں سونے کا تمغہ حاصل کر کے ملک کا نام روشن کیا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اینٹی پیپر لیک بل کا مقصد عوامی امتحانات میں پیپر لیک، نقل اور دیگر غیر قانونی ذرائع کی روک تھام کے لیے موجودہ قانون کو مزید مؤثر بنانا ہے، تاہم اپوزیشن کے مسلسل احتجاج کے باعث اس اہم قانون پر باضابطہ بحث آئندہ اجلاس تک مؤخر ہو گئی۔



