میسی نے ’بشت‘ کو پہن کر مقبول کر دیا، اسٹور پر گاہکوں کا رش
فیفا ورلڈ کپ کے فائنل کے بعد جب فاتح ٹیم کے کپتان لیونل میسی کو قطر کے امیر نے کالا اور سنہری چوغہ پہنایا
Lionel Messi دبئی ، 21دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) اتوار کو فیفا ورلڈ کپ کے فائنل کے بعد جب فاتح ٹیم کے کپتان لیونل میسی کو قطر کے امیر نے کالا اور سنہری چوغہ پہنایا تو اس وقت وہاں موجود احمد السلیم شائقین میں کچھ زیادہ ہی پْرجوش دکھائی دیئے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ارجنٹائن کے کپتان کو پہنائے جانے والے گاؤن کو ’بشت‘ کہتے ہیں اور اس کی قیمت دو ہزار دو سو ڈالر ہے۔ یہ ایک روایتی عرب لباس ہے جس کو مرد اپنی شادی، گریجویشن یا پھر سرکاری تقاریب کے موقع پر پہنتے ہیں۔احمد السلیم کے نسبتاً زیادہ پرُجوش ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ یہ گاؤن انہی کی کمپنی نے تیار کیا تھا۔سلیم نے ارجنٹائن اور فرانس کے درمیان ہونے والا فائنل دوحہ میں اپنے اسٹور کے کیفے میں دیکھا جبکہ تھوڑی دیر قبل ہی انہوں نے ہاتھ سے بنے دو گاؤن ورلڈ کپ کے حکام کے حوالے کیے تھے۔ جن میں سے ایک لیونل میسی کے ناپ کا تھا جبکہ دوسرا فرانسیسی کپتان کے لیے تھا جو نسبتاً لمبا تھا۔
سلیم نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ یہ چوغے کن کے لیے خریدے گئے ہیں۔تاہم جب امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے میسی کو چوغہ پہنایا تو سلیم نے اپنی کمپی کا ٹیگ پہنچان لیا۔ جس کے بعد انہیں ایسا لگا کہ ایک ورلڈ کپ خود انہوں نے بھی جیت لیا ہے۔قطر کے شاہی خاندان کو بشت سپلائی کرنے والا السلیم سٹور عام طور پر ایک دن میں آٹھ سے 10 پیس فروخت کرتا ہے۔فائنل کے اگلے روز یعنی پیر کو یہ تعداد ڈیڑھ سو تک پہنچی۔سلیم کا کہنا تھا کہ ’میسی نے بشت کو مشہور بنا دیا ہے، اس روز ایک وقت ایسا بھی آیا جب درجنوں کی تعداد میں لوگ اسٹور کے باہر انتظار کر رہے تھے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق ارجنٹائن سے تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ بعدازاں انہیں سڑک پر بھی ایسے ارجنٹائن کے آٹھ شہری نظر آئے جو بشت پہنے اور ورلڈ کپ کی کاپی اٹھائے اپنا قومی گیت گاتے ہوئے جا رہے تھے۔جب سلیم اے ایف پی سے بات کر رہے تھے اس وقت بھی شائقین دکان میں داخل ہوئے اور میسی کو بشت پہنانے کو سراہتے ہوئے ایک اچھا اشارہ قرار دیا۔عرب دنیا میں سوشل میڈیا صارفین نے اس کا بھرپور خیرمقدم کیا تھا۔سلیم اور دیگر عرب افراد نے وضاحت کی کہ اس کا مقصد میسی کو ’تعظیم‘ دینا تھا، جس کو غلط معنی میں سمجھا گیا ۔



