
آسام میں 16 سالہ طالبہ سے مبینہ زیادتی کے بعد قتل، سابق بوائے فرینڈ سمیت 3 گرفتار، اہلِ خانہ کا سزائے موت کا مطالبہ
16 سالہ طالبہ کی لاش گھر سے برآمد ہوئی، سابق بوائے فرینڈ سمیت تین ملزمان گرفتار
گوہاٹی، 4 اگست (اردودنیا نیوز/ایجنسیاں): آسام کے ضلع ہائیلاکنڈی میں 16 سالہ طالبہ کے مبینہ زیادتی اور بہیمانہ قتل کے معاملے میں پولیس نے تین نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں مقتولہ کا سابق بوائے فرینڈ بھی شامل بتایا جا رہا ہے۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف بھارتیہ نیایا سنہتا (BNS) اور پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکسول آفینسز (POCSO) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
پولیس کے مطابق دسویں جماعت کی طالبہ کی لاش ہفتہ کی رات کٹلیچھرہ تھانے کے تحت آلوئی چھورا علاقے میں اس کے گھر سے برآمد ہوئی۔ اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد انتہائی بے رحمی سے قتل کیا گیا۔
ابتدائی تحقیقات میں پانچ نوجوانوں سے پوچھ گچھ کی گئی تھی، تاہم بعد ازاں 17 سے 19 سال کی عمر کے تین افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ ہائیلاکنڈی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس امیتاب سنہا نے بتایا کہ گرفتار ملزمان میں ایک کی عمر تقریباً ساڑھے 17 سال ہے اور جرم کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ اس پر بالغ ملزم کے طور پر مقدمہ چلایا جائے۔
پولیس کے مطابق مقتولہ اور گرفتار ملزمان میں سے ایک کے درمیان پہلے سے جان پہچان اور مبینہ تعلقات تھے، تاہم قتل کی اصل وجہ ابھی واضح نہیں ہو سکی اور مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔
تحقیقات کے مطابق واقعہ ہفتہ کی رات تقریباً 11 بجے پیش آیا، جب مقتولہ کا خاندان ایک قریبی رشتہ دار کے گھر دعوت میں شریک تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ لڑکی کسی بات پر اپنے کزن سے تلخ کلامی کے بعد اکیلی گھر واپس آ گئی تھی۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد اہلِ خانہ نے اسے مردہ حالت میں پایا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقتولہ کے جسم پر متعدد زخموں کے نشانات پائے گئے، جبکہ ابتدائی شواہد سے یہ بھی اشارہ ملا ہے کہ اس پر شدید تشدد کیا گیا۔ فرانزک ٹیم نے جائے وقوعہ سے مختلف نمونے اور دیگر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں، جن کا سائنسی تجزیہ جاری ہے۔
ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سمیر داپر بروآ نے بتایا کہ ملزمان کے خلاف بھارتیہ نیایا سنہتا کی دفعہ 65(1) (16 سال سے کم عمر لڑکی سے زیادتی) اور دفعہ 103(1) (قتل) کے علاوہ پوکسو ایکٹ کی دفعہ 6 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران مزید دفعات بھی شامل کی جا سکتی ہیں۔
تحقیقاتی ٹیم نے کئی موبائل فون ضبط کر لیے ہیں اور رابطوں کا ریکارڈ بھی کھنگالا جا رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آ سکتی ہیں۔
ایس ایس پی امیتاب سنہا نے بتایا کہ ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ ملزمان مقتولہ اور اس کے گھر کے ماحول سے واقف تھے اور ان کے درمیان پہلے سے رابطہ بھی موجود تھا، تاہم کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے قبل مکمل تفتیش ضروری ہے۔
پولیس نے عوام اور سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ کیس سے متعلق حساس معلومات یا متاثرہ لڑکی کی شناخت ظاہر کرنے والا مواد شیئر نہ کریں تاکہ تحقیقات متاثر نہ ہوں اور متاثرہ خاندان کی عزت و وقار محفوظ رہے۔
اس واقعے کے بعد آسام کی براک ویلی میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ ہائیلاکنڈی اور قریبی ضلع کاچھار میں احتجاجی مظاہرے، شمع بردار ریلیاں اور قومی شاہراہ نمبر 6 کی بندش سمیت مختلف احتجاجی سرگرمیاں جاری رہیں۔
متاثرہ خاندان اور مظاہرین نے ملزمان کو سزائے موت دینے، مقدمے کی فاسٹ ٹریک عدالت میں سماعت اور جلد از جلد انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس واقعے نے ریاست میں کم عمر لڑکیوں کے تحفظ سے متعلق ایک نئی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔



