
شادی کے 25 دن بعد دلہے کے ہوش اُڑ گئے، شریکِ حیات سے متعلق ایسا دعویٰ کہ پولیس بھی حرکت میں آ گئی
شریکِ حیات کی شناخت چھپانے کا الزام، 5 افراد کے خلاف مقدمہ
شاجاپور، 29 جولائی (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں): مدھیہ پردیش کے ضلع شاجاپور میں شادی کے بعد سامنے آنے والے ایک تنازع نے مقامی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے۔ ایک 32 سالہ شخص نے الزام لگایا ہے کہ شادی سے قبل اس کے شریکِ حیات کی جنس سے متعلق اہم معلومات اس سے اور اس کے اہلِ خانہ سے چھپائی گئیں۔ شکایت موصول ہونے پر پولیس نے شریکِ حیات کے خاندان کے پانچ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ شکایت میں کیے گئے دعوؤں کی تاحال طبی طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔
پولیس کے مطابق مدعی شاجاپور کا رہائشی اور پیشے کے اعتبار سے سبزی فروش ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ایک پڑوسی کے ذریعے اس کا رشتہ راج گڑھ ضلع کے پاچور علاقے کے ایک خاندان سے طے ہوا۔ اگرچہ اس کے اہلِ خانہ شادی آئندہ سال کرنا چاہتے تھے، لیکن دوسرے فریق کی درخواست پر 29 جون کو ایک مندر میں ہندو رسم و رواج کے مطابق شادی انجام دی گئی۔ مدعی کے مطابق شادی کی تقریبات پر تقریباً پانچ لاکھ روپے خرچ کیے گئے جبکہ ایک لاکھ روپے نقد بھی دوسرے فریق کو دیے گئے۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ شادی کی پہلی رات شریکِ حیات نے ماہواری کا عذر پیش کرتے ہوئے ازدواجی تعلق قائم کرنے سے گریز کیا، جبکہ اگلے روز پیٹ میں درد کی شکایت کی۔ بعد ازاں 2 جولائی کو وہ اپنے والدین کے گھر چلے گئی/گیا اور تقریباً تین ہفتوں بعد، 23 جولائی کو دوبارہ سسرال واپس آئی/آیا۔ مدعی کا کہنا ہے کہ واپسی کے بعد گھر کے افراد کو اس کے بعض معمولات پر شبہ ہوا۔
دلہے کے مطابق اس کی بھابھی نے مبینہ طور پر شریکِ حیات کو شیو کرتے ہوئے دیکھا، جس کے بعد خاندان کو شک ہوا کہ شادی سے قبل اصل شناخت کے بارے میں مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ اہلِ خانہ نے 24 جولائی کو شریکِ حیات کے رشتہ داروں کو بلا کر معاملہ حل کرنے کی کوشش کی، لیکن ان کے مطابق آنے والے افراد نے بات چیت کے بجائے بدتمیزی اور مبینہ مارپیٹ کی۔
اس واقعے کے بعد متاثرہ خاندان نے شاجاپور کوتوالی تھانے میں شکایت درج کرائی، جس کی بنیاد پر پولیس نے لکشمی نارائن، آزاد، راکیش، راجہ اور چندرو بائی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ پولیس مختلف پہلوؤں سے معاملے کی جانچ کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ انفرادی دھوکہ دہی کا معاملہ ہے یا اس کے پیچھے کسی منظم گروہ کا کردار موجود ہے۔
شاجاپور کوتوالی پولیس اسٹیشن کے انچارج سنتوش باگھیلا نے کہا کہ کسی بھی شخص کے ٹرانس جینڈر ہونے یا نہ ہونے کی تصدیق صرف طبی معائنے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹرانس جینڈر ہونا بذاتِ خود کوئی جرم نہیں، تاہم اگر تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ شادی کے وقت جان بوجھ کر شناخت یا دیگر اہم معلومات چھپائی گئیں اور اس کے ذریعے دھوکہ دہی کی گئی تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی تفتیش جاری ہے اور حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد ہی آئندہ قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔



