تلسی کے پتے ✍️حکیم محمد عدنان حبان نوادر بنگلور
تلسی کا پورا پودا ذیابطیس ٹائپ 2 کے مریضوں کے لئے شفا ہے جو ذیابیطس سے پیدا ہونے والی دوسری بیماریوں جیسے موٹاپا، بلند کولیسٹرال لیول، خون میں انسولین کی زیادتی اور ہائپر ٹینشن جیسی بیماریوں کو قابو میں رکھتا ہے
تلسی (Holy Basil) یا ریحان کے پودے کا شمار ان پودوں میں ہوتا ہے جسکی افادیت سے انسان اپنی ابتدا کے ساتھ ہی آگاہ کر دیا گیا تھا ایک روایت میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام بیمار ہوئے تو اللہ نے ان سے کہا کہ آپ ریحان کے پتے کھا لیں جو موسیٰ علیہ السلام نے کھائے اور ان کو شفا ہو گئی۔ طب یونان میں تلسی کا پودا بطور دوا استعمال ہونے کی تاریخ بھی کئی صدیاں قبل مسیح سے پرانی ہے اور اس پودے کو ہندو مت کے لوگ ہولی باسل کہتے ہیں اور کئی جگہ تو اس کی پوجا بھی کرتے ہیں اور اس کی وجہ شائد یہی ہے کہ یہ پودا انسان کے لئے بیشمار طبی فوائد اپنے اندر رکھتا ہے جو اسے زمین پر اگنے والے دوسرے پودوں سے ممتاز کرتا ہے۔
اس مضمون میں ہم تلسی کے پودے کے ان فوائد کا ذکر کریں گے جنہیں سائنس تسلیم کرتی ہے اور اپنی تحقیقات میں اس سے مختلف فائدہ مند نتائج حاصل کرچکی ہے۔سائنس کی بہت سی تحقیقات کے مطابق تلسی کا سارا پودا ہی یعنی پتے ٹہنیاں بیج پھول سب دافع امراض ہیں اور یہ پھیپھڑوں، ملیریا، ڈائریا، متلی، الٹی، جلد کی بیماریوں، معدے کے سرطان، آنکھوں کی بیماریوں اور جسم سے زہر ختم کرنے کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ جہاں اور کئی بیماریوں میں مفید ہے وہاں بیشمار نیوٹریشن خوبیوں کا حامل ہے جس میں وٹامن اے، وٹامن سی، کیلشیم، زنک، آئرن، کلوروفیل جیسے اہم نیوٹریشنز شامل ہیں۔سائنس تلسی کے پودے کے درجہ ذیل فوائد تسلیم کرچکی ہے۔
ذہنی تناؤ اور اضطراب میں مفید ہے
ذہنی تناؤ اور اضطراب موجودہ دور میں تیزی سے پھیلنے والی بیماریاں ہیں جن کا شکار بڑوں کے ساتھ ساتھ بچے بھی ہو رہے ہیں اور سائنس کے مطابق تلسی کے پتے شاخیں بیج یعنی پورا پودا ہی اڈاپٹوجن کیمیا سے بھرپور ہے اور یہ کیمیا ذہنی تناؤ اور دماغ کے افعال کو درست رکھنے میں اکسیر کا درجہ رکھتا ہے۔طب ایوردیک کے مطابق تلسی کے پودے میں اینٹی ڈپریشن اور اینٹی انگزائٹی خوبیاں شامل ہیں جو دماغ کو مشکلات سے لڑتے ہوئے پریشان نہیں ہونے دیتی اور پریشانی میں درست فیصلہ کرنے کی قوت دیتی ہیں۔
جسم کو قوت دیتا ہے اور فاضل مادوں کو خارج کرتا
تلسی اینٹی آکسائیڈینٹ خوبیوں سے بھر پور ہے اور جسم کو جہاں توانا رکھنے میں انتہائی مدد گار ہے وہاں یہ جسم کے اندر موجود فاضل اور نقصان دے مادوں کو خارج کر کے خون کو صاف کرتا ہے اور جسم کو کینسر جیسے موذی مرض سے بچا کر رکھتا ہے۔
جراثیموں کا خاتمہ کر کے زخم جلدی بھر دیتا ہے
تلسی کے پتوں کے ماحصل زخم جلدی بھرنے میں اکسیر کا درجہ رکھتے ہیں اور اس کے پتوں کے ماحصل اینٹی بیکٹریا، اینٹئی وائرل، اینٹی فنگل، اینٹی اینفلامیٹری، اور پین کلیر جیسی خوبیوں کے حامل ہیں۔
بہت سے لوگ میڈیکل آپریشن کے بعد ان پتوں کے ماحصل کا استعمال آپریشن کے زخموں کو جلد ٹھیک کرنے کے لئے بطور دوا استعمال کرتے ہیں میڈیکل سائنس کی تحقیقات کے مطابق تلسی کے پتے منہ کے السر سمیت زخم بھر کر نشان ختم کرنے میں بھی اکسیر کا درجہ رکھتے ہیں۔
خون میں شوگر کم کرتے ہیں
تلسی کا پورا پودا ذیابطیس ٹائپ 2 کے مریضوں کے لئے شفا ہے جو ذیابیطس سے پیدا ہونے والی دوسری بیماریوں جیسے موٹاپا، بلند کولیسٹرال لیول، خون میں انسولین کی زیادتی اور ہائپر ٹینشن جیسی بیماریوں کو قابو میں رکھتا ہے۔جانورں پر ہونے والی ایک تحقیق کے نتائج کے مطابق تلسی کے پتوں کے ایکسٹریٹ 30 دن استعمال کرنے سے خون میں شوگر کا لیول 24 فیصد تک کم دیکھا گیا۔
نوٹ: اگر آپ ذیابیطس کے مریض ہیں اور تلسی کو اپنی روزانہ کی خوراک میں شامل کرنا چاہتے ہیں اور شوگر کنٹرول کرنے کے لئے کوئی اور دوائی بھی استعمال کر رہے ہیں تو پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں کیوں کہ تلسی آپ کے خون میں شوگر لیول زیادہ کم کر سکتی ہے۔
کولیسٹرال کو کنٹرول کرتی ہے
کولیسٹرال کا بڑھا ہوا لیول جسم میں خطرناک دائمی بیماریوں جیسے دل کی بیماریاں، شوگر اور جگر کی خرابی جیسی بیماریوں کو دعوت دیتا ہے سائنس کی ایک تحقیق جو خرگوش پر کی گئی اور اسے تلسی کے تازہ پتے کھلائے گئے اور نتائج میں دیکھا گیا کے ان کے اندر برے کولیسٹرال کا خاتمہ ہوا اور اچھے کولیسٹرال میں نمایاں اضافہ ہوا۔ تلسی کا تیل بھی جگر پھیپڑوں اور دل کے اندر موجود برے کولیسٹرال کو ختم کرنے میں انتہائی مفید مانا جاتا ہے۔
جوڑوں کے درد اور سوزش کو ختم کرتا ہے
جوڑوں کا درد انسان کو اپاہج بنا دیتا ہے اور جسم اور اعضا کی سوزش جسم کو ناکارہ کر دیتی ہے ایسے موقع پر تلسی کے پتوں کا قہوہ ان امراض کو ختم کرنے کے لئے اکسیر مانا جاتا ہے اور سائنس اس بات کو تسلیم کرتی ہے کیونکہ سائنس کے مطابق تلسی میں اینٹی آکسائیڈینٹ خوبیوں کے ساتھ اینٹی اینفلامیٹری خوبیاں بھی شامل ہیں۔
معدے کی حفاظت کرتا ہے
نظام انہضام اور معدے کے لئے تلسی جادوئی خوبیوں کی حامل ہے یہ معدے سے تیزابیت کا خاتمہ کرتی ہے بلغم کو خارج کرتی ہے اور وہ ایلوپیتھی ادویات جو یہ کام کرتی ہیں کے بہت سے سائیڈ ایفیکٹس بھی ہوتے ہیں ایسے میں اگر تلسی کا استعمال کیا جائے تو یہ ان ادویات کے متبادل کے طور پر قدرتی طور پر شفاء کا باعث بنتا ہے۔
جلد کیلئے انتہائی مفید ہے
تلسی کا تیل بہترین سکن کلینزر مانا جاتا ہے جو جلد کے پوروں کی گہرائی تک صفائی کرتا ہے اور چہرے کے کیل مہاسوں کے لئے اگر تلسی کا تیل صندل کی لکڑی کی پیسٹ اور عرق گلاب میں ڈال کر چہرے پر لگایا جائے تو کیل مہاسوں کا بہت جلد خاتمہ ہوجاتا ہے کیونکہ سائنس کہتی ہے کہ تلسی اینٹی اینفلامیٹری اور اینٹی مائیکروبل خوبیوں کی حامل ہے جو جلد کو تروتازہ اوربیماریوں سے محفوظ رکھتی ہیں۔
جگر کو فعال اور طاقت دیتا ہے
تلسی کے پتوں کا قہوہ اور پتوں کے ایکسٹریٹ جگر میں جمی چربی کا خاتمہ کرنے میں انتہائی مفید ہے جو خون سے فاضل مادوں کو خارج کرتے ہیں اور جگر کو طاقت دیتے ہیں۔
طب یونانی کے مطابق تلسی اوپر دی گئی بیماریوں کے علاوہ بھی بیشمار دیگر خطرناک بیماریوں میں اکسیر ہے یہ جسم کا میٹابولیزم بڑھاتی ہے اور سانس کی گہرا کرتی ہے اور ایسے افراد جو تیراکی کرتے ہیں ان کا تیراکی کے دوران پانی کے نیچے رہنے کا وقفہ لمبا کرنے میں انتہائی مدد گار ہے یہ جسم کے ٹشوز کو خراب ہونے سے بچاتی ہے اور ڈپریشن خاص طور پر بلند آواز سے پیدا ہونے والی ڈپریشن کو قابو میں کرتی ہے یہ نیند کو بہتر کرتی ہے اور جسم کی تھکن کو اتارنے کیساتھ ساتھ بھولنے کی بیماری ختم کرتی ہے اور یاداشت کو بہتر بناتی ہے اور وہ بچے جو پڑھائی کرتے ہیں ان کو سبق یاد رکھنے میں انتہائی مفید ہے۔مْجھے امید ہے کہ تلسی کی اتنی ساری خوبیاں پڑھنے کے بعد آپ اسے اپنی روزانہ کی خوراک کا حصہ بنانا چاہیں گے اور اس کام کے لئے جہاں آپ بازار سے تلسی کے سپلیمنٹ خرید سکتے ہیں وہاں تلسی کے پودے کو اپنے گھر کے آنگن میں اگاکر گھر کے اندر بہترین خوشبو اور صاف ستھری فضا بھی حاصل کرسکتے ہیں اور اس کے پودے کو دیکھنا آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث بھی ہے۔٭



