مغربی بنگال کی ووٹر فہرست سے تقریباً 91 لاکھ نام خارج
ریاست میں ووٹرز کی تعداد تقریباً 7.66 کروڑ سے کم ہو کر 7.04 کروڑ رہ گئی۔
کولکاتا 07 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مغربی بنگال میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) عمل کے بعد انتخابی فہرستوں سے تقریباً 91 لاکھ ووٹرز کے نام خارج کر دیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق یہ بڑی سطح کی نظر ثانی گزشتہ سال نومبر سے جاری تھی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 28 فروری تک تقریباً 63.66 لاکھ نام، جو کل ووٹرز کا تقریباً 8.3 فیصد بنتے ہیں، فہرست سے حذف کیے جا چکے تھے۔ اس عمل کے بعد ریاست میں ووٹرز کی تعداد تقریباً 7.66 کروڑ سے کم ہو کر 7.04 کروڑ رہ گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق 60.06 لاکھ ووٹرز کو "زیر التوا جانچ” کے زمرے میں رکھا گیا تھا، جن میں سے 27.16 لاکھ نام عدالتی جانچ کے بعد خارج کیے گئے، جبکہ 32.68 لاکھ ووٹرز کو برقرار رکھتے ہوئے حتمی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔
الیکشن کمیشن کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق اس پورے عمل کو مرحلہ وار اور شفاف طریقے سے مکمل کیا گیا ہے اور ضلع وار تفصیلات عوام کے لیے جاری کر دی گئی ہیں تاکہ مکمل جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کچھ معاملات میں ابھی ای-دستخط اور دیگر رسمی کارروائیاں باقی ہیں، جن کی تکمیل کے بعد حذف اور شمولیت کے اعداد و شمار میں معمولی تبدیلی ممکن ہے۔
ادھر مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے ووٹر فہرست کو مقررہ ضوابط کے تحت منجمد کر دیا گیا ہے۔ ریاست کی 294 نشستوں میں سے 152 نشستوں پر 23 اپریل کو پہلے مرحلے میں ووٹنگ ہوگی، جبکہ باقی 142 نشستوں پر 29 اپریل کو دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق اب اس مرحلے پر ووٹر فہرست میں کسی نئے نام کا اضافہ ممکن نہیں ہے اور آئندہ کسی بھی تبدیلی کا انحصار عدالت عظمیٰ کی ہدایات پر ہوگا، جہاں اس معاملے کی سماعت 13 اپریل کو متوقع ہے۔



