بین ریاستی خبریںسرورق

بنگلورو کے 90 سے زائد اسپتالوں میں جعلی کینسر ادویات کی سپلائی، ریکٹ کا مبینہ سرغنہ گرفتار

90 سے زائد اسپتالوں تک جعلی کینسر ادویات پہنچنے کا شبہ

بنگلورو، 14 ستمبر (اردودنیانیوز/ایجنسیز)کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو میں جعلی ادویات کی سپلائی کے ایک بڑے نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے، جہاں کینسر سمیت سنگین بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی مشتبہ ادویات متعدد اسپتالوں اور کلینکس تک پہنچائے جانے کا الزام ہے۔ اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (SIT) اور ڈرگس کنٹرول محکمہ کی مشترکہ کارروائی میں ریکٹ کے مبینہ سرغنہ ویریش جین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ یہ نیٹ ورک شہر کے 90 سے زائد اسپتالوں اور طبی مراکز تک پھیلا ہوا ہوسکتا ہے۔

تحقیقاتی ٹیم نے خفیہ اطلاع ملنے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے جعلی ادویات کا بڑا ذخیرہ ضبط کیا تھا۔ ضبط شدہ ادویات اور دستاویزات کی جانچ کے دوران کرپا ہیلتھ کیئر نامی فارمیسی کے مالک ویریش جین کا نام سامنے آیا، جس کے بعد اسے گرفتار کیا گیا۔ تفتیش کار اب اس کے مبینہ ساتھیوں اور اس نیٹ ورک سے وابستہ دیگر افراد کے کردار کی بھی جانچ کررہے ہیں۔

تحقیقات کے مطابق پرشانت نامی ایک شخص کو ابتدائی طور پر اس ریکٹ کا اہم آپریٹر سمجھا جارہا تھا، تاہم مزید معلومات سامنے آنے کے بعد ویریش جین کا کردار زیادہ اہم پایا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ ویریش جین نے فارماسیوٹیکل شعبے میں قدم رکھنے سے پہلے میڈیکل ریپریزنٹیٹو کے طور پر کام کیا تھا۔ بعد میں اس نے اپنی فارماسیوٹیکل کمپنی قائم کی اور مبینہ طور پر اپنے پیشہ ورانہ روابط کا استعمال کرتے ہوئے ادویات کی سپلائی کا دائرہ وسیع کیا۔

SIT کو شبہ ہے کہ جعلی ادویات بنگلورو کے 90 سے زائد اسپتالوں اور کلینکس کو فراہم کی گئی تھیں، جبکہ بعض معلومات کے مطابق اس نیٹ ورک کا دائرہ 100 سے زیادہ ہیلتھ کیئر مراکز تک ہوسکتا ہے۔ تفتیش کار اس بات کی بھی جانچ کررہے ہیں کہ کن اسپتالوں اور کلینکس میں یہ ادویات استعمال یا سپلائی کی گئیں اور ان کے ذریعے کتنے مریض متاثر ہوسکتے ہیں۔

تحقیق کا ایک اہم پہلو کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات ہیں۔ حکام جعلی کینسر ادویات کے علاوہ زندگی بچانے والی دواؤں اور آئی سی یو میں استعمال ہونے والے انجیکشنز کی مبینہ سپلائی کی بھی جانچ کررہے ہیں۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو معاملہ مریضوں کی زندگی سے جڑے ایک انتہائی سنگین معاملے کے طور پر سامنے آسکتا ہے۔

تحقیقاتی حکام کے مطابق مبینہ نیٹ ورک اسپتالوں اور کلینکس کو ادویات تقریباً 50 فیصد رعایت پر فراہم کرتا تھا۔ تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ کم قیمت پر ادویات کی پیشکش کے ذریعے طبی اداروں کو اپنی طرف متوجہ کیا جاتا تھا۔ اب SIT اس بات کا سراغ لگانے کی کوشش کررہی ہے کہ یہ ادویات کہاں سے حاصل کی جاتی تھیں، ان کی اصل تیاری کہاں ہوئی اور سپلائی کے پورے عمل میں کون کون افراد شامل تھے۔

ویریش جین اس وقت پراپنا اگراہارا سنٹرل جیل میں قید ہے۔ امکان ہے کہ SIT مزید پوچھ گچھ کے لیے اس کی تحویل حاصل کرنے کی درخواست کرے گی۔ تفتیش کے دوران اس سے مبینہ جعلی ادویات کی تیاری یا حصول، اسپتالوں اور کلینکس کو کی گئی سپلائی، مالی لین دین اور نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کے بارے میں معلومات حاصل کی جائیں گی۔

تحقیقاتی ٹیم اس بات کا بھی پتہ لگارہی ہے کہ مبینہ ریکٹ کتنے عرصے سے سرگرم تھا اور اس کے ذریعے کتنی مالیت کی ادویات مختلف طبی مراکز تک پہنچائی گئیں۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد کرناٹک کے محکمہ صحت میں تشویش پیدا ہوگئی ہے اور متعلقہ حکام کی جانب سے بھی ادویات کی سپلائی اور معیار سے متعلق ریکارڈ کی جانچ کی جارہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button