گجرات : بی جے پی سے بغاوت،قبائلی رہنما کانگریس کی صف میں شامل
قبائلی قیادت کی بغاوت نے بی جے پی کو مشکل میں ڈال دیا
نئی دہلی 09 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) بھارتیہ جنتا پارٹی کو گجرات میں ایک بڑا سیاسی جھٹکا اس وقت لگا جب ضلع داہود کے کئی سرکردہ قبائلی رہنماؤں نے پارٹی سے استعفیٰ دے کر کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی۔ اس پیش رفت کو ریاست میں بدلتے سیاسی رجحانات اور قبائلی علاقوں میں بڑھتی ناراضگی کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
داہود میں بی جے پی کے کئی سینئر قبائلی لیڈروں، جن میں ضلع پنچایت ممبر مہیش بھائی مچھر اور سابق سرپنچ جینتی بھائی شامل ہیں، نے راجیو گاندھی بھون میں باضابطہ طور پر کانگریس کا دامن تھام لیا۔ پارٹی چھوڑنے والے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ طویل عرصے سے قبائلی مسائل پر حکومتی پالیسیوں سے غیر مطمئن تھے۔
کانگریس میں شامل ہونے والے مہیش بھائی مچھر نے بی جے پی حکومت پر الزام لگایا کہ بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے اور قبائلی برادری کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اب کانگریس کے پلیٹ فارم سے اپنی برادری کے حقوق کے لیے جدوجہد کریں گے۔
کانگریس کے میڈیا کوآرڈینیٹر ڈاکٹر منیش دوشی نے بھی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی برادری کو جنگلاتی حقوق، تعلیم اور روزگار جیسے بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ انہوں نے داہود میں قبائلی سب پلان فنڈ میں مبینہ بے ضابطگیوں اور چھوٹا ادے پور میں فرضی دفاتر جیسے مسائل کو بھی اجاگر کیا۔
دوسری جانب نوساری میں کانگریس نے اپنی عوامی وابستگی کی دستاویز جاری کی، جسے عوامی منشور قرار دیا جا رہا ہے۔ اس دستاویز میں مقامی سطح پر احتساب بڑھانے، سڑکوں کی تعمیر پر جنتا آڈٹ، اسکولوں کی جدید کاری، وارڈ سطح پر 24 گھنٹے صحت مراکز اور خواتین کے لیے مفت سٹی بس سروس جیسے وعدے شامل ہیں۔
داہود میں قبائلی قیادت کے ساتھ اتحاد اور نوساری میں عوامی مسائل پر توجہ کے ذریعے کانگریس خود کو ایک مضبوط متبادل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان حالات کے پیش نظر گجرات میں آنے والے دنوں میں سیاسی مقابلہ مزید سخت اور دلچسپ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔



