نئی دہلی 27 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) تعلیمی ٹیکنالوجی کمپنی Byju’s کے بانی بیجو رویندرن کو سنگاپور کی ایک عدالت نے توہین عدالت کے معاملہ میں 6 ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق عدالت نے انہیں حکام کے سامنے خودسپردگی کرنے، 90 ہزار سنگاپوری ڈالر قانونی اخراجات ادا کرنے اور اپنی کمپنی “بییار انویسٹکو پرائیویٹ لمیٹڈ” سے متعلق ملکیتی دستاویزات پیش کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی ان عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے کے سبب کی گئی جن کا تعلق ان کے اثاثوں اور سرمایہ کاری سے تھا۔ مذکورہ کمپنی ایک متعلقہ ادارہ میں حصص کی مالک بتائی گئی ہے۔
بیجو رویندرن پہلے ہی مختلف ممالک میں سرمایہ کاروں اور قرض دہندگان کی قانونی جانچ کا سامنا کر رہے ہیں۔ امریکہ میں بھی قرض دہندگان 1.2 ارب ڈالر کے متنازع قرض سے متعلق اپنے نقصانات کی وصولی کی کوشش کر رہے ہیں۔
سنگاپور میں یہ قانونی کارروائی قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی کے ایک ذیلی ادارہ کی جانب سے شروع کی گئی، جس نے اس وقت بائی جوز میں سرمایہ کاری کی تھی جب کمپنی ملازمین کی تعداد کم کرنے اور تنظیم نو کے مرحلہ سے گزر رہی تھی۔
اس معاملہ میں قطر ہولڈنگس کی نمائندگی ڈریو اینڈ نیپئر لاء فرم نے کی جبکہ بائی جوز انویسٹمنٹس کی جانب سے فروینٹ چیمبرز پیش ہوئی۔
یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دسمبر 2025 میں امریکی ریاست ڈیلاویئر کی عدالت نے بیجو رویندرن کے خلاف ایک ارب ڈالر کے اپنے سابقہ فیصلے کو نئے شواہد کی بنیاد پر واپس لے لیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ نقصانات کا درست تعین نہیں کیا گیا اور اس سلسلہ میں مزید کارروائی کی ضرورت ہے۔
بیجو رویندرن کی قانونی ٹیم نے الزام عائد کیا تھا کہ جی ایل اے ایس ٹرسٹ اور قرض دہندگان نے مقدمہ کے دوران اہم معلومات چھپائیں یا غلط انداز میں پیش کیں، جس کے سبب کمپنی کو شدید نقصان پہنچا اور اس کی مالیت متاثر ہوئی۔
عدالتی فیصلے کے بعد جاری بیان میں بیجو رویندرن نے کہا کہ قرض دہندگان، جی ایل اے ایس ٹرسٹ، قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی اور دیگر فریقین کے ساتھ تصفیہ کی بات چیت آخری مرحلہ میں ہے اور صرف چند معمولی امور باقی رہ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ سنگاپور عدالت کے حالیہ معاملہ کو اس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے جس سے ان کے بارے میں غلط تاثر پیدا ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق تصفیہ مذاکرات میں شامل فریقین اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں کہ ان یا دیگر بانیوں کی جانب سے کوئی غلط کام نہیں ہوا۔
بیجو رویندرن نے مزید کہا کہ انہوں نے حالیہ مہینوں میں کئی عدالتی کارروائیوں میں جارحانہ انداز اختیار نہیں کیا کیونکہ تمام فریق جامع تصفیہ کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کے بقول انہوں نے “تصادم کے بجائے مفاہمت” کو ترجیح دی۔



