’’ بلی ‘‘ والے الجزائری شیخ کی نماز ہوئی یا نہیں؟ لوگوں میں ابہام، فتویٰ آگیا
تراویح کے دوران بلی چومنے کے منظر نے دنیا بھر میں ایک ہنگامہ برپا کر دیا
قاہرہ ،8پریل :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)الجزائر کے شیخ ولید مھساس کے کندھے پر بلی کے آجانے اور نماز تراویح کے دوران انہیں چومنے کے منظر نے دنیا بھر میں ایک ہنگامہ برپا کر دیا۔عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس واقعہ کو لطف لے کر بیان کیا گیا۔ سوشل میڈیا صارفین کے ایک بڑے طبقے نے واقعہ ویڈیو میں دلچسپی لی۔ ایک روز گزرنے کے بعد بھی سوشل میڈیا پر اس واقعہ پر تبصرے جاری رہے۔ خاص طور پر شیخ ولید مھساس کے رویے کی تعریف بھی کی گئی۔ امام کی ثابت قدمی، سکون اور ہلے جلے بغیر تلاوت جاری رکھنے کو سراہا جا رہا ہے۔اس واقعہ کا جہاں دنیا بھر میں خوب چرچا ہوا ہے وہیں اس ویڈیو کو دیکھ کر لوگوں کے ذہن میں سوالات بھی پیدا ہو رہے ہیں کہ بلی کے امام صاحب پر چڑھ دوڑنے اور انہیں چاٹنے اور امام صاحب کے بلی کو پیار کرنے کے باوجود کیا نماز درست ہو جائے گی؟
یہ سوال بھی شد ومد کے ساتھ اٹھایا جا رہا اور لوگوں کے ذہنوں میں گردش کر رہا ہے کہ بلی کے جسم کو چھونے کے بعد شیخ ولید مھساس کا وضو ٹوٹ تو نہیں گیا تھا۔اس حوالے سے اب مصری دارالافتا نے قاھرہ کی ویب سائٹ ’’ 24 ‘‘ کو بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ جمہور فقہا کے نزدیک گھریلو بلیاں خالص ایسے جانور ہیں جن کو پالنا اور انہیں اپنی ملکیت میں رکھنا جائز ہوتا ہے۔مصری دار الافتا نے بلیوں کی پاکیزگی کا اندازہ احادیث مبارکہ کی معروف سنن اربعہ یعنی ترمذی، ابو داؤد ، ابن ماجہ اور نسائی چار کتابوں میں ذکر اس حدیث شریف سے بھی لگایا جس میں کبشہ بنت کعب بن مالک سے روایت ہے کہ وہ ابن ابی قتادہ کے ساتھ تھیں۔
اللہ تعالیٰ ان سے راضی رہے کہ ابو قتادہ ان کے پاس آئے، کبشہ نے کہا، تو میں نے ان کے لیے وضو کا پانی تیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پھر ایک بلی پینے آئی تو انہوں نے پیالے اس کی طرف کر دیا، یہاں تک کہ بلی نے پیالے سے پانی پیا۔ انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں ان کی طرف متوجہ ہوں تو انہوں نے کہا اے بھتیجی آپ کو تعجب ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاں یہ (بلی ) نجس نہیں ہے۔ یہ تو ان جانوروں میں سے ہے جو تمہارے گھروں میں بکثرت آتے جاتے ہیں۔اسی حدیث مبارکہ کی بنیاد پر فقہ کی کتابوں میں درج ہے کہ بلی کا جھوٹا ناپاک نہیں ہوتا کیونکہ یہ بکثرت گھروں میں آنے جانے والا جانور ہے اور اس سے بچنا مشکل ہوتا ہے۔اس حوالے سے ویڈیو دیکھنے والوں نے یہ سوالات بھی اٹھائے ہیں کہ دوران نماز بلی کو پیار کرنے سے نماز ٹوٹ تو نہیں گئی۔
The moment when a cat jumps on the Imam leading prayers in Algeria…
Imam Walid Mehsas was praying Taraweeh, a nightly prayer occurring every evening during Ramadan, when a cat jumped on him & climbed on his shoulders.
For #Caturday, a thread on cats in Islam & Muslim culture… pic.twitter.com/ZcmeMUR4RI
— Bayt Al Fann (@BaytAlFann) April 8, 2023
اس حوالے سے علما کرام کا کہنا ہے کہ نماز کے دوران نماز کے منافی کوئی کام اس حد تک کیا جائے کہ اس پر ’’عمل کثیر‘‘ کا اطلاق ہو جائے تو نماز ٹوٹ جائے گی۔فقہ کی کتابوں میں عمل کثیر کے تعین کی مختلف صورتیں درج ہیں۔ اس حوالے سے مختلف اقوال بیان کیے جاتے ہیں۔اب واضح ہے کہ بلی والے شیخ ولید مھساس کا عمل ایسا نہیں تھا جسے ’’عمل کثیر‘‘ قرار دیا جائے۔ لہٰذا یہ نماز اس حوالے سے بھی درست قرار پائی جاتی ہے۔یاد رہے ایک روز قبل الجزائر کے قاری ولید مھساس کا یہ ویڈیو کلپ بڑے پیمانے پر وائرل ہوا تھا جس میں ایک بلی محراب میں داخل ہو گئی اور چھلانگ لگا کر تلاوت کرنے والے قاری ولید مھساس کے ہاتھوں پر اور پر کندھے پر چڑھ گئی۔ تلاوت کے دوران بلی نے قاری ولید کو چوما بھی۔ اس ویڈیو کے سوشل میڈیا پر پھیلنے کے بعد لوگوں نے قاری ولید مھساس کے بلی کے آنے کے باوجود نماز میں مشغول رہنے کی تعریف کی ہے۔



