سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

بچے کیا سیکھ رہے ہیں؟ چھٹی، فالوورز اور پیسے سے آگے تعلیم و تربیت کی اصل اہمیت

✍️ڈاکٹر محمد مصطفیٰ علی سروری

رات کے گیارہ بجے کا وقت ہو چکا تھا۔ ریاست آندھرا پردیش کے ضلع اننامایا کے گیرمپلی گاؤں میں واقع ایک بوائز ہاسٹل میں بچے رات کا کھانا کھانے کے بعد اپنے بستروں پر جا چکے تھے۔ بہت سے بچے گہری نیند سو رہے تھے، لیکن آٹھویں جماعت کے دو طلبہ ابھی تک سوئے نہیں تھے۔ وہ سونے کا ناٹک کر رہے تھے اور انتظار کر رہے تھے کہ جب ہاسٹل کے باقی بچے سو جائیں گے تو وہ اٹھیں گے اور اپنا ’’خاص کام‘‘ کریں گے۔

خیر، قارئین! وہ خاص کام کیا تھا جسے انجام دینے کے لیے تیرہ اور چودہ برس کے ان نابالغ لڑکوں نے منصوبہ بنا رکھا تھا؟

حیدرآباد شہر سے تقریباً پانچ سو بیس کلومیٹر دور آندھرا پردیش کے سابق ضلع کڑپہ میں واقع گیرمپلی گورنمنٹ ریزیڈینشل اسکول میں پانچویں سے دسویں جماعت تک کے طلبہ کو داخلہ دیا جاتا ہے۔ ہر کلاس کے دو سیکشن ہیں اور ہر سیکشن میں تقریباً اسی بچے پڑھتے ہیں۔ اسکول میں چار سو چالیس طلباء اور تقریباً سترہ اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔

آٹھویں جماعت کے یہ دونوں طلبہ دراصل گنیش چتورتھی کے موقع پر ملنے والی چھٹیوں سے ناخوش تھے۔ انہیں گنیش فیسٹیول کے موقع پر اسکول سے صرف ایک دن کی چھٹی مل رہی تھی، جبکہ وہ چاہتے تھے کہ انہیں تین سے چار دن کی چھٹی دی جائے۔

لیکن، قارئین! خطرناک بات یہ نہیں تھی کہ ان بچوں کو چھٹیوں میں اضافہ چاہیے تھا۔ خطرناک بات یہ تھی کہ یہ نابالغ بچے اپنی چھٹیوں میں اضافہ کے لیے اپنی ہی جماعت کے ایک دوسرے طالب علم کی جان لینے پر آمادہ ہو گئے تھے۔

جی ہاں! معاملہ کچھ ایسا ہی تھا۔

چار ستمبر 2026 کی رات آٹھویں جماعت کے ان دونوں طلبہ نے رات کے اندھیرے میں اٹھ کر اپنی ہی کلاس کے ایک طالب علم کے منہ پر تکیہ رکھ دیا اور اس کا منہ دبا کر اسے قتل کرنے کی کوشش کی۔ جب دونوں نے اپنے ساتھی طالب علم کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی تو عین اسی وقت وہ لڑکا نیند سے بیدار ہو گیا اور اپنی جان بچانے کے لیے چیخنے اور چلانے لگا۔

اس کی آواز سن کر ہاسٹل کے وارڈن اور دیگر طلبہ بھی بیدار ہو گئے۔ فوری طور پر دونوں حملہ آور طلبہ کو پکڑ لیا گیا اور یوں اس بچے کی جان بچ گئی جسے اس کے اپنے ہی ہم جماعت قتل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

اخبار ’’انڈین ایکسپریس‘‘ نے 10 ستمبر 2026 کو اس واقع کی رپورٹ شائع کرتے ہوئے سرخی لگائی: They wanted more holidays, so they tried to kill a classmate۔

اخباری رپورٹ کے مطابق ہاسٹل میں پیش آنے والے اس واقعہ کو اسکول کے اساتذہ اور انتظامیہ نے تقریباً ایک ہفتے تک چھپانے کی کوشش کی، لیکن یہ بات کسی نہ کسی طرح مقامی لوگوں تک پہنچ گئی۔ اس کے بعد منڈل ایجوکیشن آفیسر نے اسکول پہنچ کر تحقیقات شروع کیں۔ تحقیقات کے بعد 9 ستمبر کو دونوں نابالغ ملزمین کو اسکول سے ٹی سی دے کر نکال دیا گیا۔

تلگو اخبارات نے اس واقعہ کو بچوں کی بدلتی ہوئی سوچ کے حوالے سے ایک انتباہ قرار دیا۔ سوال یہ ہے کہ آخر تیرہ اور چودہ برس کے بچوں کے ذہن میں یہ خیال کیسے پیدا ہوا کہ اگر کوئی طالب علم مر جائے تو اسکول بند ہو سکتا ہے اور انہیں چھٹی مل سکتی ہے؟

یہ واقعہ محض کسی ایک سرکاری ریزیڈینشل اسکول میں نظم و ضبط کی خرابی کی نشاندہی نہیں کرتا بلکہ یہ بچوں کی ذہنی ساخت، اخلاقی تربیت اور ان کے سماجی ماحول کے بارے میں کئی اہم سوالات اٹھاتا ہے۔

بچوں میں کسی کے مرنے کے نتیجے میں چھٹی ملنے کی سوچ اگر اس حد تک جڑ پکڑ لے کہ کوئی بچہ چھٹی حاصل کرنے کے لیے دوسرے بچے کی جان لینے کا منصوبہ بنانے لگے تو ہمیں رک کر سوچنا ہوگا کہ ہم نے اپنے بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں اور کیا نہیں سکھا سکے؟

بچوں کی تربیت صرف ٹیچر اور اسکول کی ذمہ داری نہیں ہے۔ والدین اپنی اس بنیادی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ والدین اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ بچوں کو اچھا کھانا کھلا دینا، اچھے کپڑے پہنا دینا، انہیں بہترین اسکول میں داخل کرا دینا یا ان کی دیگر ضروریات پوری کر دینا ہی ان کی ذمہ داری ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بچے کو اچھا انسان بنانا اس سے کہیں بڑی ذمہ داری ہے۔

بچے کی سوچ، اس کے رویے، اس کی دوستیوں، اس کی ترجیحات اور اس کے جذبات پر نظر رکھنا بھی والدین کی ذمہ داری ہے۔ اگر کوئی بچہ بات بات پر شدید ضد کرے، چڑچڑا پن دکھائے، دوسروں کے دکھ اور تکلیف سے بے حس نظر آئے یا غلط طریقے سے اپنی بات منوانے کی کوشش کرے تو اسے معمولی بات سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

بچوں کو یہ بات بھی واضح طور پر سکھانا ضروری ہے کہ کسی دوسرے انسان کو نقصان پہنچا کر یا کسی دوسرے کے لیے خطرہ پیدا کرکے اپنا فائدہ حاصل کرنا کبھی درست نہیں ہو سکتا۔ انسانی زندگی کی اہمیت، ہمدردی، بھائی چارہ، برداشت، صبر اور دوسروں کے حقوق کا احترام بچوں کی تربیت کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔

بچوں کی نفسیات کے ماہرین بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بچوں کو اپنے مسائل، پریشانیوں اور اسکول یا گھر سے متعلق شکایات بیان کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ اکثر بچے اپنی بات صحیح انداز میں بیان نہیں کر پاتے۔ اگر ان کے پاس اپنی بات کہنے اور اپنے مسائل بیان کرنے کا کوئی محفوظ راستہ نہ ہو تو بعض اوقات وہ انتہائی غلط اور غیر معقول قدم اٹھا سکتے ہیں۔

اسی طرح اساتذہ اور سرپرستوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ میں صحت مند روایات کو فروغ دیں۔ کسی طالب علم کے انتقال پر اسکول کا بند ہونا ایک رسمی عمل اور غم کے اظہار کا طریقہ ہو سکتا ہے، لیکن بچوں کو یہ بھی سمجھانا ضروری ہے کہ کسی انسان کی موت ’’چھٹی حاصل کرنے کا ذریعہ‘‘ نہیں ہے۔ اگر بچے کسی ایسے واقع سے غلط نتیجہ اخذ کر رہے ہیں تو اس غلط فہمی کو دور کرنا بھی بڑوں ہی کی ذمہ داری ہے۔

یہی مسئلہ ہمیں پڑوسی ملک پاکستان کے شہر گوجرانوالہ سے سامنے آنے والے ایک دوسرے افسوس ناک واقعہ کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے۔

جب ماں باپ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت سے زیادہ اس بات پر خوش ہونے لگیں کہ ان کے بچے بغیر تعلیم کے کم عمری میں ہی پیسے کمانا شروع کر دیں تو گوجرانوالہ کا یہ واقعہ ہمیں خبردار کرتا ہے کہ بچوں کے لیے تعلیم اور اچھی تربیت، محض کمائی شروع کر دینے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔

گوجرانوالہ کے خالد محمود، جو پیشے کے اعتبار سے ڈرائیور ہیں، کی سات اولادیں ہیں، جن میں چھ بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہے۔ خالد محمود نے پولیس میں شکایت درج کروائی۔ اپنی شکایت میں انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے گھر کی نچلی منزل پر کام کر رہے تھے کہ انہیں اوپر سے آوازیں سنائی دیں۔ وہ دوڑ کر اوپر گئے تو دیکھا کہ ان کی دوسری بیٹی خون میں لت پت پڑی ہے، جبکہ ان کی بڑی بیٹی ہاتھ میں چاقو لیے کھڑی ہے۔

خالد محمود اپنی زخمی بیٹی کو فوری طور پر دواخانے لے گئے، لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔

شکایت کنندہ خالد محمود کے مطابق دونوں بیٹیوں کے درمیان مالی معاملات کو لے کر جھگڑا ہوا تھا۔ گوجرانوالہ پولیس کے حوالے سے بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق دونوں بہنیں ٹک ٹاک پر ویڈیوز بنایا کرتی تھیں اور ان ویڈیوز کے ذریعہ خوب آمدنی بھی کما رہی تھیں۔ ٹک ٹاک سے حاصل ہونے والی آمدنی کو لے کر دونوں بہنوں کے درمیان اختلاف پیدا ہوا۔ بڑی بہن کو شکایت تھی کہ چھوٹی بہن نے اس کے فالوورز کو اپنے فالوورز میں شامل کر لیا ہے۔

ایک طرف آندھرا پردیش کے کم عمر بچے زیادہ چھٹی حاصل کرنے کے لیے ایک طالب علم کی جان لینے کا منصوبہ بناتے ہیں اور دوسری طرف گوجرانوالہ میں سوشل میڈیا کے فالوورز اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی دو بہنوں کے درمیان ایسی کشیدگی کا سبب بنتی ہے جس کا اختتام ایک لڑکی کی موت پر ہوتا ہے۔

یہ واقعات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کہیں ہم اپنے بچوں کو تعلیم، شعور اور اخلاق دینے کے بجائے صرف شہرت، پیسے اور سہولتوں کے پیچھے تو نہیں لگا رہے؟

اگر بچے کم عمری میں پیسے کمانا شروع کر دیں، لیکن انہیں یہ نہ سکھایا جائے کہ پیسے سے زیادہ قیمتی انسان کی جان، عزت، کردار اور رشتے ہیں، تو ایسی کمائی کس کام کی؟

یہاں قارئین! مہاراشٹر سے سامنے آنے والی ایک خبر کا ذکر بھی نہایت مناسب معلوم ہوتا ہے۔ یہ خبر ہمیں اسی موضوع کا ایک بالکل مختلف اور امید افزا پہلو دکھاتی ہے۔

29 اگست کو مہاراشٹر کے بیڑ ضلع کے امباجوگی میں رہنے والی 47 سالہ رما بائی کی کہانی سامنے آئی۔ رما بائی نے ننگے پاؤں تین کلومیٹر کی دوڑ جیت لی۔ لیکن یہ کہانی صرف ایک خاتون کی ریس جیتنے کی کہانی نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی ماں کی کہانی ہے جو اپنی بیٹیوں کی تعلیم کے لیے زندگی بھر دوڑتی رہی۔

29 اگست کو امباجوگی میں امرت میراتھن دوڑ کا انعقاد کیا گیا تھا۔ رما بائی کے لیے تین کلومیٹر کی یہ دوڑ آسان نہیں تھی۔ دوڑتے ہوئے ان کے جوتے بار بار پاؤں سے نکل جاتے تھے۔ آخرکار انہوں نے اپنے جوتے ہاتھ میں اٹھائے اور ننگے پاؤں دوڑنا شروع کر دیا۔

مقابلہ ختم ہوا تو دنیا نے دیکھا کہ 47 سالہ رما بائی پہلی پوزیشن حاصل کر چکی ہیں۔ انہیں تین ہزار روپے نقد انعام دیا گیا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اس رقم کا کیا کریں گی تو ان کا جواب اس پوری کہانی کا سب سے خوب صورت حصہ بن گیا۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ وہ یہ تین ہزار روپے اپنی بیٹی کے لیے کتابیں خریدنے پر خرچ کریں گی۔

کتنی عجیب بات ہے!

ایک طرف چند بچے چھٹی اور چند فالوورز کے لیے دوسرے انسان کی زندگی کو معمولی سمجھنے لگتے ہیں اور دوسری طرف ایک 47 سالہ ماں تین ہزار روپے کے انعام کو بھی اپنی بیٹی کی کتابوں کے لیے وقف کر دیتی ہے۔

2012 میں رما بائی کے شوہر کا انتقال ہو گیا تھا اور اس کے بعد ان کی زندگی کی اصل دوڑ شروع ہوئی۔ دو جوان بیٹیوں اور پورے خاندان کی ذمہ داری ان کے کندھوں پر آ گئی۔ رما بائی نے خود ساتویں جماعت تک تعلیم حاصل کی تھی، لیکن شوہر کے انتقال کے بعد انہیں یہ احساس ہوا کہ اگر وہ اپنی بچیوں کی زندگی کو محفوظ بنانا اور ان کا مستقبل سنوارنا چاہتی ہیں تو تعلیم ہی اس کا سب سے مضبوط راستہ ہے۔

ان کی بیٹی پوجا رنویر نے بتایا کہ وہ بہت چھوٹی تھیں جب ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ ان کے مطابق ان کی والدہ چاہتیں تو دوسری شادی کر سکتی تھیں، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ اپنی پوری زندگی اپنی بیٹیوں کے لیے وقف کرنے کا فیصلہ کیا۔

رما بائی کہتی ہیں کہ انہوں نے وہ ہر کام کیا جو وہ کر سکتی تھیں۔ انہوں نے دوسروں کے کھیتوں میں کام کیا، سویا بین چننے کی مزدوری کی اور جو بھی کام ملا، اسے انجام دیا تاکہ اپنے گھر کا خرچ چلانے کے ساتھ اپنی بچیوں کی تعلیم کے لیے بھی پیسے جمع کر سکیں۔

آج رما بائی امباجوگی کی گیان دیپ اکیڈمی میں بچوں کے لیے کھانا پکانے کا کام کرتی ہیں۔ ان کی بڑی بیٹی اسی اکیڈمی میں پولیس کے امتحان کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ چھوٹی بیٹی نانڈیڑ میں مسابقتی امتحانات کی تیاری میں مصروف ہے۔

رما بائی اپنی بیٹیوں کے لیے کیا چاہتی ہیں؟ ان کے خواب بہت بڑے نہیں، لیکن بہت واضح ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ ان کی بیٹیاں مالی طور پر خود کفیل ہوں، اپنے پاؤں پر کھڑی ہوں اور ان کی طرح مزدوری کرکے زندگی نہ گزاریں بلکہ پڑھ لکھ کر افسر بنیں۔

وہ چاہتی ہیں کہ ان کی بچیوں کو ان کی طرح کیچڑ، دھوپ اور بارش میں محنت مزدوری نہ کرنی پڑے۔

رما بائی کی یہ خواہش دراصل صرف اپنی دو بیٹیوں کے لیے ایک ماں کا خواب نہیں بلکہ دنیا بھر کے والدین کے لیے ایک پیغام ہے کہ بچوں کے لیے سب سے قیمتی ورثہ ہمیشہ دولت نہیں ہوتا؛ تعلیم، کردار اور خود اعتمادی بھی ایک ایسا سرمایہ ہے جو زندگی بھر انسان کے ساتھ رہتا ہے۔

رما بائی کے ننگے پاؤں دوڑنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ ملک اور بیرون ملک لوگوں نے ان کی جدوجہد کو سراہا۔ ہندوستانی میڈیا نے بھی ان کی کہانی کو نمایاں طور پر پیش کیا۔ دی ہندو، ٹائمز آف انڈیا اور اکنامک ٹائمز جیسے انگریزی اخبارات نے ان پر خبریں شائع کیں اور بی بی سی نے بھی ان کی جدوجہد پر تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ لیکن رما بائی کے لیے شاید یہ شہرت سب سے اہم چیز نہیں۔ انہیں اس بات سے زیادہ دلچسپی نہیں کہ ان کی ویڈیو کتنی وائرل ہوئی یا کتنے لوگوں نے ان کی تعریف کی۔ ان کے لیے اصل دنیا وہ ہے جہاں ان کی بیٹیوں کی فیس ادا ہو، ان کے لیے کتابیں خریدی جائیں، وہ تعلیم حاصل کریں اور اعلیٰ تعلیم تک پہنچیں۔

قارئین!

رما بائی کی کہانی اور گوجرانوالہ کا واقعہ بظاہر دو الگ الگ واقعات ہیں، لیکن دونوں ہمیں ایک ہی بنیادی سوال کی طرف لے جاتے ہیں: ہم اپنے بچوں کے لیے آخر کیا چاہتے ہیں؟

کیا ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے صرف پیسے کمائیں؟ یا ہم چاہتے ہیں کہ وہ اچھے انسان بھی بنیں؟

کیا ہمیں خوشی اس بات پر ہونی چاہیے کہ ہمارا بچہ کم عمری میں پیسے کمانے لگا ہے، یا ہمیں اس بات پر زیادہ خوش ہونا چاہیے کہ وہ پڑھ رہا ہے، سیکھ رہا ہے، دوسروں کا احترام کرتا ہے اور اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے؟

گوجرانوالہ کا واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ تعلیم و تربیت کو نظر انداز کرکے صرف کمائی اور شہرت کی طرف بچوں کو متوجہ کرنا کتنا خطرناک ہو سکتا ہے، جبکہ رما بائی کی زندگی ہمیں دکھاتی ہے کہ محدود وسائل کے باوجود اگر والدین تعلیم کو ترجیح دیں تو وہ اپنے بچوں کے مستقبل کا رخ بدل سکتے ہیں۔

رما بائی کے شوہر دنیا میں نہیں رہے، لیکن انہوں نے اپنی بیٹیوں کے مستقبل کو مرنے نہیں دیا۔ انہوں نے غربت، تنہائی اور مشکلات کے باوجود یہ فیصلہ کیا کہ ان کی بیٹیوں کی زندگی ان کی اپنی زندگی جیسی نہیں ہوگی۔ وہ مزدوری کریں گی، لیکن اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلوائیں گی۔

یہاں ایک اور اہم بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہم اکثر اپنے بچوں کو اسکول، کالج اور یونیورسٹی بھیج کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اب ان کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری اساتذہ، لیکچررز اور پروفیسرز کی ہے۔ یقیناً تعلیمی اداروں کا کردار نہایت اہم ہے، لیکن والدین اس ذمہ داری سے کبھی بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔

اسکول بچے کو تعلیم دے سکتا ہے، استاد اسے علم دے سکتا ہے، یونیورسٹی اسے مہارت دے سکتی ہے، لیکن بچے کے کردار کی بنیاد گھر میں ہی پڑتی ہے۔

بچے اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں اور ان کی تربیت والدین کی اہم ذمہ داری ہے۔ انہیں یہ سکھانا ضروری ہے کہ زندگی صرف کامیابی، پیسہ، شہرت اور فالوورز کا نام نہیں۔ زندگی میں رشتے بھی ہیں، احساس بھی ہے، ذمہ داری بھی ہے، ہمدردی بھی ہے اور دوسرے انسان کی زندگی کا احترام بھی ہے۔

والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارنا ہوگا۔ ان سے بات کرنا ہوگی۔ ان کی بات سننی ہوگی۔ ان کی دوستیاں، ان کی دلچسپیاں، ان کے مسائل اور ان کے رویے سمجھنے ہوں گے۔ اگر بچہ غیر معمولی غصے کا اظہار کرتا ہے، ہر بات پر ضد کرتا ہے، دوسروں کے احساسات کی پروا نہیں کرتا یا کسی غلط کام کو درست سمجھنے لگتا ہے تو اسے محض بچپن کی شرارت سمجھ کر نظر انداز کرنا دانش مندی نہیں۔

اسی طرح بچوں کو یہ بھی سمجھانا ہوگا کہ سوشل میڈیا پر فالوورز کی تعداد انسان کی اصل قدر نہیں بتاتی، اور پیسہ انسان کی کامیابی کا واحد پیمانہ نہیں ہے۔

ہمیں اپنے بچوں کو یہ بتانا ہوگا کہ کسی کی جان سے زیادہ قیمتی کوئی چھٹی نہیں، کسی فالوور سے زیادہ قیمتی کوئی رشتہ نہیں اور کسی رقم سے زیادہ قیمتی انسان کا کردار نہیں۔

دنیا بھر میں بچوں اور نوجوانوں کو نئے نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ سوشل میڈیا، فوری شہرت، آسان کمائی اور مقابلے کی دوڑ نے بچوں کی دنیا کو پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔

رما بائی نے تین کلومیٹر ننگے پاؤں دوڑ کر تین ہزار روپے جیتے، لیکن حقیقت میں ان کی اصل جیت وہ تین ہزار روپے نہیں بلکہ وہ خواب ہے جو وہ اپنی بیٹیوں کی آنکھوں میں دیکھ رہی ہیں۔

وہ چاہتی ہیں کہ ان کی بیٹیاں پڑھیں، اپنے پاؤں پر کھڑی ہوں اور باعزت زندگی گزاریں۔

شاید یہی ایک ماں کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

اور شاید ہمیں بھی اپنے بچوں کے بارے میں اپنی ترجیحات پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔

ہم بچوں کو کیا دے رہے ہیں؟

مہنگے کپڑے؟ اچھا موبائل؟ جیب خرچ؟ کمائی کے مواقع؟ یا تعلیم، اخلاق، شعور، صبر، ہمدردی اور اچھا کردار؟

یہ سوال صرف کسی ایک خاندان، ریاست یا ملک کا نہیں ہے۔ یہ پوری دنیا کے والدین کا سوال ہے۔

آندھرا پردیش کا واقعہ ہمیں خبردار کرتا ہے، گوجرانوالہ کا واقعہ ہمیں جھنجھوڑتا ہے اور رما بائی کی کہانی ہمیں امید دیتی ہے۔

ان تینوں واقعات کو سامنے رکھ کر اگر ہم اپنے گھروں میں بچوں کی تعلیم و تربیت کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کر لیں تو شاید ہم ایک بہتر نسل تیار کر سکیں۔

آخر میں اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے خصوصی فکر کرنے والا بنائے، ہمیں اپنی ذمہ داریاں صحیح طور پر نبھانے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے بچوں کو علم، شعور، اخلاق اور انسانیت کی دولت عطا فرمائے اور انہیں دنیا و آخرت دونوں میں سرخروئی عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

کالم نگار کا تعلق شعبۂ ترسیلِ عامہ و صحافت، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی سے ہے، جہاں وہ ایسوسی ایٹ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button