
دو بار داخلہ امتحان میں ناکامی، پھر آندھرا پردیش میں 7th رینک؛ ڈاکٹر سید زین العابدین سجاد کی جدوجہد سے کامیابی تک کی کہانی
✍️سیدعمران اردودنیانیوز
ڈاکٹر بننے کا خواب اگر پختہ عزم اور مسلسل محنت کے ساتھ دیکھا جائے تو ناکامیاں بھی منزل تک پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں۔ اس کی ایک مثال سینئر کنسلٹنٹ اور ماہرِ اینستھیزیالوجی ڈاکٹر سید زین العابدین سجاد (MBBS, D.A.) کی زندگی ہے، جنہوں نے میڈیکل داخلہ امتحان میں دو مرتبہ ناکامی کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور بالآخر 1982 میں پورے آندھرا پردیش میں ساتواں رینک حاصل کرکے عثمانیہ میڈیکل کالج میں داخلہ حاصل کیا۔ ڈاکٹرز جرنی – میڈیکل اویئرنیس کے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے اپنے تعلیمی سفر، سعودی عرب میں 26 سالہ طبی خدمات، ایک یادگار پیچیدہ سرجری اور اینستھیزیا و کینسر سے متعلق عام غلط فہمیوں پر تفصیلی گفتگو کی۔
ڈاکٹر سید زین العابدین سجاد نے بتایا کہ بچپن ہی سے ڈاکٹر بننا ان کا خواب تھا۔ خاندان میں تایا کو بیمار دیکھنے اور دادا کی خدمت کرنے کے تجربات نے انہیں طب کے شعبے کی طرف راغب کیا۔ انٹرمیڈیٹ کے بعد 1980 کی دہائی کے آغاز میں ہونے والے میڈیکل داخلہ امتحان میں پہلی مرتبہ انہیں 150 میں سے 97 تا 98 نمبر حاصل ہوئے، لیکن میڈیکل سیٹ نہیں مل سکی۔ اس ناکامی کے باوجود انہوں نے کسی دوسرے کورس میں داخلہ لینے کے بجائے پورا سال دوبارہ تیاری کی۔ فزکس، کیمسٹری اور بائیولوجی کے لیے الگ الگ ٹیوشن اور ٹیوٹوریلز سے تعلیم حاصل کی۔
1981 میں دوبارہ امتحان دیا تو 150 میں سے 121 نمبر حاصل کیے، لیکن صرف ایک نمبر کی کمی سے داخلہ حاصل نہ کرسکے۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنا ارادہ تبدیل نہیں کیا۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق اس وقت بعض لوگ ان کے والدین کو مشورہ دیتے تھے کہ دو سال سے گھر بیٹھے رہنے کے بجائے کسی دوسرے شعبے میں داخلہ لے لینا چاہیے، لیکن ان کا عزم تھا کہ اگر تعلیم حاصل کرنی ہے تو ایم بی بی ایس ہی کرنا ہے۔ مسلسل محنت کے نتیجے میں 1982 میں انہیں پورے آندھرا پردیش میں ساتواں رینک حاصل ہوا اور عثمانیہ میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا۔
ایم بی بی ایس کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے عثمانیہ سے ہی اینستھیزیا میں پوسٹ گریجویشن کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پوسٹ گریجویشن کے لیے ان کی ترجیحات میں پیڈیاٹرکس اور اینستھیزیا شامل تھے، تاہم میرٹ اور دستیاب نشستوں کے مطابق انہیں اینستھیزیا میں داخلہ ملا۔ عثمانیہ سے وابستہ مختلف اسپتالوں، جن میں سروجنی دیوی ہاسپٹل، ای این ٹی ہاسپٹل، پیٹلا برج، سلطان بازار اور نیلوفر ہاسپٹل شامل ہیں، میں تربیت کے دوران انہیں مختلف نوعیت کے مریضوں اور طبی حالات سے نمٹنے کا وسیع تجربہ حاصل ہوا۔
سعودی عرب میں 26 سالہ طبی خدمات
پوسٹ گریجویشن کے بعد ڈاکٹر سید زین العابدین سجاد سعودی عرب روانہ ہوئے، جہاں انہوں نے وزارتِ صحت کے تحت تقریباً 26 سال خدمات انجام دیں۔ ان کے مطابق انہوں نے چار سال ریاض اور 22 سال دمام میں گزارے۔ اس طویل عرصے میں انہیں مختلف پیچیدہ طبی اور ہنگامی حالات میں کام کرنے کا موقع ملا۔
اپنے پیشہ ورانہ سفر کا ایک یادگار واقعہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دمام کے میٹرنٹی اینڈ چلڈرن ہاسپٹل میں ایک مرتبہ ایمرجنسی کے دوران ایک خاتون کو دور دراز علاقے سے تشویش ناک حالت میں لایا گیا۔ فوری آپریشن کے دوران معلوم ہوا کہ خاتون کے ہاں پیدا ہونے والے دونوں بچے آپس میں جڑے ہوئے تھے اور دونوں بچوں کا جگر آپس میں جڑا ہوا تھا۔ اس پیچیدہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیڈیاٹرک سرجنز اور دیگر ماہرین پر مشتمل ٹیم نے کام کیا۔ بچوں کی علیحدہ سرجری میں ایک آپریشن تقریباً آٹھ گھنٹے اور دوسرے میں 16 گھنٹے لگے۔ دونوں بچے تین سے چار ماہ تک آئی سی یو میں زیرِ علاج رہے اور صحت یاب ہوکر اسپتال سے ڈسچارج ہوگئے۔
تقریباً چار سال بعد ایک بچی ہرنیا کے آپریشن کے لیے ان کی او پی ڈی میں آئی۔ ڈاکٹر صاحب نے جب اس کا پرانا ریکارڈ دیکھا تو انہیں معلوم ہوا کہ یہ وہی جڑواں بچیوں میں سے ایک ہے جن کی سرجری چار سال قبل ہوئی تھی۔ دونوں بچیوں کو صحت مند اور اپنے پیروں پر چلتے ہوئے دیکھ کر انہیں بے حد خوشی ہوئی۔”
اینستھیزیا سے خوف کی ضرورت نہیں، مریض اپنی مکمل طبی تاریخ بتائیں
انٹرویو میں اینستھیزیا کے بارے میں پائی جانے والی تشویش پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سجاد نے کہا کہ جدید طبی طریقوں اور نگرانی کے نظام نے اینستھیزیا کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ محفوظ بنایا ہے، تاہم ہر مریض کی صحت اور طبی حالت کے مطابق خطرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ آپریشن سے پہلے مریض اپنی تمام بیماریوں، استعمال ہونے والی ادویات اور کسی بھی قسم کی الرجی کے بارے میں اینستھیزیا کے ڈاکٹر کو مکمل معلومات فراہم کریں۔ بلڈ پریشر، ذیابیطس یا گردوں کے مسائل کی صورت میں بھی مناسب جانچ اور طبی انتظام اہم ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اینستھیزیا کی دو اہم اقسام جنرل اور ریجنل اینستھیزیا ہیں۔ جنرل اینستھیزیا میں مریض کو مکمل بے ہوشی دی جاتی ہے، جبکہ ریجنل اینستھیزیا کے ذریعے جسم کے کسی مخصوص حصے کو سن کیا جاتا ہے۔ اسپائنل اینستھیزیا، ایپیڈیورل اور نرو بلاک اسی طریقۂ علاج میں شامل ہیں۔ ناف کے نچلے حصے کے بعض آپریشنز میں اسپائنل اینستھیزیا استعمال کیا جاسکتا ہے، جبکہ ایپیڈیورل اینستھیزیا زچگی کے دوران درد کم کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
اسپائنل اینستھیزیا کے بعد برسوں تک کمر درد رہنے کے تاثر کو انہوں نے عام غلط فہمی قرار دیا۔ ان کے مطابق اس طریقۂ علاج میں باریک سوئی استعمال ہوتی ہے اور بعد میں ہونے والے ہر کمر درد کو اسپائنل انجکشن سے منسوب کرنا درست نہیں۔ کمر درد کی دوسری وجوہات بھی ہوسکتی ہیں، اس لیے ایسی شکایت کی صورت میں ڈاکٹر سے معائنہ کروانا چاہیے۔
کینسر کے بارے میں غلط فہمیاں دور کرنا ضروری
کینسر سے متعلق معاشرے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر سجاد نے کہا کہ بایوپسی کے ذریعے کینسر پھیلنے کا تصور درست نہیں۔ بایوپسی میں متاثرہ حصے سے ٹشو کا چھوٹا نمونہ حاصل کرکے بیماری کی تصدیق اور اس کی نوعیت معلوم کی جاتی ہے، جس سے مناسب علاج کے انتخاب میں مدد ملتی ہے۔ اسی طرح کینسر چھوت کی بیماری نہیں ہے اور یہ ہاتھ ملانے، ساتھ بیٹھنے یا بات چیت کرنے سے ایک شخص سے دوسرے شخص کو منتقل نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ کینسر کے مریضوں کو الگ تھلگ کرنے کے بجائے ان کے ساتھ ہمدردی، تعاون اور بہتر دیکھ بھال کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
ابتدائی تشخیص کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جسم میں کسی بھی غیر معمولی گلٹی، خصوصاً ایسی گلٹی جس میں درد نہ ہو، کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور طبی معائنہ کروانا چاہیے۔ پان، گٹکا اور چھالیہ کے استعمال سے منہ میں سب میوکَس فائبروسس جیسی قبل از سرطان کیفیت پیدا ہوسکتی ہے، اس لیے ان اشیا سے پرہیز اور منہ میں کسی غیر معمولی تبدیلی کی صورت میں فوری طبی مشورہ ضروری ہے۔
ڈاکٹر سید زین العابدین سجاد نے عوام کو مشورہ دیا کہ بیماری کی علامات کو نظرانداز نہ کریں، سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے کے بجائے مستند طبی ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں اور بروقت تشخیص و علاج کو ترجیح دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طب کا شعبہ صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا ذریعہ ہے، اور مریض کی صحت یابی ہی ایک معالج کے لیے سب سے بڑی خوشی ہے۔
اردو دنیا نیوز — ہر خبر آپ کے ساتھ!
تازہ خبروں اور خصوصی ویڈیوز کے لیے ہمارے واٹس ایپ گروپ، یوٹیوب چینل اور موبائل ایپ سے جڑیں



