بین الاقوامی خبریںسرورق

چینی کمپنیوں نے اسرائیل کا نام اپنے نقشے سے ہی مٹادیا ، سبھی حیران

چین کی کمپنیوں بائیدو اور علی بابا نے اپنے آن لائن ڈیجیٹل نقشوں سے اسرائیل کا نام ہٹادیا۔

لندن ،31اکتوبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) چین کی کمپنیوں بائیدو اور علی بابا نے اپنے آن لائن ڈیجیٹل نقشوں سے اسرائیل کا نام ہٹادیا۔وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کا نام ان کمپنیوں کے آن لائن نقشوں پر اب موجود نہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بائیدو کے آن لائن نقشے اسرائیل کی تسلیم شدہ سرحدوں کے ساتھ ساتھ فلسطینی علاقوں کی نشاندہی کررہے ہیں، لیکن ملک کی شناخت کے طور پر اسرائیل کا نام موجود نہیں۔رپورٹ کے مطابق لکسمبرگ جیسے چھوٹے ملک کا نام آن لائن نقشوں پر موجود ہے، چین کی کمپنیوں کی جانب سے اس کی کوئی وضاحت پیش نہیں کی گئی ہے۔ دوسری طرف میڈیا کے مطابق امریکا کی فنانشل سروسز کمپنی اسٹینڈرڈ اینڈ پوورز ریٹنگ ایجنسی نے اسرائیل کی کریڈٹ ریٹنگ منفی کردی۔ ایس اینڈ پی کے مطابق لڑائی پھیلی تو اسرائیل کی کریڈٹ ریٹنگ کے ستون ہماری توقعات سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔اسٹینڈرڈ اینڈ پوورز کے مطابق موجودہ لڑائی اسرائیلی معیشت پر دور رس منفی نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔ علی بابا اور بیدو نے اسرائیل کا نام کیوں ہٹایا؟ اس سلسلے میں کوئی آفیشیل وضاحت پیش نہیں کی گئی ہے۔

غزہ پر جنگ کے آغاز کے بعد سے، چین نے جنگ بندی کی حمایت کی ہے تاکہ مزید کشیدگی اور انسانی مصائب سے بچا جا سکے۔تاہم گزشتہ ہفتے چین نے تسلیم کیا تھا کہ اسرائیل کو حماس کے خلاف اپنے دفاع کا حق حاصل ہے جنگ کے بارے میں اس کے موقف پر تنقید کے بعد۔اس سے پہلے صدر شی جن پنگ نے مصر اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا تاکہ جلد سے جلد مسئلہ فلسطین کے جامع، منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے زور دیا جا سکے۔

چین کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی ژائی جون نے کہا کہ چین مصر کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے، تنازع کے دونوں فریقوں کو جنگ بندی اور تشدد کو جلد از جلد بند کرنے پر زور دیتا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ ایک مشترکہ فورس تشکیل دے اور فلسطینی عوام کو انسانی امداد فراہم کرے۔اس بیچ حماس کے حملے کے بعد سے اب تک ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں، جو اسرائیل پر اس کی 75 سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ مہلک ہے۔ دریں اثنا وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت نے غزہ میں زمینی کاروائیوں کو بڑھا دیا ہے اور کسی بھی جنگ بندی کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی نہیں ہوگی کیونکہ یہ حماس کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہوگا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button