
جنتر منتر طلبہ احتجاج کیس: سپریم کورٹ پیر کو کرے گی سماعت، چیف جسٹس سوریہ کانت کی غلط میڈیا رپورٹنگ پر سخت برہمی
پولیس کارروائی پر درخواست سے متعلق غلط رپورٹنگ,عدالت میں درخواست دائر ہی نہیں ہوئی، پھر یہ خبر کیسے چلی کہ سماعت سے انکار کردیا گیا؟ چیف جسٹس آف انڈیا
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) جنتر منتر پر نیٹ (NEET-UG 2026) پیپر لیک اور امتحانی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر دہلی پولیس کی کارروائی کے معاملے میں سپریم کورٹ نے سماعت پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت کی سربراہی میں قائم بنچ اس معاملے کی باقاعدہ سماعت پیر کو کرے گی۔
جمعہ کو سینئر وکیل گوپال شنکر نارائنن نے چیف جسٹس کے سامنے معاملہ اٹھاتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ طلبہ کے احتجاج سے متعلق درخواست اب باضابطہ طور پر سپریم کورٹ میں دائر کی جا چکی ہے اور اسے رجسٹری کی جانب سے ڈائری نمبر بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ احتجاج کے دوران دہلی پولیس نے طلبہ کے خلاف غیر ضروری اور حد سے زیادہ طاقت استعمال کی، جس کے باعث سپریم کورٹ کی فوری مداخلت ضروری ہے۔
دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس سوریہ کانت نے مختصر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ درخواست اب قواعد کے مطابق عدالت میں دائر ہو چکی ہے، اس لیے اس پر پیر کو سماعت کی جائے گی۔
غلط میڈیا رپورٹنگ پر چیف جسٹس کی سخت برہمی
سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے گزشتہ دو روز کے دوران نشر اور شائع ہونے والی بعض میڈیا رپورٹس پر سخت ناراضی کا اظہار کیا، جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ نے طلبہ احتجاج سے متعلق درخواست کی سماعت سے انکار کر دیا ہے۔
چیف جسٹس نے واضح کیا کہ یہ تاثر حقیقت پر مبنی نہیں تھا، کیونکہ اس وقت تک سپریم کورٹ میں اس معاملے سے متعلق کوئی باضابطہ رِٹ پٹیشن دائر ہی نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ رجسٹری سے تصدیق کرائی گئی تو معلوم ہوا کہ جمعہ کی صبح 10 بجے تک اس معاملے میں عدالت میں ایک صفحہ بھی جمع نہیں کرایا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ عدالت کے پاس صرف ایک نمائندگی (Representation) یا خط موصول ہوا تھا، جسے آئینی درخواست نہیں سمجھا جا سکتا۔ چیف جسٹس نے کہا، "صرف ایک نمائندگی کی بنیاد پر اسے رِٹ پٹیشن قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن میڈیا نے غیر ذمہ دارانہ انداز میں یہ تاثر دیا کہ چیف جسٹس نے درخواست کی سماعت سے انکار کر دیا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ بغیر حقائق کی تصدیق کیے ایسی خبریں نشر کرنا غیر ذمہ دارانہ صحافت کی مثال ہے اور میڈیا کو اپنی رپورٹنگ میں احتیاط برتنی چاہیے۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب وکیل نریندر مشرا نے چیف جسٹس کو ایک لیٹر پٹیشن بھیج کر 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے دوران طلبہ پر مبینہ پولیس تشدد کا ازخود نوٹس لینے کی درخواست کی۔ بعد ازاں انہوں نے عدالت میں زبانی طور پر بھی فوری سماعت کی استدعا کی۔
اس موقع پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے واضح کیا تھا کہ محض ایک خط یا نمائندگی کو رِٹ درخواست تصور نہیں کیا جا سکتا اور سپریم کورٹ کے قواعد کے مطابق باقاعدہ درخواست دائر کرنا ضروری ہوتا ہے۔
جب وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے پاس پولیس کارروائی کی ویڈیوز موجود ہیں تو چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت ویڈیوز دیکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتی اور نہ ہی اس کے لیے وقت موجود ہے۔ بنچ میں شامل جسٹس جوئے مالیہ باغچی اور جسٹس وی موہن نے بھی یہی مؤقف اختیار کیا کہ عدالت محض ویڈیو مواد کی بنیاد پر کارروائی نہیں کر سکتی۔
اب چونکہ درخواست تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں باضابطہ طور پر دائر کی جا چکی ہے اور اسے رجسٹری سے ڈائری نمبر بھی مل گیا ہے، اس لیے چیف جسٹس نے اس کی سماعت پیر کو مقرر کر دی ہے۔
دہلی ہائی کورٹ کا حکم
دوسری جانب دہلی ہائی کورٹ نے طلبہ احتجاج کے دوران پولیس کارروائی سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج، ویڈیو ریکارڈنگ اور دیگر شواہد محفوظ رکھنے کا حکم دیتے ہوئے مرکزی حکومت اور دہلی پولیس سے جواب طلب کیا ہے۔ اس معاملے کی آئندہ سماعت 11 ستمبر کو ہوگی۔
ملک بھر میں طلبہ گزشتہ کئی ہفتوں سے NEET-UG 2026 سمیت مختلف امتحانات میں مبینہ پیپر لیک، بے ضابطگیوں اور امتحانی نظام میں اصلاحات کے مطالبے کو لے کر احتجاج کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے، ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے اور مستقبل میں پیپر لیک جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
20 جولائی کو سی جے پی (Cockroach Janata Party) کی اپیل پر ہزاروں طلبہ اور کارکنان پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ اس دوران دہلی پولیس نے متعدد مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کر کے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی اور آنسو گیس و لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں پولیس اہلکاروں کو مظاہرین پر تشدد کرتے دیکھا گیا، جبکہ دہلی پولیس کا مؤقف ہے کہ مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ اور تشدد کے بعد طاقت کا استعمال ناگزیر ہو گیا تھا۔
ادھر سماجی کارکن سونم وانگچک مرکزی حکومت کی یقین دہانیوں کے بعد اپنی 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر چکے ہیں، تاہم سی جے پی نے واضح کیا ہے کہ امتحانی اصلاحات اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے سمیت اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔



