قومی خبریں

درست ویزا کے باوجود امیگریشن حکام مسافروں سے پوچھ گچھ اور اضافی جانچ کر سکتے ہیں: دہلی ہائی کورٹ

نئی دہلی، 26 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) درست ویزا اور سفری دستاویزات رکھنے کے باوجود مسافروں کو ایئرپورٹ پر اضافی پوچھ گچھ اور سیکیورٹی جانچ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ امیگریشن حکام کو ضرورت کے مطابق مسافروں سے معلومات طلب کرنے، مزید سوالات کرنے اور اضافی تصدیق کا اختیار حاصل ہے، خواہ متعلقہ شخص پہلے بھی کئی مرتبہ بیرون ملک سفر کر چکا ہو۔

جسٹس امیت مہاجن کی سربراہی میں عدالت نے یہ حکم ایک ایسے ہندوستانی شہری کی درخواست پر سماعت کے دوران دیا، جس کے پاس جرمنی کا درست بزنس شینگن ویزا تھا۔ درخواست گزار کا الزام تھا کہ نئی دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر روانگی اور آمد کے امیگریشن کاؤنٹرز پر اسے بار بار اضافی جانچ سے گزرنا پڑتا ہے، حالانکہ اس کے سفری دستاویزات درست تھے۔

عدالت نے 14 اکتوبر کو جاری کیے گئے حکم میں کہا کہ امیگریشن افسران اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے ضرورت کے مطابق معلومات طلب کر سکتے ہیں۔ عدالت کے مطابق امیگریشن اینڈ فارنرز ایکٹ 2025 کی دفعہ 3 کے تحت افسران کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مسافروں سے ضروری اور مناسب معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کریں۔

عدالت میں پیش کیے گئے معاملے کے مطابق، درخواست گزار کا پہلے جاری کیا گیا شینگن ویزا منسوخ کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد اس نے نئے ویزوں کے لیے درخواستیں دیں اور اسے مزید تین ویزے جاری کیے گئے۔ تاہم، سابقہ ویزا منسوخ ہونے کے بعد ایئرپورٹ پر متعدد مرتبہ اس کی اضافی تصدیق کی گئی۔

درخواست گزار نے اس کارروائی کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا۔ اس کا موقف تھا کہ جب اس کے پاس درست ویزا موجود ہے تو اسے بار بار اضافی جانچ سے گزارنے کا کوئی جواز نہیں بنتا، جس سے اسے سفر کے دوران پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مرکزی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کا سابقہ ویزا منسوخ ہونے کے بعد جرمن سفارت خانے نے ایک الرٹ جاری کیا تھا۔ اس میں ہدایت دی گئی تھی کہ درخواست گزار یا کسی دوسرے شخص کو منسوخ شدہ ویزے کی بنیاد پر جرمنی جانے کی اجازت نہ دی جائے۔ وکیل کے مطابق یہ الرٹ 31 اکتوبر 2027 تک مؤثر تھا۔

حکومت کی جانب سے مزید بتایا گیا کہ احتیاطی جانچ کے تحت امیگریشن حکام نے سابقہ ویزا منسوخ ہونے کے معاملے کو مدنظر رکھتے ہوئے ایئرلائن کے مقامی افسر سے درخواست گزار کے موجودہ ویزا کی تصدیق کی تھی۔ جرمن سفارت خانے کی جانب سے الرٹ واپس لینے کی کوئی باضابطہ درخواست بھی موصول نہیں ہوئی تھی۔

مرکزی حکومت کے وکیل کے مطابق، درخواست گزار سے سفارت خانے کی ہدایت پر پوچھ گچھ کی گئی، تاہم امیگریشن حکام کی جانچ مکمل ہونے کے بعد اسے ہر مرتبہ بیرون ملک روانگی کی اجازت دے دی گئی۔

دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کے دلائل اور دستیاب حقائق کا جائزہ لینے کے بعد درخواست خارج کر دی۔ عدالت نے کہا کہ سابقہ ویزا منسوخ ہونے کے باعث اضافی تصدیق کی وجہ سے درخواست گزار کو کچھ پریشانی ہوئی، لیکن صرف اس بنیاد پر عدالتی مداخلت کا جواز پیدا نہیں ہوتا۔

عدالت کے مطابق یہ ثابت نہیں ہوا کہ امیگریشن حکام نے اپنے اختیارات کا من مانا استعمال کیا تھا۔ درخواست گزار کو بیرون ملک سفر سے روکے جانے یا امیگریشن حکام کی جانچ کے بعد روانگی کی اجازت نہ ملنے کا معاملہ بھی سامنے نہیں آیا۔اس فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ درست ویزا ہونا بذاتِ خود امیگریشن جانچ سے استثنیٰ کی ضمانت نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button