
دہلی آتشزدگی سانحہ: ریاض الدین منصوری اور ارمان نے گدے بچھا کر درجنوں افراد کو محفوظ نکالا
ریاض الدین منصوری اور ان کے بیٹے نے دو لاکھ روپے کا سامان قربان کر کے کئی جانیں بچا لیں
نئی دہلی 04 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)جنوبی دہلی کے مالویہ نگر علاقے کے حوض رانی میں واقع فلورش اسٹے ہوٹل میں پیش آنے والی ہولناک آتشزدگی نے 21 افراد کی جان لے لی، جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ جاں بحق افراد میں ہندوستانی اور غیر ملکی شہری شامل ہیں، جن کا تعلق لائبیریا، نائجیریا، موزمبیق اور بنگلہ دیش سمیت مختلف ممالک سے بتایا گیا ہے۔ اس افسوسناک سانحے کے دوران ایک مقامی تاجر ریاض الدین منصوری اور ان کے بیٹے ارمان منصوری نے غیر معمولی جرات، حاضر دماغی اور انسان دوستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے متعدد جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اطلاعات کے مطابق صبح تقریباً آٹھ بج کر پچاس منٹ پر پانچ منزلہ عمارت کے تہہ خانے میں قائم ریستوران میں آگ بھڑک اٹھی۔ چند ہی لمحوں میں آگ اور دھواں پوری عمارت میں پھیل گیا۔ عمارت کے بالائی حصوں میں موجود افراد پھنس گئے اور مدد کے لیے چیخ و پکار شروع کر دی۔
ہوٹل کے سامنے تقریباً چار دہائیوں سے گدوں کی دکان چلانے والے ریاض الدین منصوری اور ان کے بیٹے ارمان کو جیسے ہی آگ کی اطلاع ملی، وہ فوراً موقع پر پہنچ گئے۔ انہوں نے صورتحال کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے اپنی دکان سے تقریباً 20 سے 25 نئے گدے، لحاف اور دیگر سامان نکال کر عمارت کے سامنے سڑک پر بچھا دیا تاکہ اوپری منزلوں پر پھنسے افراد ضرورت پڑنے پر ان پر چھلانگ لگا سکیں۔
عینی شاہدین کے مطابق کئی افراد نے جان بچانے کے لیے بالکونیوں اور کھڑکیوں سے چھلانگ لگائی۔ نیچے بچھائے گئے گدوں اور لحافوں نے ان کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کیا اور شدید چوٹوں سے محفوظ رکھا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ فوری اقدام نہ کیا جاتا تو جانی نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔
ارمان منصوری نے بتایا کہ جب وہ موقع پر پہنچے تو عمارت کی نچلی منزل مکمل طور پر آگ کی لپیٹ میں تھی اور اندر داخل ہونا ناممکن تھا۔ اوپری منزلوں پر پھنسے افراد مسلسل مدد مانگ رہے تھے اور پوچھ رہے تھے کہ آیا وہ چھلانگ لگا سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں انہوں نے فوری طور پر گدے اور لحاف بچھانے کا فیصلہ کیا۔
ریاض الدین منصوری نے بتایا کہ اس امدادی کارروائی میں انہیں تقریباً دو لاکھ روپے کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ انہوں نے نہ صرف گدے اور لحاف فراہم کیے بلکہ زخمیوں اور جاں بحق افراد کو منتقل کرنے اور ڈھانپنے کے لیے چادریں اور دیگر سامان بھی دیا۔
انہوں نے کہا، "ہم نے انسانیت کے نام پر جو کچھ ہمارے پاس تھا، سب دے دیا۔ انسانیت ہندو اور مسلمان سے بالاتر ہے۔ ہم سب ہندوستانی ہیں اور مصیبت میں گھرے لوگوں کی مدد کرنا ہمارا فرض ہے۔”
اس دوران متعدد مقامی افراد بھی امدادی سرگرمیوں میں شامل ہوئے۔ وسیم راجہ نامی ایک شخص، جو ایک اسپتال میں کام کرتے ہیں، نے اپنے طبی تجربے کی مدد سے کئی زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ عامر خان، محمد شعیب، محمد افضل اور دیگر مقامی شہریوں نے بھی جان کی پروا کیے بغیر متاثرین کو محفوظ مقام تک پہنچانے میں مدد کی۔
حکام کے مطابق ہوٹل بنیادی طور پر قریبی اسپتالوں میں علاج کے لیے آنے والے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کے قیام کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ آتشزدگی کے بعد متعدد افراد کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں کئی زخمی زیر علاج ہیں۔
سوشل میڈیا پر ریاض الدین منصوری اور ان کے بیٹے ارمان منصوری کو حقیقی ہیرو قرار دیا جا رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ بعض اوقات سرکاری امداد پہنچنے سے پہلے عام شہری ہی انسانیت کا سب سے بڑا سہارا ثابت ہوتے ہیں۔ کئی افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ باپ بیٹے کے مالی نقصان کی تلافی کی جائے اور ان کی بہادری کو سرکاری سطح پر سراہا جائے۔
مالویہ نگر کا یہ سانحہ ایک جانب جہاں بڑے جانی نقصان کی یاد دلاتا ہے، وہیں ریاض الدین منصوری اور ارمان منصوری جیسے افراد کی انسان دوستی اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی انسانیت زندہ رہتی ہے۔
واضح رہے کہ مالویہ نگر کے حوض رانی علاقے میں واقع فلورش اسٹے ہوٹل میں پیش آنے والی اس ہولناک آتشزدگی میں 21 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جبکہ 49 افراد کو بچا کر مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ جاں بحق افراد میں 9 ہندوستانی اور 12 غیر ملکی شہری شامل ہیں، جن میں زیادہ تر بنگلہ دیشی اور افغان باشندے بتائے جاتے ہیں۔
حکام کے مطابق زخمیوں میں سے 8 افراد کو علاج کے بعد اسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ دیگر متاثرین مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ اس سانحے نے جہاں کئی خاندانوں کو غم میں مبتلا کر دیا، وہیں ریاض الدین منصوری، ان کے بیٹے ارمان اور دیگر مقامی شہریوں کی بروقت امدادی کوششوں نے انسانیت، ہمدردی اور اجتماعی تعاون کی ایک روشن مثال بھی قائم کی ہے۔



