سرورققومی خبریں

الیکشن پیسے سے نہیں عوامی حمایت سے لڑے جاتے ہیں۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن پرDMK کا طنز

ایسا لگتا ہے کہ وزیر خزانہ غیر ضروری بہانے بنا کر الیکشن لڑنے سے بھاگ رہی ہیں۔

نئی دہلی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے ایک ٹی وی پروگرام میں اعلان کیا تھا کہ وہ لوک سبھا الیکشن نہیں لڑیں گی۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس الیکشن لڑنے کے پیسے نہیں ہیں۔ اب اس پر تامل ناڈو کی حکمراں جماعت ڈی ایم کے کی جانب سے ایک بیان سامنے آیا ہے، ڈی ایم کے کے ترجمان ایس. انا دورئی نے کہا، ‘ایسا لگتا ہے کہ وزیر خزانہ غیر ضروری بہانے بنا کر الیکشن لڑنے سے بھاگ رہی ہیں۔ الیکشن لڑنے کے لیے پیسے کی ضرورت نہیں بلکہ عوامی حمایت کی ضرورت ہے، جو آپ کے پاس نہیں ہے۔

نرملا سیتا رمن تمل ناڈو کی رہنے والی ہیں اور یہ بات چل رہی تھی کہ بی جے پی انہیں ریاست کی کسی سیٹ سے امیدوار بنا سکتی ہے۔ نرملا سیتا رمن نے خود ان قیاس آرائیوں کو یہ کہہ کر ختم کیا کہ و ہ لوک سبھا الیکشن نہیں لڑیں گی کیونکہ ان کے پاس پیسے کی کمی ہے۔ڈی ایم کے لیڈر نے کہا کہ وزیر خزانہ جانتے ہیں کہ لوگ ان سے ناراض ہیں۔ ایسے میں وہ خود الیکشن سے دستبردار ہو رہی ہیں۔ انادورائی نے کہا، ‘وہ جان گئے ہیں۔ جس طرح انھوں نے پالیسیوں کو نافذ کیا عوام اس سے ناراض ہے۔ شاید انہیں اس بات کا علم ہو گیا ہو۔ اس لیے وہ انتخابات سے دستبردار ہو رہی ہیں۔یہی نہیں، ڈی ایم کے لیڈر نے کہا کہ وزیر خزانہ پارٹی کے پیسے سے الیکشن کیوں نہیں لڑتیں؟

انا دورئی نے کہا، ‘بی جے پی نے بڑے پیمانے پر پیسہ اکٹھا کیا ہے۔ بی جے پی کے پاس 6000 کروڑ روپے ہیں۔ اس نے 8250 کروڑ روپے کی وصولی کی تھی، جس میں سے 6000 کروڑ روپے اب بھی اکاؤنٹ میں ہیں۔ ان کا شمار کابینہ کے سرکردہ وزراء میں ہوتا ہے۔ پھر بی جے پی انھیں اسپانسر کیوں نہیں کرتی؟ بدھ کو ہی سیتا رمن نے آندھرا یا تمل ناڈو سے الیکشن لڑنے کے سوال پر کہا تھا کہ وہ نہیں لڑیں گی۔

نرملا سیتا رمن نے کہا تھا، ‘پارٹی نے مجھ سے الیکشن لڑنے کو کہا تھا۔ میں نے کئی ہفتوں تک اس کے بارے میں سوچا، پھر کہا نہیں۔ میری پارٹی کے صدر مجھ سے الیکشن لڑنے کے لیے کہہ رہے تھے، انھوں نے کہا کہ آندھرا یا تمل ناڈو کی کسی بھی جنوبی سیٹ سے الیکشن لڑوں۔ انہوں نے مزید کہا، ‘لیکن میرے پاس الیکشن لڑنے کے لیے اتنے پیسے نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ تمل ناڈو اور آندھرا پردیش کے حوالے سے بھی میرے ذہن میں بہت سے سوالات تھے کیونکہ یہ جیت کے مختلف پیرامیٹرز ہیں۔ کئی بار آپ سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کا تعلق کس ذات یا مذہب سے ہے؟ میں نے سوچا اور پھر احساس ہوا کہ میں ایسا نہیں کر پاؤںگی۔ پارٹی نے مجھے بہت پیشکش کی اور میں نے پوری عزت کے ساتھ انکار کر دیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button