عمر کے ساتھ غذاؤں پر توجہ ضروری -حافظ احمد احمد معین حبان بنگلور
50 سال کی عمر کے بعد صحت مند زندگی کے لیے بہترین غذائیں
عمر بڑھنا ایک فطری عمل ہے، لیکن مناسب غذا، باقاعدہ ورزش اور صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرکے اس کے منفی اثرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پچاس سال کی عمر کے بعد جسم میں مختلف ہارمونل اور میٹابولک تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، جن کے نتیجے میں جسمانی توانائی، قوتِ مدافعت اور عضلاتی طاقت میں بتدریج کمی آنے لگتی ہے۔ تاہم متوازن غذا اور جسمانی سرگرمیوں کے ذریعے انسان طویل عرصے تک صحت مند، فعال اور توانا زندگی گزار سکتا ہے۔
بڑھتی عمر اور جسمانی تبدیلیاں
عمر میں اضافے کے ساتھ جسم کا میٹابولزم سست ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں کیلوریز جلنے کی رفتار کم ہو جاتی ہے اور وزن میں اضافے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ نظامِ ہاضمہ، قوتِ مدافعت، عضلات، ہڈیاں اور نظامِ تنفس بھی عمر کے اثرات سے متاثر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بزرگ افراد جلد تھکن محسوس کرتے ہیں اور مختلف بیماریوں کا شکار ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ اس عمر میں تلی ہوئی اشیاء، فاسٹ فوڈ، جنک فوڈ، خالی کیلوریز والی غذائیں اور ضرورت سے زیادہ میٹھی اشیاء کم سے کم استعمال کی جائیں، جبکہ غذائیت سے بھرپور قدرتی غذاؤں کو روزمرہ خوراک کا حصہ بنایا جائے۔
ورزش کی اہمیت
پچاس سال کے بعد ورزش کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ باقاعدہ ورزش عضلات اور پٹھوں کو مضبوط رکھتی ہے، جوڑوں کی حرکت برقرار رکھتی ہے اور جسمانی فعالیت میں اضافہ کرتی ہے۔ ورزش کولیسٹرول، موٹاپے، بلند فشار خون، دل کے امراض اور ذیابیطس جیسے مسائل کے خطرات کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔
پھلیاں: غذائیت کا خزانہ
پھلیاں پروٹین، فائبر، آئرن، فاسفورس، کیلشیم، پوٹاشیم، میگنیشیم اور دیگر اہم غذائی اجزاء سے بھرپور ہوتی ہیں۔ ان میں موجود فائبر نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے اور قبض جیسے مسائل سے بچاتا ہے۔ پھلیاں خون میں کولیسٹرول کی سطح کم کرنے، بلڈ شوگر کو متوازن رکھنے اور دل کی صحت بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
جو: دل اور میٹابولزم کے لیے مفید
جو ایک انتہائی مفید غذا ہے جو فائبر، وٹامن بی، میگنیشیم، زنک، آئرن اور دیگر معدنیات سے بھرپور ہوتا ہے۔ جو کا دلیہ کولیسٹرول کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور دل کے امراض کے خطرات میں کمی لا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جو نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتا اور قوتِ مدافعت کو مضبوط کرتا ہے۔
سیب: صحت کا قدرتی محافظ
سیب کو دنیا کی بہترین غذاؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں فائبر، وٹامن اے، وٹامن سی، وٹامن کے، پوٹاشیم اور متعدد اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔ سیب کولیسٹرول کم کرنے، دل کی بیماریوں اور فالج کے خطرات گھٹانے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جلد کی صحت اور تازگی برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
گری دار میوے: توانائی اور دماغی صحت کا ذریعہ
بادام، اخروٹ، پستہ، کاجو اور مونگ پھلی جیسے گری دار میوے غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ان میں فائبر، پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامن ای، میگنیشیم اور اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہوتے ہیں۔ یہ دل اور دماغ کی صحت بہتر بنانے، خراب کولیسٹرول کم کرنے اور جسم کو توانائی فراہم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
پتوں والی سبزیاں: قدرتی سپر فوڈ
پالک، میتھی، سرسوں اور دیگر پتوں والی سبزیاں وٹامن اے، وٹامن سی، وٹامن کے، آئرن، کیلشیم، میگنیشیم اور فائبر سے بھرپور ہوتی ہیں۔ یہ خون کی کمی دور کرنے، ہڈیوں کو مضبوط بنانے، دل کی صحت برقرار رکھنے اور نظامِ ہاضمہ کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
پالک کو سادہ انداز میں زیتون یا سرسوں کے تیل میں لہسن اور لال مرچ کے ساتھ پکا کر استعمال کیا جائے تو اس کی غذائی افادیت برقرار رہتی ہے اور جسم کو بھرپور غذائیت حاصل ہوتی ہے۔
دہی: ہڈیوں اور آنتوں کی صحت کے لیے ضروری
عمر بڑھنے کے ساتھ ہڈیوں اور پٹھوں کی مضبوطی برقرار رکھنے کے لیے کیلشیم اور پروٹین کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ دہی کیلشیم، پروٹین، وٹامن ڈی، پوٹاشیم اور مفید پروبائیوٹکس سے بھرپور غذا ہے۔ یہ ہڈیوں کو مضبوط بنانے، آنتوں کی صحت بہتر رکھنے، قبض اور بدہضمی جیسے مسائل کم کرنے اور قوتِ مدافعت کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔
اسٹرابیری: اینٹی آکسیڈنٹس کا خزانہ
اسٹرابیری طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس، وٹامن سی اور فائبر سے بھرپور پھل ہے۔ یہ جسم میں سوزش کم کرنے، قوتِ مدافعت بڑھانے، بلڈ شوگر کو متوازن رکھنے اور کولیسٹرول کی سطح کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ وزن کو کنٹرول رکھنے اور جلد کی صحت بہتر بنانے میں بھی مفید سمجھی جاتی ہے۔
پانی کی اہمیت
بڑھتی عمر میں جسم میں پانی کی کمی کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، اس لیے روزانہ مناسب مقدار میں پانی پینا ضروری ہے۔ پانی نظامِ ہاضمہ، گردوں، جلد اور جسم کے دیگر افعال کو بہتر انداز میں کام کرنے میں مدد دیتا ہے۔
پچاس سال کی عمر کے بعد صحت مند اور فعال زندگی گزارنے کے لیے غذائیت سے بھرپور خوراک کو ترجیح دینا بے حد ضروری ہے۔ پھلیاں، جو، سیب، گری دار میوے، پتوں والی سبزیاں، دہی اور اسٹرابیری جیسی غذائیں جسم کو ضروری وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس فراہم کرتی ہیں۔ اگر ان غذاؤں کے ساتھ باقاعدہ ورزش، مناسب نیند اور متوازن طرزِ زندگی اپنایا جائے تو بڑھتی عمر کے اثرات کو کم کرتے ہوئے طویل عرصے تک صحت مند اور متحرک زندگی گزاری جا سکتی ہے۔



