
گوالیار:نابالغ لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی، 50 ہزار روپے میں فروخت کرنے کی کوشش، مزاحمت پر قتل
نابالغ لڑکی کے ساتھ درندگی کی انتہا، اجتماعی زیادتی کے بعد قتل اور نعش نذرِ آتش۔
گوالیار، 02 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مدھیہ پردیش کے شہر گوالیار میں ایک 15 سالہ نابالغ لڑکی کے ساتھ پیش آنے والی انسانیت سوز واردات نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پولیس کے مطابق لڑکی کے مبینہ بوائے فرینڈ اور اس کے ساتھی نے پہلے اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی، پھر اسے 50 ہزار روپے میں فروخت کرنے کی کوشش کی اور مزاحمت کرنے پر گلا گھونٹ کر قتل کر دیا۔ بعد ازاں شواہد مٹانے کے لیے نعش کو آگ لگا دی گئی۔
پولیس تحقیقات کے مطابق مقتولہ ضلع بھنڈ کے ماؤ علاقے کی رہائشی تھی۔ 28 مئی کو مرکزی ملزم رامو گرجر اسے بہلا پھسلا کر گوالیار لے آیا۔ بعد میں وہ اور اس کا ساتھی ارون لڑکی کو جنک گنج تھانہ حدود میں واقع نوگرہ مندر کی پہاڑی پر ایک سنسان مقام پر لے گئے، جہاں دونوں نے مبینہ طور پر اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی۔
تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اجتماعی زیادتی کے بعد ملزمان نے نابالغ لڑکی کو 50 ہزار روپے میں فروخت کرنے کے لیے بات چیت شروع کر دی۔ جب لڑکی نے شدید احتجاج کیا اور شور مچانے کی کوشش کی تو دونوں ملزمان نے مبینہ طور پر اس کا گلا گھونٹ دیا، جس سے اس کی موقع پر ہی موت واقع ہو گئی۔ قتل کے بعد نعش کو جھاڑیوں میں چھپا دیا گیا اور دونوں ملزمان فرار ہو گئے۔
پولیس کے مطابق اگلے روز 29 مئی کو رامو گرجر اور ارون اپنے ایک اور ساتھی گورو کشواہا کے ہمراہ دوبارہ جائے وقوعہ پر پہنچے۔ ملزمان نے مقتولہ کی شناخت مٹانے اور ثبوت ختم کرنے کے مقصد سے نعش پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ نعش کو جزوی طور پر جلانے کے بعد تینوں موقع سے فرار ہو گئے۔
ادھر لڑکی کے گھر واپس نہ آنے پر اہل خانہ نے ماؤ پولیس تھانے میں گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی۔ اہل خانہ نے پولیس کو بتایا کہ رامو گرجر اکثر لڑکی کے ساتھ دیکھا جاتا تھا، جس کی بنیاد پر اس پر شبہ ظاہر کیا گیا۔
گوالیار اور ماؤ پولیس کی مشترکہ کارروائی کے دوران رامو گرجر کو حراست میں لیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی پوچھ گچھ میں وہ مسلسل گمراہ کرتا رہا، تاہم کال ریکارڈ اور دیگر شواہد سامنے آنے کے بعد اس نے جرم کا اعتراف کر لیا اور پوری واردات کی تفصیلات بیان کر دیں۔
سی ایس پی لشکر کرن اہیروار کے مطابق ملزم کی نشاندہی پر پولیس ٹیم نوگرہ مندر کے اوپر واقع پہاڑی پر پہنچی، جہاں سے متوفی کی آدھی جلی ہوئی اور مسخ شدہ نعش برآمد ہوئی۔



