مغربی بنگال: ترنمول کانگریس کے اندر اختلافات نمایاں، اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر اختلاف
ترنمول کانگریس کے اندرونی اختلافات بنگال کی سیاست کا اہم موضوع بن گئے ہیں
کولکتہ 02 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد ترنمول کانگریس کے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے کو لے کر پارٹی کے اندر ایک نئی کشمکش کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق بعض ارکان اسمبلی ریتابرت بنرجی کو اپوزیشن لیڈر کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں، جس سے پارٹی قیادت کے لیے نئی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
ادھر پارٹی قیادت نے ریتابرت بنرجی اور سندیپن ساہا کو مبینہ طور پر پارٹی مخالف سرگرمیوں کے الزام میں تنظیم سے خارج کر دیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ اقدام خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے، جبکہ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کئی ناراض ارکان اسمبلی قیادت سے فاصلے پر ہیں۔
اطلاعات کے مطابق گزشتہ چند دنوں کے دوران کولکتہ میں متعدد سیاسی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ناراض ارکان اسمبلی کو دوبارہ متحد کرنے اور پارٹی قیادت کے ساتھ جوڑنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض ارکان کی ناراضی براہ راست پارٹی سربراہ ممتا بنرجی سے نہیں بلکہ تنظیمی معاملات اور قیادت کے اندازِ کار سے متعلق ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر اختلافات مزید بڑھے تو پارٹی کو سنگین سیاسی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ متعدد ارکان اسمبلی اور چند ارکان پارلیمان بھی اپنی آئندہ سیاسی حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی بڑی سطح پر سیاسی انحراف ہوتا ہے تو پارٹی کے اندر قیادت اور تنظیمی اختیار سے متعلق نئے سوالات جنم لے سکتے ہیں۔ ایسے امکانات پر مختلف سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے، تاہم موجودہ صورتحال کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
ریتابرت بنرجی کا شمار مغربی بنگال کی سیاست کے متحرک چہروں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ماضی میں بائیں محاذ کی سیاست سے وابستہ رہے اور بعد میں ترنمول کانگریس میں شامل ہوئے۔ سیاسی سفر کے دوران انہیں مختلف جماعتوں میں اہم ذمہ داریاں ملتی رہی ہیں۔ دوسری جانب سندیپن ساہا بھی ریاستی سیاست میں ایک شناسا نام ہیں اور مقامی سطح پر سیاسی سرگرمیوں میں فعال رہے ہیں۔
حال ہی میں دونوں رہنماؤں نے اسمبلی سے متعلق مبینہ "دستخطی اسکینڈل” کا معاملہ اٹھایا تھا، جس کے بعد پارٹی کے اندر تنازع مزید نمایاں ہو گیا۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اس معاملے نے تنظیمی اختلافات کو عوامی سطح پر نمایاں کر دیا ہے۔
دریں اثنا، ترنمول کانگریس نے اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے لیے سوبھونداب چٹوپادھیائے کے نام پر غور کیا ہے، تاہم پارٹی کے اندر جاری اختلافات کے باعث اس معاملے پر بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
بنگال کی سیاست میں ترنمول کانگریس کا یہ اندرونی بحران اس وقت ایک اہم موضوع بنا ہوا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ پارٹی قیادت اختلافات کو قابو میں لانے میں کامیاب ہوتی ہے یا یہ تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے۔



