قومی خبریں

سپریم کورٹ نے گیان واپی مسجد میں شراون کے دوران پوجا کی فوری اجازت دینے سے انکار کیا

سپریم کورٹ نے شراون میں پوجا کی فوری اجازت دینے سے انکار، کہا 'یہ صحیح وقت نہیں'

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سپریم کورٹ نے جمعرات کو وارانسی کی گیان واپی مسجد کے سیل شدہ حصے میں شراون کے مہینے کے دوران ہندو عقیدت مندوں کو مذہبی رسومات ادا کرنے کی فوری اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ "یہ صحیح وقت نہیں، کچھ وقت انتظار کریں۔”

چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت، جسٹس جویمالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے ہندو فریق کے وکیل وشنو شنکر جین کی جانب سے دائر عبوری درخواست پر سماعت کرتے ہوئے یہ ریمارکس دیے۔ عدالت نے معاملے کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی، جبکہ شراون کا مہینہ 30 جولائی سے شروع ہو رہا ہے۔

درخواست میں لکشمی دیوی اور دیگر ہندو درخواست گزاروں نے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں سیل شدہ مقام پر پوجا، درشن، جل ابھیشیک اور دیگر مذہبی رسومات ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔ ان کا مؤقف تھا کہ وہ عدالت کی جانب سے عائد کی جانے والی تمام سیکیورٹی اور انتظامی شرائط پر عمل کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ مسجد کے وضوخانے میں موجود متنازع ڈھانچہ شیولنگ ہے، جبکہ انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی کا کہنا ہے کہ یہ وضوخانے کے فوارے کا حصہ ہے۔

واضح رہے کہ ہندو عقیدت مند پہلے ہی 2024 کے عدالتی حکم کے تحت گیان واپی کمپلیکس کے جنوبی تہہ خانے میں عبادت کر رہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے مئی 2022 میں سروے کے بعد متنازع مقام کو محفوظ رکھنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے اس دوران مسلمانوں کو مسجد کے باقی حصے میں نماز جاری رکھنے کی اجازت دی، جبکہ متنازع علاقے کو سیل رکھنے کا فیصلہ برقرار رکھا۔

گیان واپی تنازع کئی مقدمات پر مشتمل ہے، جن میں ہندو فریق مسجد کے مختلف حصوں میں عبادت کے حق اور آثارِ قدیمہ کے سروے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ مسجد کمیٹی Places of Worship (Special Provisions) Act, 1991 کے تحت مسجد کے تحفظ کا مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے۔

سپریم کورٹ اس وقت الہ آباد ہائی کورٹ کے اس حکم کے خلاف مسجد کمیٹی کی اپیل پر بھی سماعت کر رہی ہے، جس میں سیل شدہ حصے کا آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) سے سائنسی سروے کرانے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس حکم پر سپریم کورٹ کی عبوری روک اب بھی برقرار ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button