ہریدوار: گنگا میں کپڑے دھونے پر مسلم خاتون کو ہندوتوا کارکن نے ہراساں کیا، ویڈیو وائرل
اگر مسئلہ صفائی کا تھا تو صرف مسلم خاتون کو ہی کیوں نشانہ بنایا گیا۔
ہریدوار:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اتراکھنڈ کے شہر ہریدوار میں ایک مسلم خاتون کو دریائے گنگا میں کپڑے دھونے کے الزام میں ایک ہندوتوا کارکن کی جانب سے ہراساں کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک مقامی ہندوتوا کارکن اور اس کا ساتھی ایک مسلم خاتون کو روک کر اسے ڈانٹتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ اسے پہلے بھی گنگا میں کپڑے دھونے سے منع کیا گیا تھا۔ کارکن خاتون پر یہ الزام بھی عائد کرتا ہے کہ "ایسے لوگ” علاقے کو خراب کر رہے ہیں اور عقیدت مندوں کی چیزیں چوری کرتے ہیں۔
تاہم ویڈیو میں پس منظر میں کئی دیگر افراد کو بھی گنگا کے پانی میں کپڑے دھوتے اور نچوڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، لیکن ان پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔ اسی پہلو نے سوشل میڈیا پر تنازع کو مزید بڑھا دیا ہے اور متعدد صارفین نے اسے مذہبی بنیادوں پر امتیازی سلوک قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر مسئلہ صفائی کا تھا تو صرف مسلم خاتون کو ہی کیوں نشانہ بنایا گیا۔ بعض افراد نے اس واقعے کو مذہبی تعصب کی ایک اور مثال قرار دیا۔
In the sacred city of Haridwar, a Muslim woman was repeatedly warned yet continued washing her clothes in the holy Ganga river right at the ghat.
This is the bigger pattern we see everywhere why do people who do not believe in Hindu gods and goddesses keep forcing their way into… pic.twitter.com/IVfrVQxdbB
— VARAHA WARRIOR (@VarahaWarrior) July 1, 2026
واضح رہے کہ ہندو مذہب میں دریائے گنگا کو مقدس مانا جاتا ہے اور اس کے تقدس کے حوالے سے ماضی میں بھی کئی تنازعات سامنے آ چکے ہیں۔ مارچ میں رمضان کے دوران گنگا میں کشتی پر غیر سبزی خور کھانا کھانے کے معاملے میں مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ حالیہ دنوں میں وارانسی میں اسی نوعیت کے ایک دوسرے واقعے میں ملزمان کو چند گھنٹوں میں ضمانت مل گئی تھی۔



