امراض قلب ، دل کی بیماریاں -ڈاکٹر قرۃ العین فاطمہ عثمان دہلی
دل کی بیماری کی علامات، ہارٹ اٹیک کی وجوہات اور امراض قلب کا علاج
امراض قلب کیا ہیں؟ دل کی بیماریوں کی اقسام، علامات، علاج اور احتیاطی تدابیر
دل کی بیماریاں کیا ہیں؟
دل انسانی جسم کا ایک نہایت اہم عضو ہے جو مسلسل خون کو پورے جسم میں پمپ کرتا رہتا ہے۔ جسم کے ہر خلیے تک آکسیجن اور غذائی اجزاء کی فراہمی دل کے ذریعے ہی ممکن ہوتی ہے۔ جب دل، اس کے پٹھوں، والوز، خون کی شریانوں یا برقی نظام میں کسی قسم کی خرابی پیدا ہو جائے تو اسے دل کی بیماری یا امراض قلب کہا جاتا ہے۔
آج دنیا بھر میں امراض قلب اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں شمار ہوتے ہیں۔ جدید طرزِ زندگی، غیر متوازن خوراک، ذہنی دباؤ، تمباکو نوشی، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی نے دل کی بیماریوں کے خطرات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
دل کی بعض بیماریاں پیدائشی ہوتی ہیں جبکہ کئی بیماریاں وقت گزرنے کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ بہت سی قلبی بیماریوں کو صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرکے روکا جا سکتا ہے۔
امراض قلب کی اقسام
دل کی بیماریوں کی متعدد اقسام ہیں اور ہر بیماری دل اور خون کی شریانوں کو مختلف انداز میں متاثر کرتی ہے۔ بعض بیماریاں معمولی نوعیت کی ہوتی ہیں جبکہ بعض جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔
پیدائشی دل کی خرابیاں
پیدائشی دل کی خرابی وہ مسئلہ ہے جو بچے میں پیدائش کے وقت موجود ہو۔ یہ خرابی دل کے ڈھانچے، والوز یا خون کی بڑی شریانوں میں ہو سکتی ہے۔
بعض بچوں میں دل کے خانوں کے درمیان سوراخ موجود ہوتا ہے جبکہ کچھ بچوں میں دل کے والوز مکمل طور پر نہیں کھلتے یا درست طریقے سے بند نہیں ہوتے۔ بعض صورتوں میں خون کا بہاؤ غیر معمولی ہو جاتا ہے جس سے جسم کو مطلوبہ مقدار میں آکسیجن نہیں مل پاتی۔
پیدائشی دل کی خرابیوں کی شدت مختلف ہو سکتی ہے۔ کچھ بچوں کو فوری سرجری کی ضرورت پڑتی ہے جبکہ بعض معمولی خرابیاں عمر کے ساتھ خود بھی بہتر ہو سکتی ہیں۔
کورونری دمنی کی بیماری
کورونری دمنی کی بیماری دنیا بھر میں دل کی بیماری کی سب سے عام قسم سمجھی جاتی ہے۔
دل کو خون فراہم کرنے والی شریانوں کو کورونری شریانیں کہا جاتا ہے۔ جب ان شریانوں کی دیواروں میں کولیسٹرول، چکنائی اور دیگر مضر مادے جمع ہونے لگتے ہیں تو پلاک بنتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ پلاک شریانوں کو تنگ اور سخت کر دیتا ہے۔
اس کے نتیجے میں دل کو آکسیجن اور غذائی اجزاء کی فراہمی کم ہو جاتی ہے۔ مریض کو سینے میں درد، سانس پھولنے اور کمزوری کی شکایت ہو سکتی ہے۔ اگر شریان مکمل طور پر بند ہو جائے تو ہارٹ اٹیک واقع ہو سکتا ہے۔
والو کی بیماریاں
دل میں چار اہم والوز ہوتے ہیں جو خون کو درست سمت میں بہنے دیتے ہیں۔
اگر کوئی والو تنگ ہو جائے، مکمل طور پر بند نہ ہو یا خون کو واپس بہنے دے تو دل کو معمول سے زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔ طویل عرصے تک یہ مسئلہ برقرار رہے تو دل کمزور ہو سکتا ہے اور دل کی ناکامی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
اریٹھیمیا
دل کی دھڑکن کا بے قاعدہ ہونا اریٹھیمیا کہلاتا ہے۔
اس بیماری میں دل بہت تیز، بہت سست یا غیر معمولی انداز میں دھڑک سکتا ہے۔ بعض مریض دل کی دھڑکن کا اچانک تیز ہونا یا سینے میں پھڑپھڑاہٹ محسوس کرتے ہیں۔
شدید اریٹھیمیا خون کے بہاؤ کو متاثر کر سکتی ہے اور بعض صورتوں میں فالج یا اچانک موت کا سبب بن سکتی ہے۔
اینڈوکارڈائٹس
اینڈوکارڈائٹس دل کے اندرونی حصے یا دل کے والوز کی سوزش ہے۔
یہ عموماً بیکٹیریا یا فنگس کے انفیکشن کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ جراثیم خون کے ذریعے دل تک پہنچتے ہیں اور وہاں انفیکشن پیدا کر دیتے ہیں۔
بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ بیماری دل کے مستقل نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
کارڈیو مایوپیتھی
کارڈیو مایوپیتھی دل کے پٹھوں کی بیماری ہے۔
اس میں دل کے پٹھے پھیل سکتے ہیں، موٹے ہو سکتے ہیں یا سخت ہو سکتے ہیں۔ اس تبدیلی کے باعث دل کی خون پمپ کرنے کی صلاحیت متاثر ہو جاتی ہے۔
مریض کو سانس پھولنے، تھکن، ٹانگوں میں سوجن اور دل کی بے قاعدہ دھڑکن کی شکایت ہو سکتی ہے۔
مایوکارڈیل انفکشن (ہارٹ اٹیک)
ہارٹ اٹیک اس وقت ہوتا ہے جب دل کے کسی حصے تک خون کی فراہمی اچانک بند ہو جائے۔
خون کی فراہمی رکنے سے دل کے پٹھے نقصان کا شکار ہو جاتے ہیں اور بعض حصے مستقل طور پر تباہ بھی ہو سکتے ہیں۔
ہارٹ اٹیک ایک طبی ہنگامی صورتحال ہے جس میں فوری علاج زندگی بچانے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
ہائپر ٹرافک کارڈیو مایوپیتھی
یہ عموماً موروثی بیماری ہے جس میں دل کے پٹھوں کی دیواریں غیر معمولی طور پر موٹی ہو جاتی ہیں۔
دیواروں کے موٹے ہونے سے دل کی خون لینے اور پمپ کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ کئی مریضوں میں اس بیماری کی کوئی واضح علامت موجود نہیں ہوتی جس کی وجہ سے تشخیص میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
مائٹرل والو ریگریجٹیشن
اس بیماری میں مائٹرل والو مضبوطی سے بند نہیں ہوتا اور خون واپس دل کے اندر بہنے لگتا ہے۔
اس اضافی دباؤ کی وجہ سے وقت کے ساتھ دل کمزور ہو سکتا ہے اور ہارٹ فیل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
دل کی بیماری کی علامات
دل کی بیماریوں کی علامات بیماری کی نوعیت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں، تاہم درج ذیل علامات امراض قلب کی جانب اشارہ کر سکتی ہیں:
- سینے میں درد یا جکڑن
- سینے پر دباؤ یا بھاری پن
- سانس لینے میں دشواری
- دل کی بے قاعدہ دھڑکن
- شدید تھکاوٹ
- چکر آنا
- سر درد
- بازو، گردن یا جبڑے میں درد
- کمر یا ٹانگوں میں درد
- متلی اور قے
- بے چینی
- زیادہ پسینہ آنا
- پیروں اور ٹخنوں میں سوجن
- بے ہوشی
بچوں میں جلد یا ہونٹوں کا نیلا پڑ جانا، دودھ پینے میں دشواری اور جسمانی نشوونما میں کمی پیدائشی دل کی بیماری کی علامات ہو سکتی ہیں۔
دل کی بیماری کی وجوہات
امراض قلب کے پیدا ہونے میں متعدد عوامل کردار ادا کرتے ہیں جن میں تمباکو نوشی، موٹاپا، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، کولیسٹرول کی زیادتی، ذہنی دباؤ، جسمانی سرگرمیوں کی کمی، غیر متوازن غذا، نیند کی کمی اور موروثی عوامل شامل ہیں۔
دل کی بیماری کا علاج
علاج بیماری کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے۔ عام طور پر طرزِ زندگی میں تبدیلی، ادویات، انجیو پلاسٹی، اسٹنٹ، بائی پاس سرجری اور والو کی مرمت یا تبدیلی جیسے طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔
دل کی بیماری سے بچاؤ
- متوازن غذا استعمال کریں۔
- روزانہ ورزش کریں۔
- تمباکو نوشی ترک کریں۔
- بلڈ پریشر اور شوگر کو قابو میں رکھیں۔
- کولیسٹرول کی سطح چیک کرواتے رہیں۔
- مناسب نیند لیں۔
- ذہنی دباؤ کم کریں۔
- باقاعدگی سے طبی معائنہ کروائیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا دل کی بیماری مکمل طور پر ٹھیک ہو سکتی ہے؟
بعض دل کی بیماریاں علاج سے کافی حد تک قابو میں آ جاتی ہیں جبکہ بعض کے لیے طویل مدتی نگہداشت ضروری ہوتی ہے۔
دل کے دورے کی سب سے عام علامت کیا ہے؟
سینے میں شدید درد یا دباؤ ہارٹ اٹیک کی سب سے عام علامت سمجھی جاتی ہے۔
کیا نوجوان بھی دل کی بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں؟
جی ہاں، غیر صحت مند طرزِ زندگی، موٹاپا، تمباکو نوشی اور موروثی عوامل نوجوانوں میں بھی دل کی بیماری پیدا کر سکتے ہیں۔
نتیجہ
امراض قلب دنیا بھر میں صحت کے بڑے مسائل میں شامل ہیں۔ بروقت تشخیص، مناسب علاج، متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرکے دل کی بیماریوں کے خطرات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ دل کی صحت کا خیال رکھنا صرف بیماری سے بچاؤ ہی نہیں بلکہ ایک طویل، فعال اور بہتر زندگی کی ضمانت بھی ہے۔
ڈسکلیمر: یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے۔ کسی بھی طبی مسئلے یا علاج کے لیے مستند معالج یا ماہر امراض قلب سے مشورہ ضرور کریں۔



